Ch Farrukh Shahzad, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
27 مارچ 2021 (11:19) 2021-03-27

انسانی جسم میں بے ضابطگی کسی ایک جگہ ہوتی ہے مگر اس کے مضر نتائج کسی اور جگہ سے برآمد ہوتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ خون میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھ جائے تو درد گھٹنوں میں ہوتا ہے یہی حال سیاست کا ہے کہ کوئی واقعہ کہیں ہوتا ہے مگر اس کا ردعمل کہیں اور سے برآمد ہوتا ہے۔ بین الاقوامی سیاست اور سفارتکاری میں اس اصول کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ 

آپ نے دیکھا ہو گا کہ گزشتہ سال لداخ میں چینی فوج کے ہاتھوں 40سے زیادہ انڈین فوجیوں جن میں ایک میجر بھی شامل تھا کہ ہلاکت کے بعد دو طرفہ معاملات ظاہری طور پر تو نارمل ہو گئے تھے مگر انڈیا کے لیے یہ وہ یورک ایسڈ تھا جس کی زیادتی سے گھٹنوں کا درد امریکہ میں زیادہ محسوس کیا گیا کیونکہ اس واقعہ سے امریکہ کی تشویش یہ تھی کہ چائنا کی بڑھتی ہوئی طاقت کو محدود کرنا ناگزیر ہے۔ انڈیا نے اپنے 40 فوجی مروا کر جس طرح دو اچھے بچے لڑتے نہیں‘‘ کا مظاہرہ کیا وہ امریکہ کے لیے مزید Annoying تھا کیونکہ امریکی یہ سمجھتے تھے کہ چائنہ کو اگر اور کوئی نہیں روکے گا تو پھر مجبوراً ہمیں کوئی قدم اٹھانا پڑے گا تا کہ خطے میں چینی بالادستی کا سدباب کیا جا سکے۔ 

اس سدباب کا آغاز ہو چکا ہے امریکہ نے انڈیا جاپان آسٹریلیا جیسے تین ممالک کو ساتھ ملا کر ایک 4 ملکی الائنس Quad کے نام سے تشکیل دے دیا ہے جس کا مطلب 4 فریقی ہے اس گروپ کے بظاہر مقاصد اور مینڈیٹ تو میری ٹائم سکیورٹی سے متعلق ہیں لیکن دراصل یہ نیا اتحاد چائنا کے سامنے ایسی دیوار کھڑی کرنا ہے جو امریکہ کے مطابق ناقابل عبور ہو۔ امریکہ کی مجبوری یہ ہے کہ اس کی جغرافیائی حدود کہیں دور دراز تک بھی چائنا سے نہیں ملتیں جس سے جنگ کا جواز پیدا کیا جا سکے ویسے یہ الگ بات ہے کہ امریکہ کے لیے کسی ملک سے جنگ مول لینے کے لیے جغرافیائی حدود لازمی شرط نہیں پھر بھی امریکہ نے ایک عرصے سے یہ طے کر رکھا ہے کہ چائنا کا توڑ تلاش کرنے کے لیے انڈیا کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے اقوام متحدہ کے اندر ایک سوفٹ لانچنگ کی گئی ہے کہ انڈیا کو بھی سپر پاور کلب میں شامل کر کے ویٹو کا اختیار ہونا چاہیے یہ Debate پاکستان سے زیادہ چائنا کے لیے باعث تشویش ہے لیکن ابھی تک دور دور تک اس کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ 

Quad کے چار فریقی مقاصد کی توسیع کے لیے امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ چائنا کے خلاف انڈیا کو فری فیلڈ دینے کے لیے پاکستان خواہ مخواہ بیچ میں آجاتا ہے جس سے انڈیا کی توجہ دو حصوں میں بٹ جاتی ہے اس لیے اس کا حل یہ سوچا گیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں درجۂ حرارت کو نیچے لایا جائے یہ تعلقات 2008ء کے ممبئی حملوں سے لے کر اب تک کشیدہ ہیں اور مذاکرات کا عمل ڈیڈ لاک کا شکار ہے۔

یہاں پر ایک بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ شاید واحد امریکی صدر تھے جن کے دور میں کسی نئی جنگ کا آغاز نہیں کیا گیا یعنی امریکہ نے کسی نئے ملک پر حملہ نہیں کیا کیونکہ وہ کہتے تھے جن کے دور میں کسی نئی جنگ کا آغاز نہیں کیا گیا یعنی امریکہ نے کسی نئے ملک پر حملہ نہیں کیا کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ہمیں اپنے گھر پر توجہ دینی چاہیے جس کے لیے انہوں نے طالبان جیسی قوت کے ساتھ مذاکرات کیے اور افغانستان سے انخلا  کی تاریخ کا بھی اعلان کر دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ یہ سمجھتے رہے کہ اس اقدام سے وہ دوبارہ امریکی صدارت حاصل کر لیں گے مگر یہی بات جسے وہ اپنی طاقت سمجھتے تھے ان کی شکست کا سبب بن گئی کیونکہ پینٹاگون کو اس پر اعتراض تھا آخر فوجی فوجی ہوتا ہے چاہے پاکستان کا ہو یا امریکہ کا یا کسی بھی ملک کا بے شک میانمار کا ہی ہو۔ 

موجودہ صدر جوبائیڈن کی گزشتہ 40 سال کی CV اٹھا کر دیکھ لیں اس نے دنیا کی ہر جنگ کی حمایت کی ہے اور ڈونالڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس سے رخصتی کے ساتھ ہی امریکہ کا فائٹر امیج آہستہ آہستہ پھر نمودار ہو رہا ہے۔ بائیڈن چائنا کے ساتھ نپٹنے کا سوچ رہے ہیں ساتھ ہی انہوں نے افغانستان سے انخلا  کو مؤخر کرنے کا اشارہ دے دیا ہے اور مشرقی وسطیٰ میں جاری پالیسیوں کا ازسر نو جائزہ لے کر وہاں بھی پرانا Status بحال کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ 

بڑے واقعات سے نپٹنے کے لیے چھوٹے واقعات کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے یا انہیں معرض التوا میں ڈالا جاتا ہے کہ فارغ ہو کر اس پر توجہ دی جائے گی ۔ امریکی حکومت نے چائنا کے مقابلے میں پاکستان کو چھوٹا معاملہ قرار دے کر عارضی بندوبست کے تحت یہ سوچا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی میں کمی کی جائے تا کہ انڈیا کا ویسٹرن بارڈر محفوظ ہو جائے جو پاکستان کے ساتھ ہے کیونکہ اصل توجہ چائنا پر ہے جس دن انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے 23 مارچ کو پاکستان کو مبارکباد اور نیک خواہشات کا پیغام بھیجا اس دن امریکی صدر کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے لائیڈ آسٹن 2 روزہ دورے پر دہلی میں تھے واقعات کی مزید کڑیاں آپ خود ملا سکتے ہیں۔ 

انڈیا کا آئین نریندر مودی کو تیسری بار وزیراعظم بننے سے نہیں روکتا۔ 2009ء اور 2014ء کے دونوں الیکشن مودی نے پاکستان دشمنی کے انتخابی مینڈیٹ کے بل بوتے پر جیتے ہیں لیکن 2024ء کا الیکشن اس لحاظ سے مختلف ہو گا کہ اس میں مودی جی امن کی آشا کی بات کریں گے اور ہو سکتا ہے وہ پھر جیت جائیں ۔ 

لیکن معاملہ مودی کے الیکشن کا نہیں یہاں اس وقت انڈیا اور پاکستان کو انگیج کرنے کی بات ہو رہی ہے جس کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ ساری رسیاں امریکہ سے کھینچی جا رہی ہیں۔ کوئی دیکھے نہ دیکھے کشمیر تو دیکھے گا۔ اس میں خدشات یہ ہیں کہ کشمیر کے ساتھ کوئی ہاتھ نہ ہوجائے۔ اس سے پہلے تناؤ میں کمی کے نام پر پاکستان کے ساتھ دھوکہ ہو چکا ہے کہ جب سرحد پر باڑ لگا کر انڈیا نے اپنے لیے دراندازی کا راستہ بند کر لیا لیکن اس کے بعد انہوں نے کشمیر پر سیاسی وار کیا اور اسے زبردستی انڈیا میں شامل کر لیا۔ اب آپ دیکھیں گے کہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات میں کمی آجائے گی اعتماد میں بحالی کے کاسمیٹک نوعیت کے اقدامات ہوں گے جس میں ثقافتی وفودکا تبادلہ ہو گا سارک اعلیٰ سطح اجلاس شروع ہو جائیں گے اور ایک ایسا وقت لایا جائے گا جب انڈیا اور پاکستان کی کرکٹ بھی بحال کر دی جائے گی۔ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کیے بغیر باقی سب ہو جائے گا یہ ہم اپنے اندازے سے بائیڈن حکومت کے اگلے 4 سال کا نقشہ کھینچ رہے ہیں مگر کشمیر پر کوئی بریک تھرو کی امید نہ رکھی جائے۔ 

ہمارے پیارے دوست اور کولیگ محترم زاہد رفیق صاحب ہمالیہ اور کے ٹو کی چوٹیوں پر پگھلنے والی برف سے لطف اندوز ہوتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ برف پگھلنے کا یہ عمل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فرمائش پر شروع ہوا ہے مگر بصد احترام مجھے ان سے اتفاق نہیں ہے البتہ اتنا ہو سکتا ہے کہ امریکہ کی بیک چینل سفارتکاری میں پیغام رسانی کی حد تک سعودیہ کو خدمت کا موقع دیا گیا ہو مگر initiativeکی اساس امریکہ ہی ہے ورنہ سعودی عرب نے تو آج تک کشمیر کی آئینی حیثیت کے ناجائز خاتمے پر پاکستان کے اصرار کے باوجود او آئی سی کا سربراہی اجلاس بلانے کی نا صرف مخالفت کی بلکہ متحدہ عرب امارات کے ذریعے اسلام آباد آ کر پیغام دیا گیا کہ پاکستان اپنے سیاسی مسائل کو ہندو مسلم مسئلہ نہ بنائے۔ 


ای پیپر