Hameed Ullah Bhatti, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
27 مارچ 2021 (11:16) 2021-03-27

موجودہ صدی نت نئی ایجادات کی ہے لیکن پاکستان جیسے کئی ترقی پذیر ممالک کا المیہ ہے کہ وہ آج بھی راہوں کے تعین میں مخمصے کا شکار ہیں کوئی پارلیمانی جمہوریت کو مسائل کاحل سمجھتاہے تو کسی کو صدارتی نظام میں عافیت نظرآتی ہے اور کچھ چین کی طرح یک جماعتی نظام کوترقی کیلئے لازم تصور کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ چین اور مغربی ممالک کی تیزرفتار ترقی کاراز کسی نقل کی مرہونِ منت نہیں بلکہ انہوں نے جسے بہترجانا اُسے نا صرف دل کی گہرائیوں سے قبول کیا بلکہ نافذ کرنے میں بھی کوتاہی نہیں کی الگ الگ نظام کے باوجود ترقی کی منازل طے کر رہے ہیںتجارتی حریف ہونے کے باوجود شراکت داری سے پہلوتہی نہیں کرتے کیونکہ قیادت کی نظر اجتماعی مفاد پر ہے انفرادی نفع پر نہیں اگر کہیں کوتاہی ہوتی ہے یا عوامی مفاد کو زک پہنچتی ہے تو اذالا بھی ہوتاہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور پاکستان جو ایک نظریاتی اسلامی مملکت ہے پھر بھی فکری انتشار کا شکارہے جوغیر فطری محسوس ہوتا ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نقل کرنے کے لیے کسی کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنی انفرادی واجتماعی خامیاں و کوتاہیاں دور کی جاتیںاور من حیث القوم اسلام کو مکمل ضابطہ حیات کے طور پر اپناتے مگر چوہتر برس کے بعد بھی قیادت اسلام کے نفاذمیں تذبذب کا شکار ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ اردو کوبطور قومی زبان مکمل حقوق نہیں مل سکے علاقائی اورلسانی تعصبات فروغ پارہے ہیں جن کی وجوہات جاننا مشکل نہیں صرف نظامِ تعلیم کو ہی لے لیں پانچ قسم کا تعلیمی نظام رائج ہے کہیں دینی تعلیم پر زور ہے تو کوئی اے لیول اور اولیول پر فریفتہ ہے نجی اور سرکاری تعلیمی نظام میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے جس سے فکری انتشار کی نمو ہوتی ہے ہمیں مان لینا چاہیے کہ کرنے والے کام نہ کرنے کی پاداش میں ملک مسائل کی گرداب میں دھنس رہا ہے اور اربابِ اختیار حقوق دینے میں کوتاہی کے مرتکب ہیں اسی بنا پر رگیدنے اور بالاتر ہونے کی کھینچاتانی عروج پر ہے آج بھی پارلیمانی جمہوریت ،صدارتی نظام اور آمریت کے حمایتی باہم برسرِ پیکار ہیں جسے جس میں مفاد نظر آتاہے وہ اُسے ہی ملک کی بقاو مضبوطی کے لیے لازم قراردینے لگتا ہے ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ جب تک شخصی مفاد سے بالاتر ہوکر اجتماعی مفاد کو اہمیت نہیں دیں گے تب تک مسائل کا لاواسلگتا اوربہتارہے گا ۔

ریاستوں کی بقاکے لیے دفاعی اِدارے ناگزیر ہیں لیکن ریاستوں کی بقا کے لیے دیگر عناصر بھی کم اہمیت کے حامل نہیں جنہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے روس جیسی دنیا کی سُپر طاقت نے قوت کاراز عسکری مضبوطی کو سمجھ لیا جوہری و غیر جوہری ہتھیاروں کے انبار کا بڑا زخیرہ جمع کر لیا مگر معیشت بہتر بنانے اورعوامی مسائل حل کرنے پرتوجہ دینے میں کوتاہی کا ارتکاب کیا تو گرتے ہوئے ریت کے گھروندے سے بھی کمزور ثابت ہوئی اِس لیے ہمیں مان لینا چاہیے کہ دفاع کو مضبوط بنانے کے ساتھ کرنے والے کچھ اور کام بھی ہیں اِس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کو ایک بڑے دشمن کا سامنا ہے جو موقع کی تاک میں رہتا ہے اگر اِدارے سیاستدانوں کو تابع فرمان بنانے کے بجائے دشمن کی چالیں ناکام بنانے پر دھیان دیتے تو افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے سے روکنے کی التجائیں نہ کرنا پڑتیں اسی مداخلت کی بناپر کئی دہائیوں سے انتخابات کی شفافیت پر سوال اُٹھ رہے ہیں مگر جب سیمنٹ، دودھ، دلیے سمیت ڈی ایچ اے کی صورت میں اِدارے تجارت کرنے 

لگیں تونا صرف سازشی عناصر کو اُنگلی اُٹھانے کے مواقع ملتے ہیں بلکہ فرائض سے کوتاہی و غفلت کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے تو کیا بہتر نہیں کہ تجارت کے بجائے دفاع پر ہی توجہ مرکوز کی جائے کیونکہ گلی محلے کی تجاوزات ہوں یا اِداروں کی فرائض سے، سبھی غلط ہیں اِدارے اپنا کام کریں اور سیاستدان اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تبھی ملک میں استحکام آئے گا موجودہ بدحالی پالیسیوں کے عدم تسلسل کی مرہونِ منت ہے پھر بھی جو لوگ تجاوزات کو سراہتے ہیں اُن کا اپناکوئی مفاد ہو سکتا ہے وہ اِداروں کے بہی خواہ نہیں ہو سکتے۔

کسی پر حب الوطنی ٹھونسی نہیں جا سکتی بلکہ ایسے کام کرنا ضروری ہے جن سے ریاست پر قوم کا اعتماد بڑھے ریاستیں فلاح و بہبود کی سرگرمیوں سے عوام کادل جیتنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن چوہتر برس میں ہم اِتنا بھی ادراک نہیں کر سکے کہ جبر و قہر اور محرومیاں سرکشی کو جنم دیتی ہیں سماجی و معاشی مساوات کے بجائے تفاوت غم وغصے کا باعث بنتی ہے آج صورتحال یہ ہے کہ سیاستدان بمقابلہ اِدارے ہیں کسی کو اِداروں کی نفرین کا سامنا ہے اور کوئی درجہ محبوبیت پر فائز ہے اسی بنا پر دشنام طرازی کی ایسی جنگ جاری ہے جس کے فوری خاتمے کے آثار معدوم ہیں حالانکہ محاذآرائی میں ترقی پنہاں نہیں بلکہ آگے بڑھنا ہے توافہام وتفہیم کی روش کو اپنانا ہوگا اپنے سوا سب کو رگیدنے اور غدار کہنے سے ملک کا نہیں دشمن کا ہی بھلا ہو سکتا ہے جس کا شاید کسی کو احساس نہیں کیونکہ سبھی اپنے اپنے مفاد کے اسیر ہیں اور زبردستی سب پر اپنا موقف ٹھونسنا چاہتے ہیں یہ سوچ یا رویہ جمہوری آداب کے منافی ہے اور اسی بنا پر مرکز گریز قوتوں کو تقویت مل رہی ہے ملک میں آج بھی مقتدرہ کی سیاست سے بے دخلی اور پارلیمان کی حاکمیت کی جنگ جاری ہے خود اچھے بننے کے بجائے دوسروں کو اچھے بچے بنانے کے چکر میں ملک سے بدظن کیا جا رہا ہے اگر سیاستدان اور اِدارے اپنی حدود و قیود کی پاسداری کریں تو ملک کے طول و عرض میں پھیلی زہر ناکی کم ہو سکتی ہے اور فکری انتشار میں کمی کے ساتھ کسی ایک سوچ پر اتفاق کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ اپنے رعب و دبدبے کے لیے عوامی مفاد پس پشت ڈالنے کی بنا پر ہمارا رویہ ملک کو کمزور بنانے کا باعث ہے جس سے قوم کا بھلا نہیں بلکہ دشمن کا کام ہی آسان ہو سکتا ہے۔

اِداروں کو پس منظر میںرہ کر کام کرنا پڑتا ہے جبکہ سویلین قیادت کے پاس اپنی بات عوام تک پہنچانے کے لیے ذرائع ابلاغ، جلسے و جلوسوں کی صورت میں بہت طریقے ہوتے ہیں جس کا عشر عشیر بھی اِداروں کے پاس نہیں ہوتا لیکن اِداروں کے پاس پسندیدہ چہروں کی رونمائی کے لیے بھی کافی وسائل ہوتے ہیں جن سے کام لے کر غیر معروف شخصیات کو قبولِ عام بنایا جاتا ہے اور پھر اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی جاتی ہے ہمیں مان لینا چاہیے کہ اصغر خاں کیس میں اِداروں کی کارگزاری بے نقاب ہو چکی ہے مگر سبق حاصل نہیں کیا جا رہا آج بھی اُٹھتی اُنگلیاں اِس امر کی غماز ہیںکہ آج بھی تعریف پر حامی و محب الوطن اور تنقید کرنے والے کو مخالف و غدارکہا جاتا ہے چاہے تنقید تعمیری ہی کیوں نہ ہو۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِدارے اپنی توجہ بڑے دشمن کے ناپاک اِرادوں کو ناکام بنانے کی طرف مبذول کریں جو کشمیر کو ہڑپ کرنے کے بعد پراکسی وار سے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے اگر اب بھی کوتاہی کی جاتی ہے اور خامیاں دور نہیں کی جاتیں تو ہمیں مان لینا چاہیے کہ آنے والی نسلیں ہمیں اچھے الفاظ سے یاد نہیں کریں گی کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمیںغیر ذمہ دار اور لاپروا کہا جائے؟ راست گو اور فرض شناس کے بجائے خائن اور مفاد پرست کا لقب دیا جائے؟ اگر ہم ایسا نہیں چاہتے تو ہمیں غلطیاں و کوتاہیاں دور کرتے ہوئے فرائض تک محدود رہنا ہو گا۔


ای پیپر