Iftikhar Hussain Shah, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
27 مارچ 2021 (11:12) 2021-03-27

میں نے ایک طویل عرصہ سرکاری نوکری میں گزارا ہے ۔ مختلف محکموں اور کئی اقسام کی پوسٹوں پر کام کیا ہے۔ آپ یقین کریں مجھے کسی سرکاری محکمہ اور کسی پوسٹ پر بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ یہ سب کچھ عوام کو سہولت دینے کے لیے ہے۔ ہاں عوام کو اکثر وبیشتر سرکاری محکموں کے ہاتھوں پریشان اور ان کی تذلیل ہوتے دیکھی ہے۔ آج میں آپ کو ایک واقعہ سنانے لگا ہوں جس سے آپ کو حکومتی اداروں کے جذبہء خدمت عوام کی شکل واضح ہو جائیگی۔ میں 2008 ء میں بطور ڈی سی او(DCO ) ضلع رحیم یار خان فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ پنجاب کے دوسرے اضلاع کی نسبت رحیم یار خان میں گرمی بہت پڑتی ہے۔ رحیم یار خان کے لوگ کہا کرتے تھے کہ ہم تو چھتوں پر پرنالے بھی نہیں بنواتے کیونکہ بارش تو یہاں ہوتی نہیں تو پرنالوں کا تکلف کس لیے۔ خیر گرمی کے مہینے شروع ہو چکے تھے۔ گرمی کے ساتھ ساتھ لو ڈ شیڈنگ بھی زوروں پر تھی۔ عوام کا بُرا حال تھا۔ زندگی مشکل ہو چکی تھی، لیکن اس ملک کے حکمران طبقہ کی زندگی اور رہنا سہنا عوام جیسا تھوڑی ہوتا ہے۔ ڈی سی او ہاؤس کے ایک کمرہ میں ڈیزل پر چلنے والا ایک بہت بڑا جنریٹر (Generator) نصب تھا۔ جونہی بجلی جاتی وہ چل پڑتا تھا۔ جیسا کہ اکثر ہوتا ہے یہ ڈی سی او ہاوس بھی ایک وسیع و عریض رقبہ پر مشتمل تھا۔ اس ہاؤس کے ساتھ پندرہ سولہ سرونٹ کوارٹرز بھی قائم تھے جس میں ڈی سی او ہاؤس کے مختلف ملازمین اور ان کی فیملیز رہائش پذیر تھیں۔ جب بجلی چلی جاتی تھی تو ڈی سی ہائوس والے جنریٹر کی بجلی انہیں بھی مہیا ہو جاتی تھی لیکن پورے ضلع میں عوام کا بُرا حال تھا۔ انہی دنوں میری ایک میٹنگ گوٹھ ماچھی، تحصیل صادق آباد میں واقع فوجی فرٹیلائزر کمپنی (FFC) کے افسران سے ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ اُن کے دفاتر اور کمیٹی روم کا ماحو ل انتہائی گرمی کے موسم میں بھی یخ بستہ تھا۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ہم واپڈا (WAPDA) سے کوئی بجلی نہیں لیتے اور ہماری کمپنی اپنے استعمال کے لیے اپنی بجلی خود تیار کرتی ہے۔ انہوں نے مزید 

بتایا کہ ہم ا پنی کالونی میں رہائش پذیر افسران اور ملازمین کو بھی بجلی نہایت کم نرخوں پر سپلائی کرتے ہیں ۔ ہمارے ہاں بجلی کی کوئی لوڈ شیدنگ نہیں ہوتی۔ سچ پوچھیں میں  ان کے نظام سے خاصا متاثر ہوا۔ ساتھ ہی انہوں نے مجھے یہ دعوت بھی دے دی کہ اگر آپ ہمیں واپڈا سے اجازت لے دیں تو ہم پورے صادق آباد شہر کو چوبیس گھنٹے بغیر کسی تعطل اور سستے ریٹس پر بجلی  مہیا کر سکتے ہیں۔ یہ آفر سن کر میں خوب excited ہوا اور اُن کی فراخ دلی سے ممنون بھی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بتایا کہ اس کی اجازت چیئرمین واپڈا سے کم کسی آفیسر کے اختیار میں نہیں ہے۔ دوسرے دن صبح ہی صبح پہلا کام میں نے اس سلسلے میں چیئرمین واپڈا کو خط لکھنے والا کیا۔اس میں میں نے رحیم یار خان کی ناقابل برداشت گرمی اور اس میں جلتی سڑتی مخلوق کا تفصیل سے ذکر کیا۔ساتھ ہی میں نے فوجی فرٹیلائیزر کمپنی(FFC  )کی فراخدلانہ پیشکش کا ذکر کیا۔آخر میں ان سے استدعا کی کہ وہ اجازت فرما دیں کہ تحصیل صادق آباد کے جو لوگ FFC سے بجلی لینا چاہیں انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہو گی۔ اس وقت بھی چیئرمین واپڈا حسب دستور ایک جرنیل ہی تھے۔ چند دنوں بعد ہی مجھے ان کا ایک خط موصول ہوا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ فلاں تاریخ کو آپ میرے دفتر تشریف لائیں تاکہ اس موضوع پر آپ سے بات ہو۔ میں رجائیت کا مارا اس خط کی موصولی پر بہت خوش ہوا اور سمجھا کہ بس اجازت تو اب ایک formality ہی رہ گئی ہے۔ خیر مقررہ تاریخ پر لاہور پہنچا اور دوسرے دن چیئرمین صاحب کے دفتر، واقع واپڈا ہاؤس مال روڈ، طے شدہ ٹائم پر پہنچ گیا۔ جنرل صاحب نے اچھی سی چائے پلائی اور ساتھ ہی مجھے فصیح اور بلیغ لیکچر یہ سمجھانے کے لیے دیا کہ واپڈا نے بڑے بڑے قرض (Loans) لے کر اپنے پراجیکٹس لگائے ہوئے ہیں۔ اگر لوگ اپنے استعمال کی بجلی پرائیویٹ اداروں سے خریدنا شروع ہو جائیں گے تو ہم قرض کی واپسی  کہاں سے کریں گے اور ہمارے اخراجات کہاں سے پورے ہونگے۔ اس لیے واپڈا کسی پرائیویٹ ادارے کو بجلی تیار کر کے لوگوں کو بیچنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ہاں، یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی ادارہ  اپنی تیار شدہ بجلی ہماری شرائط اور ہماری قیمت خرید پر ہمیں دے اور پھر ہم اس پر اپنی مرضی کے مختلف ٹیکسز (taxes) لگا عوام کو بیچیں اور پھر عوام کا خون نچوڑیں۔ اس کے ساتھ ہی جنرل صاحب  نے اپنے سٹاف آفیسر کو بلا کر پوچھاکہ آپ نے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ اور سٹاف کو میرے کل کے دورہ کا بتا دیا تھا۔ میں ان کی شان سے مرعوب ہو کر اپنی کرسی میں sinkکرنے لگا اور یوں یہ میٹنگ  مجھے حیرتوں میں ڈبو کر اختتام پذیر ہو گئی۔ اب ہماری حکومتوں اور اس کے اداروں کا ایک اور واقعہ سنیے۔ اسی شہر لاہور میں ایک ڈویلپر (Developer) گروپ نے تقریباً دس سال پہلے رحمان گارڈنز فیز ٹو کے نام سے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی شیخو پورہ روڈ، نزد فیض پور انٹر چینج بنا دی۔ اپنی اسی سوسائٹی کے رہائشیوں کی سہولت کی خاطر انہوں نے جرمنی سے ایک بجلی پیدا کرنے والا یونٹ امپورٹ کر کے سوسائٹی کے اندر انسٹال (install) کرا دیا۔ اس یونٹ کو لگے آٹھ ساڑھے آٹھ سال ہو گئے ہیں۔ تمام حکومتوں اور اُن کے متعلقہ اداروں کو التجائیں کر کر تھک گئے ہیں کسی نے اس یونٹ کو فعال نہیں ہونے دیا۔ بجلی اس ملک کے ہر شہری کی ضرورت ہے۔ ہر ایک نے اسے خریدنا ہے، اس لیے اسے بیچنے کا حق صرف حکومت اور حکومتی اداروں کو ہے۔ یہ ہر حکومت کے لیے  پیسے اکٹھے کرنے کا ایک ایسا ذریعہ (sourse) ہے جس سے کوئی فرار حاصل نہیں کر سکتا۔ جب حکومت چاہے نیا ٹیکس اس میں شامل کر لے، کس کی مجال ہے جو ادا نہ کرے، ورنہ فوراً بجلی کٹ جائیگی۔ پھر نیا میٹر لگوانے کے الگ پیسے۔ ہماری حکومتیں امراء اور طاقتور لوگوں سے تو ٹیکس اکٹھا کر نہیں سکتیں کیونکہ حکومتیں بھی تو انہی کے بھائی بندوں کی ہوتی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ اب تو  آئی ایم ایف (IMF) بھی اسی شعبہ کو پیسے اکٹھا کرنے کا صحیح ذریعہ سمجھتی ہے، اس لیے اس ملک میں بجلی کے ریٹس اُنہی کی مرضی سے طے ہوتے ہیں۔ آخر میں وزیراعظم عمران خان صاحب  سے استدعا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی نوٹس نہ لے لینا کیونکہ مہنگائی سے پہلے ہی عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔


ای پیپر