”سجن بے پروا“
27 مارچ 2021 2021-03-27

یوں محسوس ہوتا ہے ہمارے عوام کی طرح ہمارے حکمران بھی اِس یقین میں مبتلا ہوچکے ہیں کورونا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، ممکن ہے اُن کے یقین کے پیچھے اُن کی سوچ یہ ہوکہ بے شمار معاملات میں وہ کورونے سے زیادہ خطرناک ہیں، بلکہ خود”کورونے“ ہیں، لہٰذا مہلک ترین عوام اور حکمرانوں کا بے چارہ چھوٹا سا، نظر نہ آنے والا کورونا بھلا کیا بگاڑ سکتا ہے؟ ۔ ہمارے عوام اور حکمرانوں کی جو حالت ہے اُس کے پیش نظر کل ایک دوست نے مجھ سے کہا” مجھے کورونا ہوگیا ہے“، میں نے کہا ”بس کورونے کی اب خیر نہیں ہے“.... چند برس قبل ایک اعلیٰ افسر سے بڑے دِنوں بعد رابطہ ہوا، میں نے حال احوال پوچھا، اُس نے بتایا ”مجھے سانپ نے ڈس لیا تھا“۔ میں نے پوچھا سانپ بچ گیا ؟“....کورونا کی تازہ لہر سے بے شمار لوگ متاثر ہورہے ہیں، دنیا اِس سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات پر غورکرنے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھی ہے، اِدھر ہم منہ جوڑ کر یہ غور کرنے کے لیے بیٹھے ہیں کورونا سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات ہم نے نہ کئے حفاظتی تدابیر اختیار نہ کیں تو زیادہ سے زیادہ ہمارا کیا بگڑ جائے گا؟، ہمارے سامنے روزانہ سینکڑوں لوگ اِس وبائ، آزمائش، بیماری یا عذاب میں مبتلا ہورہے ہیں، بے شمار لوگ موت کے منہ میں جارہے ہیں، ہم یہ سب دیکھ رہے ہیں، اِس کے باوجود اِس سے بچنے کے لیے کسی قسم کی احتیاط کو خاطر میں نہیں لارہے، ہمارے تمام سرکاری ہسپتال کورونا مریضوں سے بھر چکے ہیں، پرائیویٹ ہسپتالوں نے بھی نئے ”گاہک“ پکڑنے اِس لیے چھوڑ دیئے ہیں۔ اُن کے پاس بھی جگہ نہیں بچی،.... دوسری جانب آپ کسی تقریب ، کسی اجتماع میں چلے جائیں، کسی شادی میں چلے جائیں، سڑکوں، گلیوں، محلوں بازاروں میں دیکھ لیں شاید ہی کسی شخص کے چہرے پر ماسک دکھائی دے گا، اگلے روز لاہور میں ایک فارم ہاﺅس پر ایک شادی پر جانے کا مجھے اتفاق ہوا، جاتے ہوئے ایک ماسک میں نے اپنے منہ پر رکھا، تین چار جیب میں رکھ لئے کہ وہاں اگر کسی کے پاس نہ ہوا اُسے پیش کردوں گا۔ میں جب ماسک پہنے فارم ہاﺅس میں داخل ہوا میں نے دیکھا پورے پنڈال میں سوائے ”ویٹرز“ کے کوئی ایک شخص ایسا نہیں تھا جس کے چہرے پر ماسک ہو،.... مجھے خود اُس وقت ماسک اُتارنا پڑ گیا جب بغیر ماسک پہنے میرے ساتھ بیٹھے ایک شخص نے مجھ سے کہا ”بھئی تم ادھر بیٹھے کیا کررہے ہو، جاکر کھانا لگاﺅ“ .... وہ مجھے ”ویٹر“ سمجھ رہا تھا، .... سب ایک دوسرے سے جپھیاں ڈال رہے تھے، منہ سے منہ جوڑ رہے تھے، ہاتھ مِلا رہے تھے، یوں محسوس ہورہا تھا قدرت نے اِن سب کو گارنٹی دے رکھی ہے ”ساری دنیا کورونا میں مبتلا ہو جائے گی، آپ نہیں ہوں گے“....میرا خیال تھا ابھی کوئی اسسٹنٹ کمشنر ،کوئی مجسٹریٹ، کوئی چھاپہ مار ٹیم آئے گی اور شادی میں کورونا ایس او پیز ودیگر خلاف ورزیوں پر میزبانوں یا ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی، اُنہیں بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔ پنڈال سیل کردیا جائے گا۔ تاکہ دوسروں کو اِس سے سبق ملے.... میری یہ غلط فہمی اُس وقت دُور ہوگئی جب دُور سے میں نے دیکھا اُس علاقے کے اعلیٰ انتظامی وپولیس افسران سمیت کچھ سیاسی شخصیات بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ جنہوں نے ان خلاف ورزیوں کی بازپُرس کرنی تھی وہ خود اِن خلاف ورزیوں کا حصہ بنے ہوئے تھے، شاید اِس لیے کہ اُنہیں معلوم ہے حکمران اور اُن کے اعلیٰ افسران اپنے اپنے دھندوں میں اس قدر اُلجھے ہوئے ہیں، یا یوں کہہ لیں اپنی ”غربتیں“ مٹانے میں اس قدرمصروف ہیں اپنے کسی ماتحت کی کوتاہیوں کا کوئی نوٹس لینے کا اُن کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ جیبیں گرم کرنے کا اِس سے سنہری موقع ہمارے کچھ افسران کو شاید ہی اِ س سے پہلے کبھی ملا ہو، اور یہ اُن کا ”حق“ بھی بنتا ہے کیونکہ اکثر تقرریاں جس انداز میں ہو رہی ہیں حساب پورا کرنا تو بنتا ہے، .... اگلے روز میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے سوشل میڈیا پر دیکھا کورونا میں مبتلا ہمارے محترم وزیراعظم ایک اجلاس کی صدارت فرما رہے ہیں، .... میں نے سوچا اِس عمل کے بعد وہ یا اُن کی حکومت لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا درس کیسے دے سکتے ہیں؟.... افسوس احمقوں کا ایک ٹولہ اس ملک پر مسلط ہے، ممکن ہے ایک احمق نے دوسرے احمق کو مشورہ دیا ہو کورونا کی حالت میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آپ اپوزیشن خصوصاً نون لیگ کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ میں اگر کورونا سے نہیں ڈرتا تو آپ کس کھیت کی مولیاں یا کھیرے وغیرہ ہیں؟۔ میںنے جب اِس اجلاس کی تصویر سوشل میڈیا پر دیکھی، مجھے سخت تشویش ہوئی، میرا خیال تھا کوئی قیامت ٹوٹ پڑی ہے، یا کوئی انتہائی حساس قومی معاملہ ہے جس کے لیے وزیراعظم کو کورونا کی حالت میں بھی اجلاس بُلانا پڑ گیا، ....بعد میں پتہ چلا یہ اجلاس میڈیا ٹیم کا تھا جس میں غوروفکر کیا گیا 26مارچ کو مریم شریف کی نیب لاہور میں پیشی کے موقع پر پیدا ہونے والے متوقع حالات پر میڈیا ٹیم کی اسٹریجی کیا ہونی چاہیے؟.... وزیراعظم کو اُس وقت تک شاید معلوم نہیں ہوگا نیب، مریم شریف کی پیشی ملتوی کرنے پر غورکررہی ہے، سو ممکن ہے پیشی ملتوی ہونے کی وزیراعظم صاحب کو جب اطلاع ملی ہو حیرت کے ساتھ ساتھ اُنہیں افسوس بھی ہوا ہو خوامخواہ اُن کا ایک ”اجلاس“ ضائع ہوگیا، .... جہاں تک نیب کا تعلق ہے نیب نے ”اپنے طورپر“ مریم شریف کی پیشی شریف ملتوی کرنے کا بالکل درست فیصلہ کیا، اِس سے پہلے نیب کا رینجرز طلب کرنے کا فیصلہ بالکل درست نہیں تھا، ایک ممکنہ تصادم کی صورت میں ہونے والے نقصان کا ازالہ شاید ناممکن ہوجاتا، سو پیشی ملتوی کروانے کا فیصلہ جس کسی کا ہے اچھا ہے، .... میں ایک بار پھر ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کورونا کی روز بروز بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر ایک فریق انتقامی کارروائیوں میں تھوڑی نرمی کردے، اور دوسرا فریق محض ذاتی مفادات کی خاطر غیرضروری طورپر حکمرانوں کو بُرا بھلا کہنا، اور اُن کے خلاف سازشیں وغیرہ کرنا فی الحال بند کرکے دنیا کو پیغام دیں ہم اتنے غیرمہذب بھی نہیں ہیں!!


ای پیپر