گھر بنا لو قنطرینہ اک مہینا
27 مارچ 2020 2020-03-27

عزیز قارئین!

ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا

تقریباً ایک ماہ کی غیر حاضری کے بعد حاضر خدمت ہوں۔ کچھ عرصہ طبیعت ناساز رہی۔ کچھ روز شہر سے دور مضافات میں قیام رہا۔ جس کے سبب اپنے قارئین سے رابطہ نہ رکھا جا سکا۔ ان دنوں تو وبائی لاک ڈاﺅن میں ”اسیری“ کے دن گزر رہے ہیں۔ ان ایام کو نہایت حوصلے، صبر اور برداشت کے ساتھ بسر کرنا ہے۔ بہت سا وقت آپ کے پاس ہے تفکر ، تدبر اور غور و فکر سے انسان اپنا محاسبہ کر سکتا ہے۔ ہم سب بلکہ دنیا بھر کے انسان اپنے گھروں میں محدود ہیں سبھی کے لئے یہ لمحات سوچ بچار کے ہیں۔ اندازہ لگائیں کہ ایک ہی وقت میں ساری دنیا چھوٹے سے ”جرثومے“ کے باعث ”لاک ڈاﺅن“ میں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کا بھی وہی حال ہے جو ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کا ہے۔

غور کریں اس ”وبائی“ حملے سے قبل انسان خود سے غافل ہو کر اپنے آپ کو ”خدا“ بنائے ہوئے تھا۔ عیش و عشرت کے بازار گرم تھے۔ دولت مند مزید دولت اور پیسے کے لئے کیا کیا کچھ نہیں کر رہے تھے۔ دوائیں بنانے والے اور تجویز کرنے والے سفاکیت میں تمام ”حدیں“ پار چکے ۔انسانی ضروریات زندگی خاص طور پر خوردنی اشیاءمیں ملاوٹ تو اب بھی جاری ہے۔ وباءکے دن ہوں یا رمضان ، عید کے مواقع مسلمان تو خاص طور پر ضروریات زندگی کی منہ مانگی قیمتیں وصول کرنے لگتے ہیں۔ اگلے روز وٹس اپ پر کسی من چلے کا میسیج چل رہا تھا کہ ”مسلمان وہ قوم ہیں کہ اگر خبر ملے کہ کل قیامت کا دن ہو گا تو ہمارے مصلے، تسبیحاں ، ٹوپیاں کئی گنا مہنگی کر دی جائیں گی۔“

یہ ہمارے ہاں ایک عام سی بات ہے۔ ڈینگی کی وباءپھیلی تو پتہ چلا کہ پپیتے کے پتوں کا قہوہ پینے سے اس مرض سے نجات مل سکتی ہے۔ ایسے موقع پر (وہ لوگ جن کے گھروں میں پپیتے کے درخت تھے) فی پتا پانچ سو روپے بیچا گیا۔ یہ تو ہمارا حال ہے۔ ہماری نفیات پنجابی کے ”اکھان“ جیسی ہے کہ :

آپ بھانویں تھلّے آ کے مر جایئے

شریکاں دی کند ھ ضرور ڈگنی چاھیدی اے

(یعنی چاہے خود ملبے کے نیچے آ کر مر جائیں، دشمنوں کی دیوار ضرور گرنی چاہئے)

جب انسان خود سے غفلت کی ساری حدود پار کرتا ہے تو خالق کائنات کسی نہ کسی صورت انسانوں کو احساس دلاتا ہے کہ وہ قادر مطلق ہے۔ جس قوم نے بھی یہ وائرس بنا کر اپنے حریف ملکوں کو تباہ کرنے کی اپنی سی کوشش کی اب وہ خود بھی اس وائرس اور وبا سے محفوظ نہیں اب تو ساری دنیا کو ”خدا یاد آ رہا ہے“۔

کچھ میڈیا کی ہوا نے بھی اس وبا ءکو پھیلا کر انسانوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب اس بیماری کا سن کر صحت مند افراد بھی ایک عجیب سے خوف کا شکار ہیں۔ حالانکہ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اس وائرس سے صرف دو فیصد اموات کا اندیشہ ہوتا ہے باقی لوگ احتیاط سے بچ سکتے ہیں۔ ہمیں تو اس وائرس سے زیادہ اپنی جہالت اور بے صبری کا زیادہ خوف ہے کہ ہم تو یہاں امداد کرنے والے افراد پر جھپٹ پڑتے ہیں۔ اگلے روز ایسا منظر ٹی وی پر دکھایا جا رہا تھا کہ ایک امداد کرنے والے شخص کو باقاعدہ گھیرکر نرغے میں زدوکوب کیا گیا۔ اسے جاں چھڑانی مشکل ہو گئی آخر اس نے رقم ہجوم سے پرے پھینک دی، اور ہجوم براتی نوٹ لوٹنے والوں کی طرح ایک دوسرے پر گرنے لگے اور تقسیم کرنے والا بھاگ گیا۔

ہمارے نظم و ضبط کا تو یہ حال ہے کہ ہم آرام سے خیرات اور امداد بھی وصول کرنے سے قاصر ہیں۔ لاک ڈاﺅن کا اعلان ہوتے ہی میں نے سٹورز پر دیکھا لوگ دس دس آٹے کے ٹھیلے اور چینی دالوں کے پیکٹ ریڑھیاں بھر کر خرید رہے تھے۔ حکومت کے اس اعلان کے باوجود کہ پنجاب میں آٹا چینی آلو یا دیگر خوردنی اشیاءکی کوئی کمی نہیں وافر ذخیرہ موجود ہے، پھر بھی ہر شخص کھانے پینے کی اشیاءگھر میں ذخیرہ کر رہا ہے اسے ان دیہاڑی دار ، غریب افراد کا کوئی خیال نہیں کہ اگر دکانوں پر کھانے پینے کی اشیاءکی سپلائی کچھ روز کے لئے بھی معطل ہو گئی تو عام لوگ کیا کریں گے۔ کیا اس سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم نہ ہو جائے گا؟ اس وقت سے ڈرنا چاہئے۔ صبرو استقامت سے ان حالات کا مقابلہ ضروری ہے۔ ہم نے لاک ڈاﺅن کو گرمیوں یا تہواری چھٹیاں سمجھ لیا ہے اور تفریح کے پروگرام شروع کئے ہوئے ہیں۔ بعض لوگ تو مری کی طرف نکل گئے ہیں۔ بعض نے گلیوں بازاروں میں کرکٹ کھیلنی شروع کر دی ہے۔ پولیس کا حال یہ ہے کہ لوگوں کو فاصلے پر رکھنے کی بجائے ، باہر نکلنے والوں کو مرغا بنا رہی ہے اور ”انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح گاڑیوں میں لاد کر حوالات میں جمع کر رہی ہے کیا اس سے وبا ءپھیلنے کا زیادہ خطرہ نہیں ؟ انہیں اکٹھا حوالات میں بند کرنے کے بجائے گھروں میں بھیجیں۔۔۔ گاڑیوں میں سامان کی جگہ پر بھی سواریوں کو بند کر کے سفر کرایا جا رہا ہے۔

کچھ خدا کا خوف کریں۔ گھر میں رہ کر استغفار کریں کہ یہی وقت دعا ہے۔

آئندہ کالم میں ہم لاک ڈاﺅن کے شب و روز لکھیں گے کہ وقت کیسے بسر کیا جائے فی الوقت یہ اشعار

دوسروں سے کٹ کے جینا اک مہینا

گھر بنا لو قنطرینہ اک مہینا

آپ بھی پرہیز گاری سیکھ لو جی

زندگی کا یہ قرینہ اک مہینا


ای پیپر