شہباز شریف آ رہے ہیں؟
27 مارچ 2020 2020-03-27

غیب کاعلم صرف اللہ کو ہے مگر بہت سارے لوگ بہت ساری پیشین گوئیاں کرتے ہیں اور بعض اوقات وہ حیران کن حد تک درست بھی ثابت ہوتی ہیں جیسے شیخ طارق اقبال نے بہت سارے معروف ستارہ شناسوں کے مقابلے میں مجھے ہمیشہ حیران کیا ہے۔اس سے پہلے کہ میں کرونا سمیت موجودہ حالات کی طرف آﺅں، سوابرس پرانی ایک بات شئیر کر دوں جب میں نے 2019 کیسا گزر ے گا کے عنوان کے ساتھ ایک روایتی پروگرام ترتیب دیاتو ستارہ شناسی اور ٹیروکارڈ ریڈنگ کے حوالے سے معروف اورمعتبر نام سٹوڈیو میں موجود تھے ۔وہ بتا رہے تھے کہ اب سیاست میں شریف خاندان یعنی نواز شریف ، مریم نواز اور شہباز شریف کا کردار ختم ہو چکا ہے،وہ انہیں اپنے زائچوں میں اب کہیں نظرنہیں آتے کہ ٹیلی فون لائن پر شیخ طارق اقبال نے اس پیشین گوئی سے اس حد تک تو اتفاق کیا کہ انہیں اس برس کی سیاست میں نواز شریف اور مریم نواز نظر نہیں آرہے مگر ان کا کہنا تھا کہ جون کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کو ریلیف ملنا شروع ہوجائے گا۔ میں نے کچھ تفصیل چاہی کہ کیا نواز شریف جیل سے رہا ہوجائیں گے تو جواب تھا کہ وہ جیل سے رہا بھی ہوں گے اور ان کے بعض مخالف ان سے دوستی بھی کرنا چاہیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں اگلے منظر نامے میں شہباز شریف کا کردار نظر آ رہا ہے۔ جب یہ ٹیلی فون کال ختم ہوئی اور پروگرام میں بریک لی گئی تو سٹوڈیو میں موجود ستارہ شناسوں نے اس پیشین گوئی کا مذاق اڑایا، اسے غلط قرار دیا۔

2019 ہمیں بتاتا ہے کہ شہباز شریف کی بیک ڈور ڈپلومیسی کامیاب رہی۔ نواز شریف جیل سے باہر نکلے اور لندن چلے گئے۔ خبریں یہاں تک آ رہی تھیں کہ خود نواز شریف کے مخالف چاہتے تھے کہ وہ ریلیف لیں ( اور انہیں بھی دیں)۔نوازشریف نے اس حد تک اپنی شرطوں پر معاہدہ کیا کہ اس وقت تک نیب کی تحویل سے گھر منتقل نہیں ہوئے جب تک اپنی بیٹی کو بھی رہا نہیں کروا لیا، وہ مریم نواز کو اپنے ساتھ لے کر جاتی امرا گئے تھے اور پھر لندن چلے گئے۔ میری نظر میں یہاں مدت کے حوالے سے کچھ تاخیر ضرور تھی مگر تبدیلی شیخ صاحب کی پیش گوئی کے عین مطابق تھی۔ میں نے انہیں ایک مرتبہ پھر اکتیس دسمبر کو2020 کیسا گزرے کے موضوع پر مدعو کر لیا تو انہوں نے حیرت انگیز انکشاف کیا، کہا ،سات ستارے ایک گھر میں اکٹھے ہو چکے ہیں اور یہ واقعہ کوئی ایک صدی کے بعد رونما ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے چھ ستارے اکٹھے ہوتے رہے ہیں اور ان کے اجتماع نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم، متحدہ برصغیر اوراس کے بعد پاکستان کی تقسیم اور نائن الیون جیسے واقعات کروائے ہیں۔ اب چوبیس سے ستائیس دسمبر کے درمیان سات ستاروں کا ملن ہو ا ہے اور یہ ملن پوری دنیا پر اثر ڈالے گا۔ یہ بات ذہن میں رکھئے کہ اکتیس دسمبر تک کسی کو کرونا وائر س کے بارے کچھ علم نہیں تھا کہ اس بارے پہلی اطلاع تین جنوری اور دوسری سات جنوری کوموصول ہوئی تھی۔ میں نے کہا، شیخ صاحب، مجھے تو کچھ ایسا نظر نہیں آ رہا تو جواب ملا کہ آپ کو کچھ دنوں میں اس کے اثرا ت نظر آنا شروع ہوجائیں گے، یہ تبدیلی پہلی اور دوسر ی جنگ عظیم سے بڑی ہو گی، اس سے زیادہ لوگوں کومتاثر کرے گی۔ یہ کلپ لاہور رنگ کے سوشل میڈیا پیج پر موجود ہے۔

میں نے کرونا وائرس آنے کے بعد شیخ صاحب کو ایک مرتبہ پھر زحمت دی اور پوچھا کہ اب یہ کرونا کب تک چلے گا۔ پہلے میں شیخ طارق اقبال کے بارے بتادوں کہ وہ ایک شریف آدمی ہیں ، ایک ہمسایہ ملک سے انہوں نے ستارہ شناسی سیکھی ہے، بیس بائیس برس سے اس فیلڈ میں ہیں مگر پبلک ریلیشنگ میں آگے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چودہ سے سولہ اپریل تک پانچ ستاروں کا اجتماع ایک گھر میں ہو رہا ہے جو اچھے نتائج دے گا۔ اس اجتماع کے ساتھ ہی کرونا کا زور ٹوٹ جائے گا مگر اس کے اثرات یعنی مریض ختم ہوتے ہوتے انتیس اپریل آجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتیس اپریل کو ایک ستارہ ( ایسٹرائیڈ) زمین کے اتنے قریب سے گزرے گا کہ بہت سارے لوگ یہ کہیں گے کہ یہ زمین سے ٹکرا ہی جائے گا ۔ اس کی وجہ سے ہمارے موسم تبدیل ہوجائیں گے یعنی آپ کو شدید گرمی میںا چانک بارشوں اور شدید سردی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ ( میں نے بعدازاں ایسٹرائیڈ کے بارے تحقیق کی تو علم ہوا کہ بہت ساروں نے شور مچا رکھا ہے کہ انتیس اپریل کو دنیا تباہ ہوجائے گی اور اس کی وجہ یہی ایسٹرائیڈ ہو گا جس کا حجم کوہ ہمالیہ سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ اسے سب سے پہلے 1998 میں دیکھا گیا تھا اور تب سے یہ ماہرین فلکیات کی نظر میں ہے تاہم یہ زمین کے بہت قریب سے نہیں گزرے گا بلکہ کوئی چار ملین میل کافاصلہ ہوگا جو زمین اور چاند کے درمیان فاصلے سے بھی دس گنا زیادہ ہے لہٰذااس کے زمین سے ٹکرانے اور زمین کے تباہ ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں)

شیخ صاحب نے گزشتہ دسمبر میں پیش گوئی کی تھی کہ شہباز شریف واپس آجائیں گے اور اب وہ کہتے ہیں کہ انتیس اپریل کے بعدپینتالیس دنوں میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی اور بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے بڑے بڑے ذمے دار تبدیل ہوجائیں گے کہ یہ انہی سات ستاروں کے اثرات ہوں گے جو دسمبر میں مجتمع ہوئے تھے۔ شیخ صاحب کو نظر آ رہا ہے کہ شہباز شریف بہت اہم ہوجائیں گے اور جو لوگ اہم ہیں وہ غیر اہم ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے معاشی حالات اتنے ابتر ہوجائیں گے کہ کوئی بھی اس ملک کا چیف ایگزیکٹو بننے کا چیلنج قبول نہیں کرے گا سوائے اس نام کے جو لیا جا رہا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ زراعت کا خانہ بہت کمزور ہے تھوڑے ہی دنوں میں ملک میں زرعی ایمرجنسی جیسی کوئی شے بھی لگانی پڑے گی۔میری دلچسپی ملک کے بہتر مستقبل کے بارے ہے اور اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے لئے دسمبر میں ہونے والے اجتماع کے بعد ڈیڑھ برس تک انتظار کرنا پڑے گا یعنی جون 2021 کا، اس کے بعد حالات بہتر اور مستحکم ہونے لگیں گے۔

مجھے ستاروں کا اس کے سوا کچھ علم نہیں کہ میرا بُرج کیا ہے مگر میں سیاست کے بہت سارے ستاروں کی چالوں کو غور سے ضرور دیکھتا ہوں۔ کرونا وائرس کے پھیلاﺅکے بعد یہ خبریں بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں کہ جس ایک پیج کی بات کی جاتی تھی وہ باقی نہیں رہا۔ ازراہ تفنن ہی سن لیجئے کہ عمران خان چاہتے تھے کہ لاک ڈاون نہ ہو مگر شہباز شریف چاہتے تھے کہ لاک ڈاﺅن ہو اور پھر لاک ڈاﺅن ہو گیا تو پھر اس وقت کس کی حکومت ہوئی۔ شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ شرح سود کم کی جائے جناب عمران خان نے لاعلمی ظاہر کی اور پھرشرح سود بھی کم ہو گئی۔ شہباز شریف نے کہا کہ پٹرول سستا کیا جائے اور ڈاکٹروں اورنرسوں کی تنخواہ بڑھائی جائے اور یہ کام بھی ہو گئے تو پھر اس وقت حکومت کس کی ہوئی۔ اس کے بعد ایک مشہورزمانہ پریس کانفرنس ہوتی ہے جس میں تبدیلی لانے والے صحافی اور نئے پاکستان کے معمار اینکرز جناب عمرن خان کے ساتھ ایسے غیر متوقع سوالات کرتے ہیں کہ گالی گلوچ بریگیڈ کو ان میں سے بعض کی تصویریں تک وائرل کرنا پڑ جاتی ہیں ۔ ابھی ایک روز قبل اسلام آباد میں افواہ چل پڑی کہ ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت نے استعفیٰ دے دیا ہے اور ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ جب یہ ایسی افواہیں آتی ہیں تو اس کے کچھ عرصے بعد استعفے بھی آجاتے ہیں۔

اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ کیا شہباز شریف ایک مرتبہ پھر ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر کے طور پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے لئے آ رہے ہیں تو میں اتنا ہی کہوں گا کہ وہ لندن سے اچانک وطن واپس آ گئے ہیں۔ پی ٹی آئی والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی حکومتی عمارت کس بنیاد پر کھڑی ہے ۔حکومت کے ایک وزیر نے دھمکی دی کہ شہباز شریف کی فلائیٹ مقررہ وقت کے بعد پہنچے گی تو اسے لینڈ ہی نہیں کرنے دیں گے مگر وہ ایسا نہیں کر سکے۔ حکومت کے ایک دوسرے وزیر کا شکوہ بھی گردش میں ہے کہ ریلوے کو لاک ڈاﺅن کرتے ہوئے ان سے پوچھا تک نہیں گیا۔ شہباز شریف کے ” آنے“ کے حوالے سے میرے پاس اس سوال کا فی الحال جواب یہی ہے کہ بہت ساروں کی توقعات کے خلاف شہباز شریف اچانک وطن واپس آ گئے ہیں، آگے اللہ رب العزت کی ذات ہی بہتر جانتی ہے۔


ای پیپر