سیاسی ہلچل اور مشکلات
27 مارچ 2019 2019-03-27

ایک بات سمجھ نہیں آئی۔ یہ عدالتی فیصلہ ڈیل کیسے ہوگیا۔ ادھر فیصلہ آیا۔ ادھر سیل فون پر گھنٹیوں کا تانتا سا بندھ گیا۔،سرکاری ترجمانوں اور غیر سرکاری میڈیا مینجر کا ایک کے بعد دوسرا فون۔ اور ایک ہی بیانیہ۔ ہم عدالتی فیصلہ کا احترام کرتے ہیں۔ بہت اچھی بات ہے۔ سب کو کرنا چاہیے۔ عدالتی فیصلوں کا احترام نہیں کرنا تو دوسری آپشن کیا ہے۔ اس میں کوئی اگر مگر کی گنجائش ہی نہیں۔ لیکن پھر یہ تاثر کیوں کہ ڈیل ہوئی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ خاموشی کا صلہ ہے۔ ایسا ہے تو اتنا بتا دیں کہ کیا سزا بولنے پر ملی تھی۔ اللہ کے بندوں ڈیل کا تاثر دیکر اداروں کی کونسی خدمت کرتے ہو عدالت عالیہ کے تین رکنی بنچ نے جو فیصلہ دیا۔ قانون میں اس سے زیادہ کی گنجائش تھی بھی نہیں۔ قانون تو یہی ہے۔ سیاسی تقاضے کچھ بھی ہوں۔ سزا یافتہ قیدی کو کس قانون کے تحت علاج کیلئے بیرون ملک بھیجا جائے۔ ویسے آپس کی بات کے نواز شریف اور ان کے وکلا نے بیرون ملک علاج کی بات اعلانیہ تو نہیں کی۔ ہاں بیرون ملک علاج کی آپشن ان کے ذہن میں ضرور ہے۔بیرون ممالک میں علاج نہ کوئی غیر قانونی اقدام ہے نہ غیر اخلاقی۔ غرض مند تو دیوانہ ہوتا ہے۔ جہاں صحت یابی کا آسرا ہوگا۔ اس دروازے پر ضرور دستک دے گا۔ یہاں تو لوگ کمر درد کیلئے باہر گئے اور بعد میں شادیوں کے فنکشن میں محو رقص پاے گئے۔ سو نواز شریف کو جو بھی ملا وہ قانون کے مطابق کی ملا۔ سو اس میں کوئی ڈیل نہیں۔ قلمکار کو کہنے دیجئے اس فیصلہ کے نتیجے میں ڈیل کے خواہشمندوں کو ناکامی ہوئی۔ اس بات کو رہنے دیجئے کہ کون ڈیل کا خواہاں ہے۔ بس اتنا کافی ہے کہ ایک ماینڈ سیٹ ہے جو چاہتا ہے کہ نواز شریف کچھ عرصہ کیلئے باہر جا بسیں۔ اور خاموش زندگی گزاریں۔ اور وقت کا انتظار کریں۔ اگر کبھی حالات نے ان کے حق میں کروٹ لی تو ٹھیک ہے ورنہ باقی ماندہ زندگی دیار افرنگ میں۔ لیکن میاں نوا شریف نے

اس ڈیل کو ناکام بنایا۔ ایک مرتبہ نہیں بلکہ بار بار۔ اپنی استقامت اور صبر کے ہتھیار سے۔ ڈیل کر لی جاتی تو شاید پنجاب حکومت بھی مل جاتی۔ نواز شریف کم آ ز کم چھ مرتبہ ، وزارت عظمیٰ کے دور سے لیکر لاہور کے سروسز ہسپتال تک میں قیام کے دوران ہر طرح کی پیش کش مسترد کی۔ اس وقت بھی جب وہ تیرہ جولائی کو مریم نواز کے ساتھ لندن سے لاہور اترے۔ گرفتار ہونے کیلئے۔ ان کی آمد نے مسلم لیگ ن کو الیکشن میں بڑی پارٹی بنا دیا۔ ورنہ پچیس سے تیس کے درمیان سیٹیں ملتیں۔بہرحال سپریم کورٹ سے فیصلہ آ چکا۔ نواز شریف یہی چاہتے تھے کہ ان کو جو بھی سہولت ملے وہ عدالت سے قانون کے مطابق ملے۔ تاکہ ان کے دامن پر سیاسی سودہ بازی کے دھبہ نہ لگے۔ چھ ہفتے پلک جھپکتے گزر جائیں گے۔ اس دوران وہ نہ تو پاکستان سے باہر جاسکیں گے اور نہ ہی اس کیلئے کوئی گنجائش موجود ہے۔ جو کچھ بھی ہوگا وہ عدالتوں کے ذریعے ہوگا۔ نیب کے قائم کردہ مقدمات چیونگم کی مانند ہیں۔ جتنا مرضی چباتیرہو بے مزہ ہی رہتی ہے۔ شہباز شریف کا ای سی ایل سے اخراج ایک اور دھچکا ہے۔ اب شاید کچھ اور گرفتاریاں ہوں گی۔ متوقع اسیروں میں شاہد خاقان عباسی۔ آصف زرداری ، فریال تالپور شامل ہوسکتے ہیں۔شاید توازن کیلئے بالا دستوں کی سائیڈ سے کوئی ایک آدھ دانہ بھی شامل ہوجائے۔ سیاسی منظر نامہ تیزی سے بد ل رہا ہے۔ بجٹ کی تیاری اور منظوری کا مشکل مرحلہ سر پر کھڑا ہے۔ فیٹف کی ٹیم موجود ہے۔ جو کہ اپنے اپریل کے اجلاس کیلئے جائزہ مرتب کرے گی۔ حتمی مرحلہ تو ستمبر میں آئے گا۔ لیکن تب تک کئی مشکل مراحل عبور کرنے ہوں گے۔ ادھر اپوزیشن ہے کہ تیزی سے متحد ہورہی ہے۔ اندرون خانہ کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ پنجاب میں تو ایک سابق سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے چوہدری خاندان اور رائیونڈ کے مکینوں کے درمیان بعد پگھلی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ رابطے کہاں اور کس حد تک جاتے ہیں۔ اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جناب وزیر اعظم عمران خان کی بھر پور سپورٹ کے باوجود سب سے بڑے صوبے کے معاملات کنٹرول میں نہیں۔ بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ایک وقت آئے جب تبدیلی کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ تب تین آپشن ہوں گی۔ پنجاب میں ٹیم کیپٹن کی تبدیلی ، ان کے پاس چینج اور آخری چارہ کے طور پر شہباز شریف کی انٹری۔ بلاول بھٹو کی سیاست میں دبنگ ہلچل اور پے درپے فیصلے۔ حکومت کی مشکلات میں اضافہ پور ہا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کپتان اکیلا لڑ رہا ہے۔ اس کی ٹیم میں سواے چند افراد باقی کی ترجیح باہمی جھگڑے ہیں۔ یا زیادہ سے زیادہ اپوزیشن کی درگت۔ اپوزیشن کی درگت سے عوام کے پیٹ نہیں بھرتے۔ نہ بجلی کے بل ادا ہوتے ہیں۔

سیاسی ہلچل اور مشکلات

ایک بات سمجھ نہیں آئی۔ یہ عدالتی فیصلہ ڈیل کیسے ہوگیا۔ ادھر فیصلہ آیا۔ ادھر سیل فون پر گھنٹیوں کا تانتا سا بندھ گیا۔،سرکاری ترجمانوں اور غیر سرکاری میڈیا مینجر کا ایک کے بعد دوسرا فون۔ اور ایک ہی بیانیہ۔ ہم عدالتی فیصلہ کا احترام کرتے ہیں۔ بہت اچھی بات ہے۔ سب کو کرنا چاہیے۔ عدالتی فیصلوں کا احترام نہیں کرنا تو دوسری آپشن کیا ہے۔ اس میں کوئی اگر مگر کی گنجائش ہی نہیں۔ لیکن پھر یہ تاثر کیوں کہ ڈیل ہوئی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ خاموشی کا صلہ ہے۔ ایسا ہے تو اتنا بتا دیں کہ کیا سزا بولنے پر ملی تھی۔ اللہ کے بندوں ڈیل کا تاثر دیکر اداروں کی کونسی خدمت کرتے ہو عدالت عالیہ کے تین رکنی بنچ نے جو فیصلہ دیا۔ قانون میں اس سے زیادہ کی گنجائش تھی بھی نہیں۔ قانون تو یہی ہے۔ سیاسی تقاضے کچھ بھی ہوں۔ سزا یافتہ قیدی کو کس قانون کے تحت علاج کیلئے بیرون ملک بھیجا جائے۔ ویسے آپس کی بات کے نواز شریف اور ان کے وکلا نے بیرون ملک علاج کی بات اعلانیہ تو نہیں کی۔ ہاں بیرون ملک علاج کی آپشن ان کے ذہن میں ضرور ہے۔بیرون ممالک میں علاج نہ کوئی غیر قانونی اقدام ہے نہ غیر اخلاقی۔ غرض مند تو دیوانہ ہوتا ہے۔ جہاں صحت یابی کا آسرا ہوگا۔ اس دروازے پر ضرور دستک دے گا۔ یہاں تو لوگ کمر درد کیلئے باہر گئے اور بعد میں شادیوں کے فنکشن میں محو رقص پاے گئے۔ سو نواز شریف کو جو بھی ملا وہ قانون کے مطابق کی ملا۔ سو اس میں کوئی ڈیل نہیں۔ قلمکار کو کہنے دیجئے اس فیصلہ کے نتیجے میں ڈیل کے خواہشمندوں کو ناکامی ہوئی۔ اس بات کو رہنے دیجئے کہ کون ڈیل کا خواہاں ہے۔ بس اتنا کافی ہے کہ ایک ماینڈ سیٹ ہے جو چاہتا ہے کہ نواز شریف کچھ عرصہ کیلئے باہر جا بسیں۔ اور خاموش زندگی گزاریں۔ اور وقت کا انتظار کریں۔ اگر کبھی حالات نے ان کے حق میں کروٹ لی تو ٹھیک ہے ورنہ باقی ماندہ زندگی دیار افرنگ میں۔ لیکن میاں نوا شریف نے

اس ڈیل کو ناکام بنایا۔ ایک مرتبہ نہیں بلکہ بار بار۔ اپنی استقامت اور صبر کے ہتھیار سے۔ ڈیل کر لی جاتی تو شاید پنجاب حکومت بھی مل جاتی۔ نواز شریف کم آ ز کم چھ مرتبہ ، وزارت عظمیٰ کے دور سے لیکر لاہور کے سروسز ہسپتال تک میں قیام کے دوران ہر طرح کی پیش کش مسترد کی۔ اس وقت بھی جب وہ تیرہ جولائی کو مریم نواز کے ساتھ لندن سے لاہور اترے۔ گرفتار ہونے کیلئے۔ ان کی آمد نے مسلم لیگ ن کو الیکشن میں بڑی پارٹی بنا دیا۔ ورنہ پچیس سے تیس کے درمیان سیٹیں ملتیں۔بہرحال سپریم کورٹ سے فیصلہ آ چکا۔ نواز شریف یہی چاہتے تھے کہ ان کو جو بھی سہولت ملے وہ عدالت سے قانون کے مطابق ملے۔ تاکہ ان کے دامن پر سیاسی سودہ بازی کے دھبہ نہ لگے۔ چھ ہفتے پلک جھپکتے گزر جائیں گے۔ اس دوران وہ نہ تو پاکستان سے باہر جاسکیں گے اور نہ ہی اس کیلئے کوئی گنجائش موجود ہے۔ جو کچھ بھی ہوگا وہ عدالتوں کے ذریعے ہوگا۔ نیب کے قائم کردہ مقدمات چیونگم کی مانند ہیں۔ جتنا مرضی چباتیرہو بے مزہ ہی رہتی ہے۔ شہباز شریف کا ای سی ایل سے اخراج ایک اور دھچکا ہے۔ اب شاید کچھ اور گرفتاریاں ہوں گی۔ متوقع اسیروں میں شاہد خاقان عباسی۔ آصف زرداری ، فریال تالپور شامل ہوسکتے ہیں۔شاید توازن کیلئے بالا دستوں کی سائیڈ سے کوئی ایک آدھ دانہ بھی شامل ہوجائے۔ سیاسی منظر نامہ تیزی سے بد ل رہا ہے۔ بجٹ کی تیاری اور منظوری کا مشکل مرحلہ سر پر کھڑا ہے۔ فیٹف کی ٹیم موجود ہے۔ جو کہ اپنے اپریل کے اجلاس کیلئے جائزہ مرتب کرے گی۔ حتمی مرحلہ تو ستمبر میں آئے گا۔ لیکن تب تک کئی مشکل مراحل عبور کرنے ہوں گے۔ ادھر اپوزیشن ہے کہ تیزی سے متحد ہورہی ہے۔ اندرون خانہ کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ پنجاب میں تو ایک سابق سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے چوہدری خاندان اور رائیونڈ کے مکینوں کے درمیان بعد پگھلی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ رابطے کہاں اور کس حد تک جاتے ہیں۔ اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جناب وزیر اعظم عمران خان کی بھر پور سپورٹ کے باوجود سب سے بڑے صوبے کے معاملات کنٹرول میں نہیں۔ بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ایک وقت آئے جب تبدیلی کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ تب تین آپشن ہوں گی۔ پنجاب میں ٹیم کیپٹن کی تبدیلی ، ان کے پاس چینج اور آخری چارہ کے طور پر شہباز شریف کی انٹری۔ بلاول بھٹو کی سیاست میں دبنگ ہلچل اور پے درپے فیصلے۔ حکومت کی مشکلات میں اضافہ پور ہا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کپتان اکیلا لڑ رہا ہے۔ اس کی ٹیم میں سواے چند افراد باقی کی ترجیح باہمی جھگڑے ہیں۔ یا زیادہ سے زیادہ اپوزیشن کی درگت۔ اپوزیشن کی درگت سے عوام کے پیٹ نہیں بھرتے۔ نہ بجلی کے بل ادا ہوتے ہیں۔


ای پیپر