کیا جنرل مشرف ہمارا cromwell ہے؟
27 مارچ 2019 2019-03-27

پاکستان میں جنرل پرویز مشرف پر غداری کے مقدمے کی جب بھی بازگشت سنائی دیتی ہے اس میں Oliver Cromwell (1599-1668 ) کے اُس واقعہ کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ غداری کے الزام میں اس کی لاش کو قبر سے نکال کر تختہ دار پر لٹکا یا گیا تھا مگر اس واقعہ کے سیاق و سباق جنرل مشرف کے کردار سے مماثلت نہیں رکھتے لہٰذا Cromwell کے کیس کو بطور حوالہ پیش کیا جانا نہ تو کوئی عدالتی نظیر ( precedent ) ہے اور نہ ہی یہ انصاف کے آفاقی تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

تاجِ برطانیہ کی 17 ویں صدی کی تاریخ خانہ جنگی اور خون ریزی سے بھری پڑی ہے۔ Cromwell ایک فوجی جرنیل اور سیاستدان تھا جب اس وقت کے بادشاہ چارلس اول اور پارلیمنٹ کے اختیارات کی جنگ عروج پر پہنچی تو Cromwell نے پارلیمنٹ فوج کی حمایت میں بادشاہ کے خلاف بغاوت کا آغاز کر دیا جس کے نتیجے میں 1649 ء میں چارلس اول کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا اور بادشاہ کو عوام سے غداری کی پاداش میں سزائے موت دے دی گئی۔ عوام نے کروم ویل کو بادشاہ بن جانے کی تجویز دی مگر اس نے انکار کر دیا البتہ بطور Lord Protector اس نے ملک کا انتظام سنبھالا اور 1658 ء میں اپنی طبعی موت تک وہ انگلینڈ کا حکمران رہا۔ کروم ویل کی موت کے بعد چارلس اول کے بیٹے چارلس روم نے 1660 ء میں ملک کا اقتدار دوبارہ حاصل کر لیا اور بادشاہت کو بحال کر دیا گیا ۔ برطانوی تاریخ میں ایسی کوئی شہادت یا دستاویز نہیں ملتی جس میں چارلس روم نے کروم ویل پر مقدمہ چلانے کی بات کی ہو یا اس طرح کا کوئی حکم جاری کیا ہو البتہ تاریخی طور پر وہ کروم ویل کو اپنے باپ کا قاتل سمجھتا ہو تو یہ ایک الگ بات ہے۔ عوام چونکہ بادشاہ کے دین کے سپرد ہوتے ہیں لہٰذا چارلس روم کے اقتدار میں آنے کے بعد بادشاہ کی خوشنودی کی خاطر عوام نے کروم ویل سے نفرت کا اظہار کرنا شروع کیا اور ایک سال کے ذہریلے پروپیگنڈے کے بعد 1661 ء میں عوام کے ایک بپھرے ہوئے ہجوم نے کروم ویل کے ڈھانچے کو قبر سے نکال کر پارلیمنٹ بلڈنگ کے باہر علامتی طور پر بھانسی پر لٹکا دیا جو محض بے حرمتی اور نفرت کا اظہار تھا۔ ایسا کرنے کا حکم نہ تو کسی عدالت نے دیا تھا نہ اس وقت کے بادشاہ نے۔ یہ مبنی بر انصاف نہیں بلکہ مبنی بر انتقام کی ایک تاریخی جھلک تھی جسے قانونی طور پر مثال بنانا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ اس کی تکنیکی وجہ یہ بھی ہے کہ کروم ویل نے پارلیمنٹ اور بادشاہت کی لڑائی میں پارلیمنٹ کا ساتھ دیا تھا جو کہ عوام کے حقوق کی بات کرتی تھی اور بادشاہ کے اختیارات میں کمی کی حمایت میں تھی تاکہ بادشاہ کو ایک آمر مطلق بننے سے روکا جا سکے تیسرا یہ کہ چارلس اول کی معذولی اور پھانسی کے بعد کروم ویل چاہتا تو وہ بادشاہت کا تاج پہن سکتا تھا مگر اس نے بادشاہ بننے سے انکار کر دیا تھا اس لیے اس کے لیے غداری یا آئین شکنی جیسے الفاظ متنازعہ ہیں۔

جنرل مشرف کے لیے کروم ویل کی مثال سب سے پہلے سابق چیف جسٹس آف پاکستان مرحوم سعید الزمان صدیقی نے کی تھی مگر اس وقت وہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہو چکے تھے انہیں جنرل مشرف کے ساتھ اختلاف تھا کیونکہ انہوں نے PCO کے تحت حلف اٹھانے کی بجائے عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ میاں نواز شریف کے حامی تھے کیونکہ میاں

صاحب نے انہیں چیف جسٹس بنایا تھا ۔ ان کی میاں صاحب سے وفاداری کی وجہ سے ہی انہیں عشرت العباد کے بعد گورنر سندھ لگایا گیا حالانکہ ان کی صحت قطعی طور پر اس قابل نہ تھی کہ وہ امور گورنری سر انجام دے سکیں اور وہ اسی حالت میں ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

یہ ایک دلچسپ بحث ہے کہ کچھ لوگ مشرف کے غداری کیس میں ان کی خرابی صحت اور عمر رسیدگی کو یکسر نظر انداز کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مشرف کو بعد ازمرگ بھی کروم ویل کی طرح لٹکایا جانا چاہیے۔ لیکن ایسے لوگ نادانستہ طور پر میاں نواز شریف کی صحت کی بنیاد پر جیل سے رہائی کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

انصاف اور رعایت Accross the board یعنی سب کے لیے یکساں ہو تو ہی قابل قبول ہوتی ہے۔ اگر آپ مشرف جو اس وقت بستر مرگ پر ہیں ان کے لیے رحمدلی یا قانونی گنجائش کے مخالف ہیں تو پھر آپ کے لیے میاں نواز شریف کی رہائی کی حمایت کرنا اخلاقی طور پر نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس وقت مشرف اور میاں نواز شریف دونوں کے کیس عدالت میں ہیں گویہ دونوں کے مقدمات ایک جیسے نہیں ہیں لیکن سزا کے معاملے میں عدالتوں کو یہ دیکھنا پڑے گا انصاف یا رعایت سب کے لیے ایک جیسا سلوک کیا جائے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حالیہ بیان میں صاف اور دو ٹوک انداز میں کہہ دیا ہے کہ میاں نواز شریف کی رہائی کے لیے کوئی الگ سے قانون نہیں بنا سکتے انہوں نے کسی طرح کے سمجھوتے کے وجود سے انکار کیا ہے۔ اس بیان کے بعد میاں صاحب اور حکومت کے درمیان NRO کی ساری افواہیں دم توڑ گئیں ہیں لیکن پاکستان میں چونکہ سیاسی معجزے وقوع پزیر ہوتے دیر نہیں لگتی لہٰذا حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔

دوسری طرف میاں نواز شریف کی تاریخ یہ کہتی ہے کہ جس طرح انہوں نے تینوں دفعہ اپنی وزارت عظمیٰ کی ٹرم پوری نہیں کی اسی طرح انہوں نے کبھی اپنی جیل ٹرم بھی پوری نہیں کی۔ وہ رہا ہو جاتے ہیں۔ حالات کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے اس دفعہ وہ اپنا علاج کروا سکیں۔ سیاسی دباؤ ان کی پارٹی جتنا ڈال سکتی تھی وہ انہوں نے ڈال کے دیکھ لیا ہے مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ ان حالات میں عدالتی فیصلوں کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ سپریم کورٹ نے انہیں چھ ہفتے کی مدت کے لیے رہائی دے دی ہے۔ اگرچہ ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا آئندہ چند روز میں معلوم ہو جائے گا۔


ای پیپر