محبت فاتح عالم
27 مارچ 2019 2019-03-27

پچھلے دنوں صدیوں نہ بھولنے والا دلخراش اور انسانیت سوز سانحہ رونما ہوا۔ نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں میرے آقا ؐ کے اُمتیوں پر مشین گن سے ایک درندے نے فائر کھول دیا۔ خبر دیکھ سن پڑھ کر دل خون کے آنسو کیسے روتا ہے شدت سے محسوس ہوا ہر مسلمان کی طرح پیچ و تاپ کھائے کہ کیا کروں دو دن ایسا رویا کہ گھگھی بندھ گئی ایک میرے برادرم ڈاکٹر اعجاز خاور خواجہ نے ابو ظہبی سے ایک بریکنگ نیوز کلپ وٹس ایپ کیا جس میں خبر تھی کہ ایبٹ آباد کے نعیم بٹ نے حملہ آور درندے کو روکنے کی کوشش کی اور جام شہادت نوش کیا۔ بیٹا بھی شہید ہوا نعیم راشد بٹ خود جوان سال تھا جبکہ بیٹا نو خیز تھا۔ باقی لوگ بھی اس کائنات کہ بہترین لوگوں میں سے تھے۔ دکھ کے اظہار کے لیے کوئی الفاظ نہیں مجھے یوں لگا کہ حضرت بلال، حضرت عمار بن یاسر، حضرت خبیب رضی اللہ عنہا اور تحریک اسلامی کے دیگر پروانوں پر مظالم کے سلسلے ابھی بند نہیں ہوئے۔ مگر نیوزی لینڈ کے عوام اور وزیر اعظم نے جس انسانیت دوستی انسان پروری مظلوم پروری عوام پروری کا مظاہرہ کیا وہ لاجواب ہے۔ وزیر اعظم کے الفاظ کہ مطابق اس مجرم کا نام نہیں لیں گی۔ وہ درندہ دہشت گرد ہے مجرم ہے ہمیشہ اس کی پہچان یہی رہے گی۔ وہ گمنام رہے گا اس نفرت کے پیچھے کمال درجہ کی سوشل وزڈم ہے کیونکہ جرم، دہشت گردی اپنی دھاک،دہشت بٹھانے کے لیے یہ سب مجرمان کرتے ہیں اگر مجرمان اور دہشت گردوں کے نام کی تشہیر نہ کی جائے تو ان کے جرائم حیرت انگیز حد تک کم ہو جائیں مگر ہمارے ہاں تو مجرمان کے ناموں پر فلمیں بنیں اور اس وقت تک بنتی رہیں جب تک فلموں سے کہیں زیادہ معمول کے خبر نامہ میں جرم اور دہشت گردی کی کارروائیاں ہزاروں گنا زیادہ نہ ہو گئیں۔ 50 لوگوں کی قربانی نے عصرِ حاضر میں مسلمانوں کے امن پسند کردار کو بحال کر دیا ۔ وطن عزیز کے ’’ وزیر اعظم‘‘ نے اپنی ہم منصب سے بات کی اور کہا کہ آپ کے اقدامات کو پاکستان میں بہت سراہا گیا ہے اس نے جواب میں کہا نیوزی لینڈ صدمے میں ہے اوہ! میرے خدایا کیا جواب کہ سراہنا، مقبولیت، تعریف یہ دنیا کا مسئلہ ہو گا آپ کا مسئلہ ہو گا نیوزی لینڈ صدمے میں ہے۔ دراصل وزیر اعظم نیوزی لینڈ کو انسان دوست، عوام

پرور ہمدرد، اور محبت کرنے والی حاکم ہونے کی اداکاری نہیں کرنا پڑی وہ جیسی تھی ویسا اظہار ہوا اور اس نے پوری دنیا کو متاثر کیا اس حد تک کہ مہاتیر محمد نے کہا کہ وزیر اعظم نیوزی لینڈ نے ہمیں شرمندہ کر دیا۔ مسلمانوں کے صبر نے کیا معجزہ کیا کہ اگلے روز 350 سے زائد عیسائی مرد عورتیں مسلمان ہوئے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ جس کے ڈر سے انگلینڈ میں مساجد پر حملے ہونے شروع ہو گئے مگر نیوزی لینڈ میں وہاں کے لوگوں نے مسلمانوں کو اپنی حفاظت میں نماز پڑھائی پہرہ دیا ، گلے ملے ، آنسو بہائے، 40ہزار شہری ہیگلے پارک جمع ہوئے۔ پانچ منٹ ٹی وی ریڈیو پر اذان دی گئی، آئندہ جمعہ بین المذاہب دعائیہ تقریب ہو گی سبحان اللہ۔ مسلح ہار گئے نہتے جیت گئے۔ مظلوم عزت والے اور فاتح ہو گئے، ظالم گم نام اور مردود ہوئے ۔ صبر جیت گیا ظلم ہار گیا۔ محبت جیت گئی نفرت ہار گئی۔ میرے آقا کریمؐ جب مدینہ تشریف لائے تو پہلے الفاظ جو ادا فرمائے مفہوم یہ کہ کوئی شخص جہنم میں نہیں جا سکتا مگر صدقہ کے سبب وہ چاہے کسی کی دلجوئی میں دو خوشی کے بول ہوں۔

حضرت امام جعفر علیہ السلام کا قول مجھے بہت یاد آتا ہے جو ایک شخص ان کی خدمت میں پیش ہوا کہ حضرت میں تبلیغ کے سلسلہ میں جا رہا ہوں کوئی نصیحت فرما دیں۔ امام علیہ سلام نے فرمایا کہ کوشش کرنا تبلیغ کے سلسلہ میں آپ زبان کم سے کم استعمال کریں جب راشدنعیم بٹ شہید کی بیوہ کا ایک میڈیا پرسن انٹرویو کر رہی تھی تو شہید کی بیوہ کے دکھی چہرے پر مسلسل مسکراہٹ کا غلبہ رہا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تو مجرم پر ترس آ رہا ہے۔ وہ سکون سے محروم ہے۔ میڈیا پرسن خاتون نے پوچھا کہ آپ کو کیا چیز حوصلہ دیتے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا میرا مذہب، میڈیا پرسن نے پوچھا کہ اب آپ مسجد جائیں گی انہوں نے جواب دیا مجھے کون روک سکتا ہے۔ ضرور جاؤں گی۔ چہرے پر صبر اور مسکراہٹ نے میڈیا پرسن کو بھی رلا دیا اور اس نے پوچھا کہ کیا میں آپ سے گلے مل سکتی ہوں۔ عظیم شہید کی بیوہ بولیں Sure ضرور کیوں نہیں وہ روتی ہوئی ان سے گلے ملی۔ جس روز یہ سانحہ ہوا جمعہ کی نماز کا وقت تھا میں قربان جاؤں آقاؐ کے امتیوں پر اسی دن زیادہ تعداد میں عصر کی نماز ادا کی گئی اور آفرین ہے۔ نیوزی لینڈ حکومت کی جس نے ریاست ہوگی ماں کے جیسی کا عملی نمونہ پیش کیا وہاں کے مسلمانوں نے زبان سے کچھ نہیں کہا ان کے صبر، عمل اور معصومیت سینکڑوں لوگوں کو مسلمان بنانے لگے۔ نیوزی لینڈ کی حکمران جو تھی جیسے تھی ویسی ہی نظر آئی ڈرامہ، اداکاری ، ریاکاری، افسوس کے ساتھ کہتا ہوں ہمارے حکمران طبقات کا وتیرہ رہا ہے اور ہے، نفرتوں ، غلیظ زبان، عصبیتوں، لسانی علاقائی فرقہ وارانہ ذہنیت کے ساتھ رہ کر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی قابل ستائش کردار ادا کیا جا سکے۔ موجودہ حکمران جماعت کی تو سیاست ہی نفرت پر قائم ہے مجھے یاد ہے بلاول بھٹو نے ایک بار دکھ بھرے لہجے میں عمران خان کے متعلق کہا کہ یہ نفرت کی سیاست کرتا ہے۔ ساری دنیا نے میری والدہ کی شہادت پر افسوس کیا مگر عمران خان نے نہیں کیا۔ نفرت کی سیاست قوم نہیں بنا سکتی۔ جھوٹ، فراڈ، ریاکاری ، بہتان، بد عنوانی جن حکمران طبقوں کا طرۂ امتیاز ہو گا وہ کبھی اپنے آپ کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ دنیا کو کیا کریں جبکہ سادگی ، انسانیت ، اور انسان دوستی وطن دوستی سے سرشار قیادتیں پوری دنیا کو مطمئن کر سکتی ہیں اور یہ ثابت ہوا نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم اور عوام کے اعلیٰ انسانی رویے سے ، جعلی الفاظ، جعلی رویے، جعلی مسکراہٹ جعلی نصیحت، جعلی واعظ ، جعلی جمہوریت ، جعلی آمریت، جعلی دانشور۔ کوئی وطن عزیز کے حکمران طبقوں کو سمجھائے کہ محبت فاتح عالم ہے، نفرت نہیں۔ نفرت قوم کو تباہ کر دے گی، وزارت بچانے والے ابو بچانے کے معنی دیتے ہیں اور اگر ابو کو جیل میں نہ ملو تو یہ کیسے بیٹے ہیں۔ شاہ محمود فرماتے ہیں بلاول ہمیں لکھ کر دیں کہ وہ عسکریت پسندوں سے کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ رب العزت اسے زندگی دے یہ اس کو کن انگاروں کے سپرد کرنا چاہتے ہیں ۔ مہاتیر محمود کہتے ہیں ہم نے کسی طرف دھیان نہیں دیا صرف ٹریڈ کی مگر وہ نہیں جانتے ہمارا ہمسایہ ہندوستان کتنا کم ظرف ہے۔ یہ ملک لوگوں کے مشوروں سے نہیں اپنوں کے مشورے سے چلے گا۔ نفرت کو دفن کرنا ہو گا ورنہ آئندہ موجودہ حاکموں کو نفرت کی بنیاد پر نفرت تو مل سکے گی ووٹ نہیں۔ کبھی دنیا کو متاثر نہیں کر سکتے۔اگر نفرت کی بنیاد کرپشن ہے تو پھر حکمران جماعت اِک نظر ڈال اپنے اِرد گِرد بھی ڈال لے۔


ای پیپر