مسلمان سے مسلمان غیرمحفوظ؟
27 مارچ 2019 2019-03-27

اسلام جبراً تو قبول نہیں کروایا گیا ؟؟؟کیا اٹھارہ سال سے پہلے اسلام قبول کروایا جاسکتا ہے ؟؟؟سندھ میں ایسا ہوہی کیوں رہا ہے ؟؟؟ ہندو لڑکیوں نے اسلام قبول کرلیا گھر سے فرار ہوئیں اور مسلمان لڑکوں سے شادی کرلی اور پھر کیا تھا ملک میں کہرام کھڑا ہوگیا۔۔۔یہاں تک کہ اس واقعے کا وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لے لیا اور واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔۔۔ اب صورتحال اتنی گرما گرم ہو اور ہمارا میڈیا کسی سے پیچھے رہ جائے یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟دن رات نیوزچینلزہندو برادری کی آواز بنے رہے معاملے کو انتہائی باریک بینی سے دیکھا جارہا ہیاور اس کے حل کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے اور ہونی بھی چاہئیں اقلیتوں کو تحفط فراہم کرنا ہماری مذہبی ، آئنی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اس موضوع پر یوں تو کافی لب کشائی ہوچکی ہے مگر چند الفاظ میرے بھی اس پر لکھنا ضروری تھے شایداسی طرح اقلیتوں کے مسئلے کے ساتھ مسلمانوں کا مسئلہ اٹھاؤں تو پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی دعویدار سرکار کی توجہ حاصل ہوسکے۔۔۔عمران خان صاحب کاش ایک نوٹس آپ بھاولپور کے کالج میں طالب علم کے ہاتھوں معلم کے قتل پربھی لے لیتے۔۔۔کاش کہ ایک ٹویٹ صرف ایک ٹویٹ ر یاست مدینہ کے استاد کے لئے بھی کردی جاتی۔۔۔مگر شاید میرے وزیراعظم عمران خان کو یہ حادثہ ہندو لڑکیوں کے اسلام قبول کرنے سے بھی کم اہمیت کا حامل لگا ہوگا شاید میرے میڈیا کو بھی اس حادثے میں ذیادہ مصالحہ نظر نہیں آیا۔۔۔یا پھر مذہب کے نام پر قتل کا معاملہ اتنا بگڑ گیا ہے کہ وزیر اعظم کوکچھ بولنے سے پہلے سلمان تاثیر یاد آگیا ہوگا۔۔۔ریٹنگ کی میرتھن میں بھاگنے والے صحافیوں کوبھی پروفیسر خالد حمیدکی خون میں لتھڑی لعش دیکھ کر گلا خشک ہوگیاہو گا۔۔۔

مگر عمران خان صاحب اگر مسئلے کاحل نہ کیا گیا تومیرے اور آپ کے گھر خطیب حسین جیسے دماغی مریض پیداہوں گے۔ پاکستان کو "ریاست مدینہ "بنانا تو بڑے دور کی بات "قائد اعظم" کا پاکستان تو بنائیں جہاں مسلمانوں کی جان محفوظ ہو۔۔۔خدارا اپنے ملک کے مستقبل اپنے نوجوان کی حالت پر بھی غور

کریں۔۔۔ نفرت اور شدت پسندی کی یہ آگ بھڑکانے والے عناصر مسلمان نوجوانو ں کو کیسے گمراہ کررہے ہیں۔۔۔ کاش کہ آپ کے بچے بھی پاکستان میں رہائش پزیر ہوتے اور انہی درسگاہوں کا حصہ ہوتے تو آپ اس واقعے پر عام شہری کا درد محسوس کر سکتے اور آپ کو اندازہ ہوتا کہ اس خبر پر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے ملک سے شدت پسندی کے انکیوبیٹرز کو جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔سیاست دانوں سے ویسے مسئلے کے حل کی امید لگانا بھینس کے آگے بین بجانا ہے خاص طور پر جب وہ کنٹینر سے اقتدار کی کرسی تک پہنچ چکے ہوں۔۔۔ شاید انفرادی طور پر اپنے گھر سے مسئلے کے حل کا آغاز کریں تو کم از کم خدا کے سامنے تو سرخرو ہوں گے۔۔۔اولاد کو جنم تو جانور بھی دے لیتے ہیں

مگر تعلیم و تربیت سے ہی ہم معاشرے کو انسان دے سکتے ہیں جس گھر میں بچہ اسلامی تعلیمات کو ٹھیک سے سمجھ نہیں سکا یا بیراہ روی نیاسے انسان سے بھیڑیا بنادیا ہو میری نظر میں وہاں والدین بھی جرم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔۔۔کیا استاد کے قتل کا ذمہ دار صرف یہ طالب علم تھا ؟ اس کی سوچ انتہا پسند بنانے میں کس کاکردار ہے؟اور اب کیا اس شخص کو سزا دینے سے معاملہ حل ہوجائے گا ؟ یہ واقع اس طرح کے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ایسے واقعات میں پہلے تو پڑھا لکھا نوجوان ملوث نہیں تھا مگر اب کراچی میں چند برس قبل ایک بس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں ملوث اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہوں۔۔۔مشعال کے جسم کو گدھ کی طرح نوچنے والا یونیورسٹی کا ہجوم ہویا انگریزی کے پانچویں سمسٹر کا طالب علم سب کے سر پر بغیر سوچے سمجھے خون سوار ہے۔۔ افسوس ایسے واقعات اسلا م کے نام پر رونما ہوتے ہیں اسلام میں کہاں قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہے ؟؟کس عدالت نے فیصلہ سنایا تھاکہ اس پروفیسر کی سزا" سزائے موت "ہے ؟خدارا اسلام کا نام لے کر خو د اپنی عدالت لگانا اس میں خود ہی گواہ اور جج بن کر مقدمے کا فیصلہ کرنے سے پہلے ایک دفعہ اسلام کی تعلیمات تو پڑھ لیں تاکہ کم از کم اپنی اور دوسرے کی جان لینے سے پہلے آپ یہ توجان سکیں کہ اس راستے پر چل کر اللہ کی عدالت میں سرخرو ہورہے ہیں یا گناہ کبیرہ کے مرتکب ؟؟؟اسلام کا نام لے کر انسانوں کی جان لینے سے پہلے کوئی ایک بار بھی یہ سوچتا ہے کہ اسلام تو وہ مذہب ہے جہاں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔۔۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات اسی لئے بنایا ہے تاکہ وہ اپنے دماغ کا استعمال کرے مگرشدت پسند کہاں سمجھیں گے عقل پر جب پردہ پڑا ہو اور دماغ میں بس یہ بھر دیا گیا ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کے نام پر خون کی ہولی کھیلنا ہی اسلام ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت آپکو خون بہانے سے نہیں روک سکتی۔۔۔ترس آتا ہے اس نوجوان نسل پر جسے اپنے آقاوں کے ارادے سمجھ نہیں آتے۔۔۔ اسلام کا نام بدنام کرنے کے لئے دشمن ملک سے ملنے والی فنڈنگ نظر نہیں آتی قرآن کیا احکامات دیتا ہے یہ سمجھنے سے دماغ قاصر کردیا جاتا ہے۔۔۔ سکولوں ،بازاروں اور پارکس میں معصوم بچوں ،عورتوں اور بزرگوں کے خود کش حملے میں چیتھڑے اڑا نے والے خدا کی بارگاہ میں کتنا مطمئن ہوتے ہیں کہ میں نے آج ننھے بچوں کی جان لے کر جام شہادت نوش کرلیا ہے ؟؟؟ یہی حال بھاولپور میں استاد کی جان لینے والے اس بدقسمت طالب علم کا ہے اور یقین اگر دل و دماغ میں بھری ہوئی اس نفرت کو خطیب حسین اپنے معلم کی جان لینے پر نہ نکال دیتا تو مجھے یقین ہے کہ آئندہ کسی خود کش دھماکے کی منصوبہ بندی میں ملوث پایا جاتا۔۔۔۔ اس راہ پر چلنے سے پہلے ایک دفعہ دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے سوال کریں کہ کیا یہ اسلام ہے یا اسلام کے خلاف دشمن کی گھناؤنی سازش؟؟؟

ہمیں اپنی مدد آپ کے تحت ان شدت پسند عناصر کو نئی نسل کی زندگی سے کھیلنے سے روکنا ہوگا۔۔۔خطیب حسین استاد کے خلاف اپنے شدت پسندانہ جذبات کا کافی دن سے اظہار کررہا تھا مگر اس بات کا کسی نے نوٹس نہیں لیا اسی طرح مشعال کے خلاف سازش کے تانے بانے سوچی سمجھی سکیم کے تحت بنے جاتے رہے مگر اس کی بھی جان جانے سے پہلے سب خاموش رہے۔۔۔ اسلام دشمن مسلمان کو مسلمان کے ہاتھوں ہی مروارہا ہے کیا اتنے بڑے مسلئے پر قابو پانے کے لیے تعلیمی اداروں میں اسلام کی حقیقی تعلیمات پر سیمینار منعقد نہیں کروانے چائیں ؟؟؟جس میں سوال جواب کا سیشن رکھا جاسکتا ہے اور دینی سکالرز کے ساتھ ساتھ مہانوں کے پینل میں ماہرنفسیات کو بھی شامل کیا جائے تاکہ بیراہ روی کی جانب جانے والے نوجوان کو اپنی اور دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالنے سے پہلے روکا جاسکے۔


ای پیپر