کالعدم تنظیموں کی حمایت پیپلزپارٹی بھی کرتی رہی ہے!
27 مارچ 2019 2019-03-27

بلاول بھٹو زرداری کریز سے باہر نکل کرکھیل رہے ہیں، انہوں نے جارحانہ انداز میں کالعدم تنظیموں کے سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلقات کوجوڑا ہے۔ یہ سوال بڑا اہم ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی ایک ایسے وقت میں جب ان سمیت پارٹی قیادت نیب اور بینکنگ کورٹ میں پیشیاں بھگت رہی ہے تو وہ کالعدم تنظیموں کا مسئلہ کیوں اٹھا رہے ہیں؟ کیا کالعدم تنظیمیں اور ان سے جڑ ی قباحتیں آج کا مسئلہ ہیں ؟بلاول جن تین حکومتی وزراء پر نام لیے بغیر الزامات لگا رہے ہیں کیا پاکستانی پارلیمانی تاریخ میں صرف ان کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے ؟ کیاپیپلزپارٹی کا ماضی میں ان تنظیموں کے ساتھ تعلق نہیں رہا ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب تاریخ کے اوراق پلٹنے سے بہ آسانی مل جاتا ہے ۔ فرقہ وارانہ اور کالعدم تنظیموں سے پیپلزپارٹی نے تعلق 1988ء اور 1990ء کے انتخابات میں قائم کیا ۔ یہ وہ وقت تھا جب سپاہ صحابہ کے منتخب لیڈروں کو جمہوری اقدار کی چیمپئن جماعت پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل تھی۔ اہلسنت والجماعت کے رہنما مولانا احمد لدھیانوی تو اس بات کا اقرار کرچکے ہیں کہ سنہ 2008 کے الیکشن میں ان کی جماعت نے پیپلز پارٹی کے 18 امیدواروں کی حمایت کی تھی ان میں قمر زمان کائرہ جیسے بڑے نام بھی شامل تھے۔ پیپلزپارٹی ان کالعدم تنظیموں کو ضیاء دور سے جوڑتی ہے اگر یہ مان لیا جائے تو پھر کیا وجہ تھی تین بار وزراتِ عظمیٰ کی مسند پر براجمان ہونے والی جماعت نے ان تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ میثاق جمہوریت کے بعد 2008ء میں ہونے والے انتخابات میں کس بات نے پیپلزپارٹی کو مجبور کیا تھا کہ وہ مولانا لدھیانوی سے انتخابی میدان میں حمایت طلب کریں ۔عزیر بلوچ اور راؤانوار جنہوں نے سندھ میں قہر ڈھایا ہوا تھا یہ کس کے کارندے تھے کس کی انہیں آشیر باد حاصل تھی ۔عزیر بلوچ کی گرفتاری کے فوراًبعد 31جنوری 2016کو پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما نبیل گبول نے دعویٰ کیا تھا کہ’’ عزیر بلوچ نے شرجیل میمن کے خلاف بیانات ریکارڈ کروا دیئے ہیں، عزیربلوچ کی گرفتاری زرداری اور فریال تالپورکی گرفتاری میں اہم کردار ادا کرے گی۔‘‘گو کہ نبیل گبول اس وقت پیپلزپارٹی میں نہیں تھے لیکن موصوف نے ان سب باتوں کو بخوبی جانتے ہوئے پیپلزپارٹی میں ہی شمولیت کو دوبارہ ترجیح دی۔پھریہ انکشاف بھی زیادہ پرانا نہیں ہے کہ سابق وزیرپٹرولیم اور آصف زرداری کے دست راس ڈاکٹر عاصم کے ہسپتال میں جرائم پیشہ افراد کا علاج ہوتا رہا ۔ شائد وقت نے ان تمام معاملات پر دھول ڈال دی ہے ۔ بلاول ابھی سیاست میں نئے ہیں انہیں اپنی ہی پارٹی کے ماضی سے واقف ہونے میں وقت لگے گا ان کا جارحانہ جوہری انداز اگرچہ اپنے نانا سے مشابہ ہے مگر وہ جس طرز کی سیاست کررہے ہیں وہ ان کے والد زرداری صاحب کا شیوہ ہے ۔جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا معاملہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ بلاول اپنے والدسمیت پیپلزپارٹی کی سینئر قیادت کو جیل جاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔ بلاول کا یہ کہنا کہ کہ کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کوحکومت اس لیے حفاظتی تحویل میں لے رہی ہے کہ کہیں بھارتی جہاز انہیں آکر اڑا نہ دیں ۔ بلاو ل کا یہ بیان نہ صرف پاکستان میں زیر بحث ہے بلکہ اس نے بھارتی اخباروں کی شہ سرخیوں میں بھی اپنی جگہ بنائی ۔ لہٰذابلاول کے اس بیان کو بچگانہ تو قرار نہیں دیا جاسکتا ۔لیکن اس بیان کو دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ بلاول اس بیان سے کیا حاصل کرنا چاہتے تھے تو جواب آسانی سے مل جاتا ہے کہ وہ اس کڑے وقت میں جب پیپلزپارٹی مسلسل دباؤ کا شکا رہے اوراس کی قیادت سمجھتی ہے کہ حالیہ مقدمات بنانے والوں کے ڈورے کوئی اور ہلا رہا ہے تو وہ اپنے ’’ خاص بیانیے ‘‘ سے ان پر دباؤ ڈالناچاہتے ہیں تاکہ ڈیل یا ڈھیل کا کوئی راستہ نکل سکے ۔ بلاول کے نئے بیانیے کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ ان کے والد جون 2015ء میں اینٹ سے اینٹ بجانے جیسا بیان دے چکے ہیں ہیں جس کے بعد انہیں تقریباً ڈیڑھ سال ملک سے باہر رہنا پڑا تھا اور بلآخر وہ کسی ڈھکی چھپی ڈیل کے نتیجے میں وطن واپس آئے تھے ۔ اگر بلاول کے حالیہ بیان کے مزید پہلو ؤں کو کھنگالاجائے تو یہ بات بھی بعید ازقیاس نہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب بھارت پاکستان پر کالعدم تنظیموں کی معاونت کا الزام لگا رہا ہے اور وہ سلامتی کونسل میں مسلسل چوتھی بار مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گردقرار دلوانے میں ناکام ہوچکا ہے تو ایسی صورتحال میں بلاول کا ریاست مخالف بیانیہ اپنانے کا مقصد انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنا بھی ہوسکتا ہے ۔ اگر ایسا کچھ ہوا تو بلاول آگ سے کھیل رہے ہیں جس میں کھیل اور کھلاڑی دونوں ہی کا نقصان ہوگا ۔ پارٹی سیاست کو ریاستی معاملات پر ترجیح دینا یایقیناپیپلزپارٹی کی سیاسی خودکشی ہو گی۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلاول پارٹی قیادت پر مقدمات کی راولپنڈی منتقلی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور یہ شک ان کااس تناظر میں درست ثابت ہوتا ہے جب راولپنڈی سے ان کے نانا اور والدہ کی لاشیں لاڑکانہ گئیں ہوں ۔ لیکن کیاان مقدمات کو صوبائیت یا علاقایت کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے ؟کیا چاروں صوبوں کی زنجیر کہلانے والی پارٹی ایسی باتیں کرکے فیڈریشن کو کمزور کرنے کی سازش کررہی ہے؟احتساب کے جس قانون میں پیپلزپارٹی کو سقم نظر آرہے ہیں اسے حکومت میں رہتے ہوئے کیوں تبدیل نہیں کیاگیا ۔ کیا ان کی جماعت کواس قانون کو تبدیل کرنے سے غیرمرئی قوتوں نے روکا ہوا تھا ۔ملکی سیاسی تاریخ کو دیکھا جائے تو معلو م ہوتا ہے کہ مخالف سیاست دان سندھ کا ہو یا پنجاب کا وقت کے حکمران نے اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا ۔ 1973ء کے آئین کے مطابق جب تمام پاکستانیوں کو یکساں شہری حقوق حاصل تھے ، فیئر ٹرائل کسی بھی شہر کا بنیادی حق تھا ۔تو ایسے وقت میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے مشہور سیاسی مخالف پنجاب کے سیاست دان چودھری شجاعت کے والد چودھری ظہور الہی کو بغیر مقدمات کے مہینوں تک صوبے سے باہر مچھ اور کراچی سنٹرل جیلوں میں کسی ریکارڈ کے بغیر رکھا ۔بلکہ مچھ سینٹرل جیل میں تو انہیں مبینہ طور جان سے مارنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا جسے اس وقت کے بلوچستان کے گورنر نواب اکبر بگٹی نے ناکام بنا دیا تھا۔

اب پیپلزپارٹی قانو ن نافذ کرنے والے کرنے والے اداروں پر صوبائی تعصب برتنے کا الزام کا لگا رہی ہے تو اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس تعصب کے بیج کو ان کی جماعت کے بانی رہنما نے بویا تھا ۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سیاسی مخالفین کو برداشت نہ کرنے کی روایت پیپلزپارٹی نے ڈالی اور اب اسی کے نتائج یہ خود بھگت رہی ہے ۔ لہذایہ ضروری ہے کہ پارٹی کے سینئر رہنما اپنے چیئرمین کوئی بھی متنازع بیان دینے سے قبل اپنی پارٹی کی تاریخ پڑھائیں ۔ بلاول کاپارٹی سیاست کے لیے جارحانہ اندازاپنانا ان کے جماعتی کارکنوں کو اپنی جانب متوجہ کروانے کے لیے تو ضروری ہے مگر لیڈر کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ انتہائی کٹھن حالات میں بھی اپنے حواس کو جذبات پر غالب نہیں آنے دیتا۔بلاول کا اپنا یا اپنی پارٹی کا مفاد ریاستی بیانیے پر مقدم رکھنا خود ان کی سیاست کے لیے بھی زہر قاتل ہوگا۔


ای پیپر