ملکی تاریخ کا سب سے بڑا غربت مٹاﺅ پروگرام ،تاریخی اعلانات
27 مارچ 2019 (19:58) 2019-03-27

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ملک سے غربت کے خاتمے کوایک جہاد قرار دیتے ہوئے اس کیلئے نئی وزارت کے قیام اور آئین کے آرٹیکل میں ترمیم کا اعلان کر دیا ہے اور کہاہے کہ غربت ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرینگے ۔

پاکستان میں 43 فیصد بچے خوارک کی کمی کا شکار ہیں، مدینہ کی ریاست مسلمانوں کے لیے ایک مثال ہے ،مسلمانوں کی وجہ سے ہی یورپ میں حیا کی تحریک شروع ہوئی ، اگلے 4 سال میں بیت المال10لاکھ بچیوں کی مدد کرے گا ،57لاکھ خواتین کیلئے سیونگ اکاونٹس بنا رہے ہیں ، اسٹریٹ چلڈرن کے لیے ہم پبلک پرائیوٹ ، پارٹنرشپ کرینگے،،بوڑھے لوگوں کیلئے5 احساس گھر تعمیر کیے جائیں گے ،ٹیکنیکل ایجوکیشن پر کام کر رہے ہیں ، ای او بی آئی کی پنشن میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،پسماندہ علاقوں کے طلبا کو نجی شعبوں میں تعلیم کے حصول کیلیے قرضے دینگے، غربت کے خاتمے کےلئے پروگرام میں 80 ارب روپے کا اضافہ کر رہے ہیں ،تحفظ پروگرام کے تحت ہم خواجہ سراو¿ں کی بھی ہم مدد کریں گے ،تحفظ پروگرام کے تحت اینٹوں کے بھٹو ں پر کام کرانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی، ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لئے فیصلے کررہے ہیں ۔

بدھ کو غربت مٹاو پروگرام ”احساس“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ملک سے غربت کے خاتمے کیلئے نئی وزارت اور آئین کے آرٹیکل میں ترمیم کا اعلان کیا اور کہاکہ غربت کے خاتمے کے لیے نئی وزارت بنائیں گے اور اس سلسلے میں اور آئین کے آرٹیکل میں ترمیم کی جائے گی ،مختلف سرکاری فلاحی ادارے الگ الگ کام کر رہے ہیں،نئی وزارت سے ملکر کام کرینگے،ہوسکتا ہے ،احساس پروگرام کے تحت بزرگ شہریوں کے لیے گھر بنائے جائیں گے،مزدوروں اور کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے دینگے تاکہ وہ اپنا گھر بنا سکیں، غربت مٹاو¿ پروگرام میں ہم مختلف این جی اوز سے پارٹنر شپ کریں گے،ہم کمزور، پسماندہ لوگوں کی امداد میں 80 ارب کا اضافہ کر رہے ہیں ، اسٹریٹ چلڈرن کے لیے ہم پبلک پرائیوٹ ، پارٹنرشپ کرینگے، اس تحفظ پروگرام کے تحت ہم خواجہ سراو¿ں کی بھی ہم مدد کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اگلے 4 سال میں بیت المال10لاکھ بچیوں کی مدد کرے گا،اینٹوں کے بھٹوں پر بچوں سے کام کروایا جاتا ہے ،تحفظ پروگرام کے تحت کارروائی کی جائیگی،ہم دنیا میں سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں لیکن خیرات دینے والے ممالک میں ہم سب سے آگے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل حب سے عوام اپنے بینک اکاو¿نٹس،نئی نوکریوں سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں گے،57لاکھ خواتین کیلیے سیونگ اکاو¿نٹس بنا رہے ہیں،انکو موبائل فون بھی دینگے۔عمران خان نے کہا کہ آج شوکت خانم کا خسارہ 6 ارب روپے سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم بھی وہی فیصلے کر رہے ہیں تاکہ آگے جاکر ملک معاشی طور پر مستحکم ہوں۔انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین نے 30سال کے اندر 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا،چین نے 30 سال پہلے جو فیصلے کیے اس کی وجہ سے آج معاشی طاقت ہے،آج ہم بھی وہی فیصلے کر رہے ہیں تاکہ آگے جاکر ملک معاشی طور پر مستحکم ہو،جب اللہ کےلئے کام کرتے ہیں تو صرف کوشش کریں، مدد اللہ کرتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں 43 فیصد بچے خوراک کی کمی کاشکار ہیں،ریاست مدینہ کا اہم اصول رحم ہوتا تھا،انسانیت کی مدد کرنا اللہ کا راستہ ہے،مسلمانوں کے لیے مدینہ کی ریاست ایک ماڈل ہے،پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پربنا، غربت ختم کرنا بھی جہاد ہے،ہم ملک سے غربت ختم کریں گے، غربت ختم کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنے پڑیں گے،اس پروگرام میں محنت کرنے پر ڈاکٹر ثانیہ کو خراج تحسین پیش کرتاہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جو مزدور بیرون ملک جائینگے انھیں ایک سال نہیں بلکہ 3 سال کے کنٹریکٹ پر بھیجیں گے،بیرون ملک کام کرنیوالے محنت کش کیلئے اسپیشل ویلفیئر ٹکٹ دینگے تاکہ وہ اپنے گھر والوں سے آکر مل سکیں،بیرون ملک مقیم ہمارے محنت کشوں کے تعاون کیلیے ویلفیئر اتاشی تعینات کیے جائینگے،محنت کش لوگ جو بیرون ملک کام کرنے جاتے ہیں ان کو سہولیات دینگے ، بیرون ملک مقیم ہمارے محنت کش لوگوں کیلیے سہولتیں فراہم کریں گے۔وزیر اعظم نے بڑی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم بیرون ملک کام کرنے والے محنت کشوں کو سپیشل ٹکٹ بھی فراہم کیا کرینگے تاکہ وہ اپنے خاندان سے آکر مل سکیں کیونکہ کئی ایسے افراد ہیں جو اتنے پیسے نہیں رکھتے کہ بیرون ملک سے پاکستان آنے کیلئے ٹکٹ کے پیسے خرچ کریں ۔

وزیراعظم نے کہا کہ 600کروڑ روپے روزانہ کی بنیاد پر ہم پرانے قرضے عالمی بنکوں کو سود کی مد میں دے رہے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹور ز کے اندر بیج رکھیں گے تاکہ لوگ ان کو خرید کر گھر میں پودے لگا سکیں ،دیہی خواتین کی مدد کیلیے بکریاں ، دیسی مرغیاں دی جائینگی،بچوں کو کیمیکل ملا دودھ مل رہا ہے جو قوم کے بچوں کیساتھ بہت بڑی زیادتی ہے،75 فیصد کھلا دودھ جو دستیاب ہے وہ پینے کے قابل نہیں، جن کو انصاف کارڈ نہیں ملے گا ان کو تحفظ پروگرام کے تحت صحت کی سہولیات دی جائیں گی، دو تین ہفتے میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائردریافت ہوجائیں گے ۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دیہات میں غربت مٹانے کے لیے بہترین زرعی پالیسی بنائی ہے،کوشش ہے چھوٹے کسانوں کی مدد کی جائے، مزدوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل کرائیں گے،چھوٹا کسان قرضوں کے بوجھ میں دب جاتا ہے،آگے نہیں بڑھ پاتا۔وزیراعظم نے کہا کہ خواتین کو اگر آئی ٹی کی مہارتیں دی جائیں تو وہ بھی گھر بیٹھ کر کام کر سکتیں ، اسکولوں میں آٹھویں جماعت کے بچوں کو اسکل ایجوکیشن دی جائے گی،بوڑھے لوگوں کیلئے5 احساس گھر تعمیر کیے جائیں گے ،ٹیکنیکل ایجوکیشن پر کام کر رہے ہیں ، ای او بی آئی کی پنشن میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،پسماندہ علاقوں کے طلبا کو نجی شعبوں میں تعلیم کے حصول کیلیے قرضے دینگے، غربت کے خاتمے کےلئے پروگرام میں 80 ارب روپے کا اضافہ کر رہے ہیں،راجن پور میں فی شخص ترقیاتی اخراجات ڈھائی ہزار جبکہ لاہور میں 70ہزار ہے۔


ای پیپر