سیاست بہتے پانی جیسی ہے
27 مارچ 2019 2019-03-27

سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی ضمانت پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے جج کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے چھ ہفتوں کے لئے منظور کر لی ہے جس پر حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کا احترام کرے گی۔ یہ ایک دلچسپ بیان ہے جیسے اس کے پاس عدالتی فیصلے کا احترام نہ کرنے کا آپشن بھی موجود ہو،اگر آپ حکومت کا اصل موقف جاننا چاہتے ہیں تو آپ کو عدالت میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل مظفر عباسی کا موقف دیکھنا ہو گا، وہ نواز شریف کے علاج کے لئے ان کی میڈیکل رپورٹوں اور میڈیکل بورڈوں کی سفارشات کی مدد سے عدالت کے کسی نتیجے پر پہنچنے پر اعتماد نہیں کر رہے تھے بلکہ واضح، دوٹوک اور شدید انداز میں ضمانت کی مخالفت کر رہے تھے دوسری طرف نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو قائل کیا کہ ان کے موکل کے دل میں سات سٹنٹ ڈالے جا چکے ہیں، انہیں انجائنا کی درد محسوس ہو رہی ہے، وہ بلڈ پریشر اور شوگر کے بھی مریض ہیں جو دل کے مرض کو مزید خطرناک بناتے ہیں اور بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی کہ ان کی گردوں کی بیماری تھرڈ سٹیج پر ہے، حکومت نے جو پانچ میڈیکل بورڈ بنائے تھے ان پانچوں نے ہی میاں نواز شریف کو ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔ اگر آپ اس پیراگراف کو کسی تعصب کے بغیر پڑھیں تو پاکستان کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لئے عدالت کا فیصلہ بغیر کسی ابہام کے سمجھ آجاتا ہے ۔

وفاقی اور صوبائی سطح پر حکمران اور ان کے ترجمان کہتے ہیں کہ وہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، وہ نواز شریف کے بارے فیصلے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی فل بنچ کے بعد وہ کس جگہ اپنی اپیل لے کر جائیں گے کہ سابق وزیراعظم کو ذہنی تناﺅ سے باہر نکلتے ہوئے ان کی مرضی کے علاج کی سہولت نہ دی جائے مگر وہ شہباز شریف کے بارے میں فیصلہ تسلیم نہیں کرتے جس میں لاہور ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کوبیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ نیب کی تحقیق اور تفتیش کے معیار سب پر واضح ہو چکے ہیں کہ یہاں برس ہا برس سے لوگ قید ہیں مگر نہ تو ان کے ریفرنس مکمل ہو رہے ہیں اور نہ ہی ان کو رہائی مل رہی ہے۔ ایسے لوگوں کی بڑی تعداد نے اب رہائی کے لئے عدالتوں سے رجوع کرنا شروع کردیا ہے۔ نیب کی دوسری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اگر کسی شخصیت کو جیل سے رہائی مل بھی جائے تو اس کے وطن کو اس کے لئے جیل بنا دیا جائے یعنی نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا جائے۔ اگر حکمران واقعی عدالتوں کا احترام کرتے ہوتے تو پھر شہباز شریف کے بارے فیصلے کا بھی احترام کرتے مگر یہاں عدالتوں کا احترام اسی وقت تک ہے جب تک آپ کو اس کے خلاف جانے کا اختیار نہ مل جائے۔ نواز شریف کی عارضی رہائی پر غصے سے دانت کچکچاتے ہوئے تجزیہ کار کنفیوژن پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے، وہ عدالتی فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتے مگر اپنا غصہ یہ کہتے ہوئے ضرور نکال سکتے ہیں کہ پاکستان کی جیلوں میں قید کتنے قیدیوں کو علاج کی یہ سہولت دی جا سکے گی؟

آپ کوئی بھی ٹی وی چینل لگا لیں وہاں شریف فیملی کے حق میں ایک روز میں ہونے والے دونوں فیصلوں پر تجزیہ کار مختلف اشارے دے رہے ہیں۔ کچھ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہی وہ این آر او ہے جس کی بات وہ کافی عرصے سے کر رہے تھے۔یہ بات درست ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے عہدے سے الگ ہونے کے بعد ہمیں عدالتوں کے رویوں اور فیصلوں کے رجحانات میں فرق نظر آ رہا ہے ، ایسے تجزئیے کرنے والے عمومی طور پر مختلف ایشوز پر حکمران جماعت کے موقف کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک عمران خان کسی کے ساتھ این آر او کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، این آر او کے اشارے دیتے ہوئے تجزیوں سے دو سوال ابھرتے ہیں، پہلا یہ ہے کہ اگر این آر او عمران خان نہیں دے رہے تو پھر یقینی طور پر کوئی دوسری قوت دے رہی ہے اور جب وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اصل حکومت اور اختیار جناب عمران خان کے پا س نہیں ہے تو وہ اس لولے لنگڑے اقتدار پر رضامند کیوں ہیں مگر یہاں دوسرا سوال ا س سے بھی زیادہ اہم ہے کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری عدالتیں کسی این آر او کے ہونے کے بعد ایسے فیصلے دے رہی ہیں تو آپ اس بات کو بھی ماننے سے انکار نہیں کر سکتے کہ ماضی قریب میں بھی پھر فیصلے انصاف نہیں بلکہ کسی ایجنڈے کے تحت ہی تھے۔

ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاست خود سیاستدانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے، ملک کا ہر ادارہ بااختیار ہے، وہ اپنے قواعد و ضوابط خود طے کرتا ہے، وہ دوسروں سے میرٹ اور ڈی میرٹ کے بارے میں ڈکٹیشن نہیں لیتا مگرسیاست اور پارلیمنٹ نہیں حالانکہ موخر الذکر کو تمام اداروں کی ماں کہا جاتا ہے۔ یہاں اہلیت اور نااہلیت کے لئے دوسرے اداروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ کیا آپ کسی جج، جرنیل یا حتیٰ کہ کسی بیوروکریٹ کو بھی پارلیمنٹ کے کچھ ارکان کے ذریعے نااہل کر سکتے ہیں ، یہ کام نہیں کیا جاسکتا مگر’ مدر آف دی آل انسٹی ٹیوشنز‘ کہلانے والی پارلیمنٹ کے ساتھ ضرور یہ ہوتا ہے کہ طالع آزما جرنیل اٹھتے ہیں اوراس کے سربراہ کو پابند سلاسل کر دیتے ہیں، اس کے ارکان کی اہلیت کا فیصلہ ہی جج نہیں کرتے بلکہ حیرت انگیز طور پر اس کی دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی آئینی ترامیم کو بھی کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں حالانکہ آئین میں ترمیم کا اختیار صرف اور صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے، عدالتیں اس آئین کے تابع ہوتے ہوئے محض وضاحت کر سکتی ہیں مگر یہاں ایسے ایسے چیف جسٹس بھی آتے ہیں جو اپنے الفاظ کو قانون قرار دیتے ہیں مگر کوئی دوسرا ادارہ ان کے ان الفاظ ، اختیارات اور اقدامات کو چیلنج نہیں کرتا۔ ایسے میں علم سیاسیات کے ماہرین پارلیمنٹ کو ا داروں کی ماں کیسے کہہ سکتے ہیں بلکہ دوسرے ادارے پارلیمنٹ کے لئے ماں اور باپ کی حیثیت رکھتے ہیں جو جب چاہتے ہیں اس کو چپت رسید کردیتے ہیں، کان مروڑ دیتے ہیں۔

ایک شرعی مسئلہ ہے کہ بہتا ہوا پانی پاک ہوتا ہے چاہے اور اس سے وضو اور غسل جائز ہوتا ہے مگر یہ حکم رکے اور ٹھہرے ہوئے پانی کے بارے میں نہیں ہے۔ سیاست بھی اگر آزادی سے بہتے ہوئے پانی کی طرح ہے تو وہ پاک ہے لیکن اگر آپ اس میں رکاوٹیں پیدا کر دیتے ہیں، سیاست فطری انداز میں بہنے کے بجائے رکنے لگتی ہے تو اس میں گندگی جمع ہونے لگتی ہے، کائی اکٹھی ہونے لگتی ہے۔ ہم نے اپنی سیاست کے فطری بہاﺅ کو غیر فطری اندازمیں روکا ہے اور بار بار روکا ہے۔ آپ نے کبھی ٹھہرے ہوئے پانی کو دیکھا ہے کہ اس کے اندر کس طرح کائی جم جاتی ہے جو بدبو دینے لگتی ہے ، آپ نے کبھی دریاوں اور نہروں میں بنے پلوں کے ستونوں کو دیکھا ہے کہ وہ کس طرح غلاظت کو اپنے گرد جمع کر لیتے ہیں۔ سیاست کے دریا کا بہاﺅ تیز ہونے دیں، یہ تیز بہاﺅ اپنے ساتھ بہت سارا گند بہا کے لے جائے گاکہ سیاست کے دریا میں تطہیر کسی بیرونی قوت کی طرف سے لگائی گئی بندشوں اور رکاوٹوںسے نہیں ہوتی بلکہ صرف اور صرف حقیقی اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ اگر اداروں کے فیصلے درست ہوتے تو پیپلز پارٹی آج سے اڑتیس برس پہلے ہی پھانسی پر چڑھ چکی ہوتی اور جس نواز لیگ کے گرد اس وقت پوری سیاست گھوم رہی ہے وہ نواز لیگ آج سے انیس، بیس برس پہلے ہی جلاوطن ہوچکی ہوتی مگر پھانسی پانے والے بھٹو کا نواسا آج بھی اپنی ہوم گراﺅنڈ پر ٹرین مارچ کر رہا ہے اور جلاوطن ہونے والا نواز شریف آج بھی ہر اخبار کی شہ سرخیوں اور ہر چینل کے کرنٹ افئیرز کے پروگراموں میں سب سے زیادہ ڈسکس ہو رہا ہے۔ اگر سیاست بہتے ہوئے پانی کی طرح ہوتی جس میں انتخابات اور کارکردگی کی چھلنی ہوتی توصاف پانی اپنا رستہ بنا چکا ہوتا اور گندگی اس چھلنی سے کشید ہو چکی ہوتی مگر ہماری سیاست بہتا ہوا پانی نہیں ہے، اسے روکا جاتا ہے اور اس کے اوپر کائی جمادی جاتی ہے بظاہر یہ کائی بہت بھلی دکھائی دیتی ہے مگراس کی حقیقت ہم سب جانتے ہیں۔مجھے گواہی دینے میں عار نہیں کہ گزشتہ انتخابات میں بھی بہتے ہوئے پانی کا راستہ روکا گیا اور اس پر نئے پاکستان کی بھلی نظر آنے والی کائی جما دی گئی۔


ای پیپر