افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاءسے مشروط امن مذاکرات
27 مارچ 2018 (23:02) 2018-03-27

واشنگٹن کو جب سترہ سال کی جنگ لڑکر یقین ہوگیاکہ وہ یہ جنگ جیت نہیں سکتا تو اُس نے امن کی بات چیت زور وشور سے چھیڑ دی جس کے لےے مختلف فریقین کو آگے کیا جارہا ہے۔ 13مارچ کو امریکی وزیردفاع جنرل جیمز میٹس کے امن کے بارے میں بیان میں کہاگیا کہ طالبان کے بعض دھڑے امن کے لےے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ بیان انہوں نے کابل کے غیراعلانیہ دورہ سے پہلے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہی۔ افغان صدراشرف غنی کے مطابق ”طالبان کی طرف سے اس امر کا اظہار کیا گیا ہے کہ انہیں تبدیل ہوتے ہوئے حالات کا ادراک ہے اور وہ پُرتشدد کارروائیوں کے اپنے مستقبل کے لیے مضمرات کے بارے میں گفت وشنید پر آمادہ لگتے ہیں“۔ اب تصویرکا دوسرا رُخ دیکھتے ہیں، واشنگٹن طالبان سے براہ راست مذاکرات سے کیوں گریزاں ہے؟ طالبان سے مذاکرات امریکہ اپنی شرائط کے تحت کیوں کرنا چاہتا ہے؟ پہلاکابل پراسیس اور پھر دوسرا کابل پراسیس کامیاب کیوں نہیں ہورہا؟ برسوں پُرانے مطالبات جو امن کی راہ میں رکاوٹ تھے، نہیں مانے جارہے تھے، اب کیوں مانے جارہے ہیں؟ کیپٹن ٹام گریسبیک کا یہ تسلیم کرنا کہ ”جنگ صرف فوجی اقدامات سے نہیں جیتی جاسکتی طالبان مصالحت کرلیں“ چہ معنی دارد؟ امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کو اُن کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا۔ خاتون ”گیناہاسپل“ کو سی آئی اے کی سربراہ کیوں مقررکیا گیا؟ مائیک پومیو کا تقرر اور اس طرح کے بہت سے سوالات ٹرمپ انتظامیہ اور اشرف غنی انتظامیہ میں تبدیلی کی نئی لہر اور سوچ کے نئے زاویوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔


کابل انتظامیہ ہو یا واشنگٹن انتظامیہ، بات ایک ہی ہے لیکن واشنگٹن فی الوقت کابل انتظامیہ کے کندھے پر بندوق رکھ کر استعمال کررہا ہے تاکہ کل کو یہ کہا جاسکے کہ طالبان اورکابل انتظامیہ میں امن معاہدہ ہو گیا ہے اور واشنگٹن انتظامیہ نے اسی لےے کابل میں مداخلت کی تھی لہٰذا یہ مشن مکمل ہوا اور امریکہ کو باعزت واپسی کا موقع مل جائے گا، اس طتح جانے سے وہ جاتے ہوئے شکست کا داغ لے کر نہیں جائیں گے اور اپنے عوام کو بے وقوف بنائیں گے کہ ہم شکست خوردہ واپس نہیں آئے حالانکہ اصل حقائق ساری دُنیا جانتی ہے۔ سی آئی اے چیف اور وزیرخارجہ کی تبدیلی ٹرمپ مشینری کے اندر کے اختلافات کو واضح کررہی ہے۔ وائٹ ہاﺅس میں جوکچھ روزانہ ہورہا ہے یہ تبدیلیاں اور آنے والی تبدیلیاں اسی طرف اشارہ کررہی ہیں۔ بظاہر مہذب لیکن حقیقتاً غیرمہذب قوم اب افغانستان میں اخلاقی برتری کے جواز ڈھونڈ رہی ہے اور اشرف غنی کٹھ پُتلی حکومت بطورِ ”پپٹ“ استعمال ہورہی ہے۔ تھامس رٹنگ اور جیلینا بجیلیکا نے ان اقدامات پر یوں تبصرہ کیا ہے ”کابل یہ اقدام یک طرفہ طور پر اُٹھانے کی پیش کش واقعتا کرسکتا ہے کیونکہ اس طرح اسے اخلاقی برتری حاصل ہو جائے گی“۔

جنگ بندی میں پہل کون کرے گا؟ یہ عنوان ایک رپورٹ کا ہے جو ”اے این این“ یعنی ”افغان اینالسٹ نیٹ ورک“ نے حالیہ دنوں میں شائع کی ہے جس میں اشرف غنی کی امن مذاکرات کی پیشکش کی بہت تعریف کی گئی ہے اور اسے نائن الیون کے بعد سب سے بڑا قدم قراردیا جارہا ہے اور ایسا کیوں نہ ہوکہ یہ امریکہ کی بالواسطہ مددکا اہم قدم ہے جس میں غیرمحسوس طور پر یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ طالبان اب حملے بندکردیں جوکہ یقینا طالبان کی طرف سے جنگ بندی میں پہل ہو گی جس سے امریکہ یہ اخذ کرکے دُنیا کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرے گا کہ طالبان نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اے این این اپنی رپورٹ میں مزید لکھتا ہے کہ ” امن کی اس تجویزکی سب سے حیران کُن بات یہ ہے کہ اس میں جنگ بندی پر گفت وشنید کرنے کا کہا گیا ہے اور جنگ بندی کے حوالے سے یہ بات واضح طور پر نہیں کہی گئی کہ اشرف غنی طالبان کی جانب سے پہلے قدم اُٹھانے کی توقع رکھتے ہیں یا کابل آگے چل کر کسی وقت جنگ بندی میں پہل کرے گا“ اسی لےے رٹنگ اور جیلینا نے لکھا ہے کہ ”یہ تجویز ہنوز امن کا منصوبہ نہیں“۔


28فروری 2018ءبروز بدھ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منعقد ہونے والی 25 ملکوں اور تنظیموں کی کانفرنس کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے امن کے لےے مذاکرات کے اس منصوبے کو پیش کیا جسے ”دوسرا کابل پروسیس“ کا عنوان دیا گیا۔ اشرف غنی کے اس امن مذاکرات کی پیشکش میں کئی ایک معاہدے اور پیشکشیں شامل ہیں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکی افواج کا افغانستان سے انخلاءہو جائے گا یہ ہی اصل سوال ہے جو مشکوک ہے۔ امن معاہدہ تو اس صورت میں قابلِ قبول ہو گا کہ امریکی افواج کا افغانستان سے فوری انخلاءسب سے پہلا نکتہ ٹھہرے اور طالبان کا بھی بڑا مطالبہ یہ ہی ہے کہ امریکی فوج کا انخلاءفوری ہو جبکہ دوسری طرف اشرف غنی اور امریکہ کو بھی پتہ ہے کہ امریکہ اور اتحادیوں کے نکل جانے کے بعد قبضہ پھر سے طالبان کا ہو جائے گا جوکہ اب بھی افغانستان کے70فیصد علاقے میں متحرک ہیں بلکہ ٹیکس بھی وصول کررہے ہیں تو بات پھر وہاں تک ہی آجاتی ہے کہ امریکہ امن بھی اپنی شرائط کے تحت چاہتا ہے یعنی ”ظلم رہے اور امن بھی ہو“۔ اپنی طرف سے اشرف غنی نے ایک بڑا قدم اُٹھایا ہے بلکہ28 فروری کو امن مذاکرات کی پیشکش کرنے کے فوراً بعد ایک بڑے نیوز چینل کی ”کرسٹینا امان پور“ سے گفتگو کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہا کہ ”ہم امن کی ایک جامع ڈیل کی پیش کش کررہے ہیں تاکہ اسے مسترد نہ کیا جاسکے، اگر انہوں (طالبان) نے اسے ردّ کردیا تو اس کے نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے“۔ اشرف غنی کن نتائج سے ڈرا رہے ہیں اُن سے جو وہ ستر سال سے بھگت رہے ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ اشرف کے منہ میں زبان امریکی ہے یا بھارتی۔

امریکی مفادات کا تحفظ کرنے والے یقینا امریکی آشیرباد سے ہی امن مذاکرات کا راگ آلاپ رہے ہیں تو اگر امریکہ کو امن ہی مقصود ہے تو اُس نے ابھی فروری میں مزید فوج کیوں بھیجی؟ اور پاکستان سے ڈومور ڈومور کی رٹ کیوں لگائی؟ بھارت کو افغانستان میں کردار سونپنے کی بات کیوں کی۔ یقینا امریکہ فوج کی ایک مخصوص تعداد اور فوجی اڈے افغانستان میں رکھ کر طالبان سے امن مذاکرات کی راہ ہموارکرنا چاہتا ہے یعنی تلوار کی نوک پر امن مذاکرات اور یہ بات تو اب طے ہے کہ امریکہ افغانستان سے کسی صورت نکلنا نہیں چاہتا، یہاں رہ کر وہ ایشیا کے لےے واچ ڈاگ کا کردار ادا کرسکتا ہے اور ایشیا کو کُلی طور پر روس اور چین کے حوالے کر کے نہیں جانا چاہتا جبکہ افغانستان میں رہ کر وہ سی پیک سمیت پاکستان، ایران، چین، شاہراہ ریشم پر نظر رکھ سکتا ہے۔ یہاں سے نکل کر اُس کی عالمی تھانیداری متاثر ہوتی ہے، اُس کے عالمی کردار پر اُنگلی اُٹھتی ہے اور افغان جنگ میں شکست کا داغ الگ سے اُس کے ماتھے کا جھومر بنتا ہے۔

میں نہیں سمجھتا کہ طالبان اس لنگڑے امن مذاکرات کو قبول کریں گے۔ 25ملکوں کی اس کانفرنس میں شرکاءنے دو سال پہلے افغان حکومت اور گلبدین حکمت یار کی قیادت میں افغان حکومت کی مخالفت میں سرگرم حزب اسلامی کے درمیان ہونے والے ایک ایسے ہی معاہدے کا حوالہ دیا اور طالبان پر زور دیا کہ وہ متحدہ قومی حکومت کے ساتھ سیاسی عمل میں شریک ہوں لیکن گلبدین حکمت یارکے وقت حالات کا دھارا ذرا مختلف تھا جبکہ اب حالات کا رُخ کچھ اور ہے اور اس سال افغانستان میں انتخابات بھی ہونے جارہے ہیں جبکہ یہی عمل پاکستان میں بھی دُہرایا جائے گا۔ پاکستان اور خصوصاً افغانستان کے انتخابات میں امریکی اثرونفوذ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، کوشش کی جائے گی کہ پاکستان میں ایسی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے جو امریکی ڈومورکا مطالبہ پورا کرسکے اور افغانستان میں ایسی حکومت کا قیام جو طالبان سے مفاہمت کر کے امریکی اڈوں اور محدود فوج سمیت طالبان کو راضی کرسکے کیونکہ افغان چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ترجمان جاوید فیصل نے ایشیا ٹائمزکے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ”غیرملکی فوجیوں کی کثیر تعداد پہلے ہی ملک سے جاچکی ہے اور جو غیرملکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں وہ افغان فوج کی استعداد بڑھانے کی غرض سے ہیں۔ چاہے جنگ ہو یا نہ ہو، طالبان شورش ہو یا نہ ہو، ایک بھی گولی فائر نہ ہو تب بھی ہمیں اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لےے اپنی فوج کو تربیت دینے کی ضرورت ہے“۔


یعنی موجودہ افغان حکومت سوفیصد اس حق میں ہے کہ امریکی اپنے فوجی اڈوں سمیت یہاں قیام کریں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو امریکی17سال تک یا 79ءسے اب تک پینتیس، چالیس سال میں افغان فوج کی تربیت مکمل نہ کرسکے، اُن سے تربیت لینے کا کیا فائدہ؟ درحقیقت یہ تربیت نہیں بلکہ ”ترغیب“ ہے کہ امریکی فوجی کسی نہ کسی بہانے افغانستان میں رہیں جبکہ امریکی فوج کا قیام کسی صورت پاکستان اور ایشیاکے حق میں نہیں ۔ جبرواستبداد، مکاری اور عیاری کی جس شکل کو امریکی اپنا کر جس راستے پرگامزن ہیں وہ سراسر ایشیا اور خصوصاً پاکستان کے خلاف ہے۔ سٹیوکول کی لکھی ہوئی کتاب جلد ہی مارکیٹ کی زینت بننے والی ہے۔ اس کتاب میں امریکی شکست کی تمام ذمہ داری پاکستان پر ڈالی گئی ہے یا دوسرے لفظوں میں آئی ایس آئی کو افغانستان میں امریکی شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان ایک خانہ جنگی میں مبتلا ملک ہے جہاں مختلف دھڑے اور منظم گروپ موجود ہیں جو اپنے اپنے مفادات سے وابستہ ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔

اسی طرح سے مغربی ممالک اورکچھ ایشیائی ممالک بھی اپنے اپنے مفادات رکھتے ہیں مثلاً مشرقی علاقوں کے طالبان دھڑے چین کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے کیونکہ مشرقی علاقوں میں تیل اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں اور چین اس کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ فرانس اور جرمنی کے ساتھ شمالی اتحاد کے پُرانے مراسم ہیں جن کو یہ اپنے مفادات کے لےے استعمال کرتے ہیں۔ روس اپنے مطلب کے لےے افغانستان سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ امریکہ کی ضد میں یہاں اسلحہ بھی سپلائی کررہا ہے۔ ہرات اور جنوب مغربی افغانستان میں طالبان کو ایران کی حمایت حاصل ہے جبکہ پاکستان اپنی بقاءکی جنگ لڑرہا ہے کہ کہیں یہ جنگ پاکستان میں منتقل نہ ہو جائے لہٰذا امن مذاکرات کے لےے ان تمام طالبان دھڑوں کو رابطے میں لانا ہوگا جس میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی ابھی تک کامیاب نظر نہیں آتے۔ زبانی امن مذاکرات کی دعوت کچھ اور چیز ہے جبکہ افغانستان کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر امن کے لےے کوششیں کرنا کچھ اور چیز ہے۔ اگر اشرف غنی امریکی فوج کو اڈے دے کر یہاں رکھ کر امن کی آشا رکھتا ہے تو یہ خام خیالی ہے کیونکہ قطر میں قائم افغان طالبان کے سرکاری دفتر سے طالبان کے جاری کردہ بیان کے مطابق ”ہمارا (طالبان) مذاکرات میں شریک ہونا تمام امریکی فوجوں کے انخلاءکے بعد ہی ممکن ہوسکے گا“۔


ای پیپر