موجودہ حالات میں چیف جسٹس کا وزیراعظم سے ملنا بہت سے شکوک وشبہات کو جنم دیتا ہے، خورشید شاہ
27 مارچ 2018 (22:53)

اسلام آباد:پیپلزپارٹی کے سینئررہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف جسٹس ثاقب نثار کے درمیان ملاقات معمول کی بات ہے ، ہمارے دور میں بھی ایسی ملاقاتیں ہوئیں ، اس وقت متعدد کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں ، ان حالات میں چیف جسٹس کا وزیراعظم سے ملنا بہت سے شکوک وشبہات کو جنم دیتا ہے ، ، نوازشریف نے مجھ سے کہا تھا کہ مجھ سے میمو گیٹ والی غلطی ہوئی اور یہ غلطی مجھ سے کروائی گئی ، سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان ملاقات طے تھی جسے بعد ازاں منسوخ کردیا گیا، اس بات پر نہ تو معذرت کی گئی اور نہ ہی وجہ بیان کی گئی، نوازشریف نے پرائیویٹ پارٹی میٹنگ میں یہ بات کہی کہ خورشید شاہ نے پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر جو بات کہی تھی کہ چوہدری نثار میری پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں وہ درست ثابت ہوئی۔

 

منگل کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف جسٹس ثاقب نثار کے درمیان ملاقات معمول کی بات ہے ، ہمارے دور میں بھی ایسی ملاقاتیں ہوئیں ، اس وقت متعدد کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں ، ان حالات میں چیف جسٹس کا وزیراعظم سے ملنا بہت سے شکوک وشبہات کو جنم دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا پیپلزپارٹی سے تعلق اور ہمارا مسلم لیگ (ن) سے تعلق واضح ہے ، نوازشریف نے مجھ سے کہا تھا کہ مجھ سے میمو گیٹ والی غلطی ہوئی اور یہ غلطی مجھ سے کروائی گئی ، ماضی میں سابق صدر آصف زرداری نوازشریف کو وزیراعظم تسلیم کرنے ان کے گھر سے گئے ،نوازشریف اور ہمارے درمیان ایک میٹنگ طے ہوئی جس میںلنچ بھی شامل تھا مگر بعد میں ایک عام آدمی کے ذریعے ہمیں اطلاع دی گئی کہ لنچ منسوخ کردیا گیا ہے ، اس منسوخی کے بارے میں نہ تو معافی مانگی گئی اور نہ ہی وجہ بیان کی گئی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ نوازشریف آج نظریاتی آدمی ہیں تو پہلے وہ کیا تھے؟ نوازشریف کے قدم اپنی نااہلی کرانے کےلئے عدالت گئے تھے ، بلوچستان میں نئی پارٹی کا اضافہ خوش آئند ہوگا ، وزیراعظم کا چیئرمین سینیٹ کےلئے بیان مناسب نہیں ہے ،پیپلزپارٹی نے نوازشریف کی جانب سے روا رکھا گیا سلوک بھلا دیا ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ جون2018تک ڈالر 120روپے سے122روپے تک جائے گا، میں (این ڈی ایم اے) کی میٹنگ میں شرکت کے لئے جا رہا ہوں ، آج ہمارا قرضہ22کھرب ڈالر ہے ، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے چار برس میں 8ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا ، ڈالر کی قیمت مستحکم کرنے کے لئے حکومت قرضے لے گی ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ نگران وزیراعظم کے نام کےلئے ابھی بات نہیں ہوئی، سابق ڈی جی انٹیلی جنس بیورو ڈاکٹر شعیب سڈل سے ملاقات کسی قانون سازی کےلئے ہوئی ، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹواور آصف علی زرداری سے کہا ہے کہ نگران وزیراعظم کےلئے ایک کور کمیٹی بلائیں، عدالت نے عمران خان کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ انسانی بنیادوں پر نوازشریف کو بھی اہلیہ کی عیادت کےلئے باہر جانے کی اجازت دینی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو باہر جانے سے روکنے کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا ۔

 

پی پی پی کےلئے الگ معیار ہیں اور شریف فیملی کےلئے الگ،پی پی پی رہنما شرجیل میمن، مریم نواز اور حسین نواز کی مثال آپ کے سامنے ہے ، میرا چوہدری نثار اور نوازشریف کی لڑائی سے کوئی تعلق نہیں ، میرا اپنی پارٹی سے تعلق ہے ، نوازشریف نے پرائیویٹ پارٹی میٹنگ میں یہ بات کہی کہ خورشید شاہ نے پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر جو بات کہی تھی کہ چوہدری نثار میری پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں وہ درست ثابت ہوئی ، نوازشریف نے اس بات کا اعتراف کیا کہ میموگیٹ آصف زرداری کے خلاف عدالت جا کر میں نے غلط کیا اور یہ کام مجھ سے کروایا گیا۔انہوں نے کہا کہ این آر او بہت برا لفظ ہے ، ہم نے این آر او کر کے ملک کی ایک جنرل سے جان چھڑائی او مورخ لکھے گا کہ بینظیر ایک عظیم سیاستدان تھیں ۔

 

ہم نے بغیر ہتھیار کے اور خوان خرابے کے جنگ جیت لی ، جنرل مشرف کے دور میں نوازشریف کی وطن واپسی کا راستہ بینظیر بھٹو نے کھولا ، نوازشریف نے جان بچانے کےلئے این آر او کیا جبکہ بینظیر بھٹو نے ملک واپس آنے کےلئے این آر او کیا ، بینظیر کو بار بار ملک واپسی سے روکا گیا کہ ان ی جان کو خطرہ ہے ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ہم ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں ، پیپلزپارٹی کی جمہوریت کے لئے بے پناہ قربانیاں ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ ادارے چلیں اور ایک دوسرے میں مداخلت نہ کریں ، کراچی میں ریٹائر جج عدالت لگاتا ہے اور تمام بیورو کریسی اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے ، کیا پنجاب میں ایسا ہوتا ہے ، سندھ میں پولیس مقابلوں کے بارے میں اطلاعات ہیں جبکہ پنجاب میں جعلی پولیس مقابلوں کے ثبوت ہیں ۔ اللہ کرے کہ اداروں میں تعاون کے معاملے پر وزیراعظم نے چیف جسٹس سے ملاقات کی ، یہ ملاقات خوش آئندہ ہے ، عدالت عدالتی معاملات کو دیکھے ، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت اپنے معاملات دیکھے ، اگر حکومت کوئی غیر آئینی کام کرتی ہے تو عدالت سوموٹو ایکشن لے ۔


ای پیپر