پی ٹی آئی کی سرگرم کارکن فوزیہ قصوری کے تحریک انصاف بارے سنسنی خیز انکشافات

27 مارچ 2018 (21:48)

لاہور : تحریک انصاف کی سرگرم کارکن فوزیہ قصوری کے بیان نے پی ٹی آئی حلقوں میں ہلچل مچا دی ۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے سیاسی نظریے سے ہٹتی نظر آرہی ہے ،مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مقابلے میں پی ٹی آئی کو سنگین خطرات در پیش ہیں کیونکہ اس کا مستقبل ایک شخص سے جڑا ہے ۔


تفصیلات کے مطابق فوزیہ قصوری نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ تحریک انصاف میں جمہوریت کا نظام موجود نہیں جس اس پارٹی کیلئے سب سے خطرناک بات ہے ۔ فوزیہ قصوری نے لکھا کہ پارٹی کے حامیوں نے اس لیے ہماری حمایت کی کیوں کہ پارٹی چیئرمین نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پی ٹی آئی کو شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کی طرح ادارہ بنائیں گے، جب الیکٹوریٹ نے خیال کیا کہ پی ٹی آئی غریب اور متوسط طبقے کی جماعت ہے تو ہم نے دیگر سیاسی جماعتوں سے مفاد پرستوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا شروع کردیا۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ قیادت یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ 2013 کے انتخابات میں کامیابی کے لیے یہ سیاست دان ضروری ہیں لیکن اندرونی اختلافات کے باعث پارٹی 2013 کا الیکشن ہار گئی۔ فوزیہ قصوری نے یہ بھی لکھا کہ پی ٹی آئی کو ایک ادارہ بنانے میں ناکامی نے ملک بھر میں کارکنوں کو بد دل کیا، پنجاب میں پیپلز پارٹی اور سندھ میں ایم کیوایم کے خلا کو پر کرنے میں ناکامی نے معاملات مزید خراب کیے۔ ایک ایسی قیادت جس کی زیادہ تر سیاسی حکمت عملی کا دارومدار عدلیہ پر ہے، اس نے اپنی پارٹی کے آئین کو مکمل نظرانداز کیا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ کی فراہمی سے پارٹی پوزیشنز تک ہر چیز کا فیصلہ فرد واحد کرتا ہے اور اس کے لیے مرکزی مجلس عاملہ کو ربر اسٹیمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

فوزیہ قصوری نے کہا کہ بنی گالہ کے ان دربانوں کی جانب عمران خان کا جھکائو کسی بھی طرح پارٹی کے مفاد میں نہیں۔ عمران خان کو اب سمجھنا ہوگا کہ ان ارب پتی افراد نے فراہمی انصاف کے لیے کھڑی کی گئی ہماری تحریک کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ فوزیہ قصوری کا مضمون میں مزید کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ کہ ہم کون ہوتے ہیں کہ ووٹرز کو اس بات پر راضی کریں کہ وہ پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو اپنائے جب کہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ بے ہنگم ہجوم کی طرح سیاسی مخالفین کی کردار کشی کریں، ہمیں ایک ادارہ بنانا تھا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پی ٹی آئی اب ایک شخصیت کے گرد موجود گروہ ہے۔

مزیدخبریں