امریکہ نے 62 سالہ پاکستانی بزرگ خاتون کو دربدر کردیا
27 مارچ 2018 (17:27) 2018-03-27

مشی گن:13سال سے امریکا میں رہائش پذیر پاکستانی خاتون ملک بدری کے احکامات کے بعد چرچ پر رہنے پر مجبور ہوگئیں۔62سال کی پاکستانی ماں کو امریکا چھوڑدینے کے احکامات ملے تھے جس کے بعد مشی گن کے ایک چرچ نے انہیں پناہ دینے کا اعلان کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق بزرگ پاکستانی خاتون شاہدہ نعیم 12 مارچ سے چرچ میں مقیم ہیں۔ شاہدہ نعیم 40سال پہلے پاکستان سے کویت منتقل ہوئی تھیں جہاں وہ گھروں میں کام کرتی تھی تاہم تیرہ سال پہلے وہ نان امیگرینٹ ویزے پر امریکا آئی تھیں۔اب انہیں امریکا چھوڑنے کا حکم دیا جاچکا ہے اور وہ مشی گن کے چرچ میں پناہ گزین ہیں۔مشی گن میں واقع چرچ ان سیکڑوں گرجا گھروں میں سے ایک ہے جو ملک بدری کے احکامات کا سامنا کرنے والے افراد کو پناہ دیتا ہے۔کالامازو کے فرسٹ کانگریگیشنل چرچ کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ پاکستانی خاتون چرچ میں پناہ لی ہوئی ہیں کیوں کہ انہیں ملک بدری کا سامنا ہے۔

شاہدہ نعیم نے کہا کہ امیگریشن حکام نے مجھے پاکستان واپس جانے کا کہا لیکن میں چرچ آگئی۔انہوں نے مزید کہا کہ میں پاکستان واپس نہیں جاسکتی، میرا خاندان، میرا بیٹا یہاں ہے، میں نے اپنی بیٹی کو یہاں کھودیا، اس نے یہیں تعلیم حاصل کی اور یہیں اس کا انتقال ہوا، میں ہر روز اس کی قبر پر جاتی ہوں، لیکن جب سے میں چرچ میں آئی ہوں قبر پر نہیں جاسکی۔

62سالہ شاہدہ نے کہا کہ میں اپنی بیٹی کو نہیں دیکھ سکتی اور اب اس کی قبر پر جانے سے بھی مجھے محروم کردیا گیا ہے، میری خواہش ہے کہ مجھے اس کے برابر میں دفن کیا جائے۔چرچ حکام کا کہنا ہے کہ وہ دیگر افراد کی طرح شاہدہ نعیم کے معاملے میں بھی قانونی ماہرین اور ان سیاستدانوں سے رابطے میں ہیں جو اس کام میں ان کی حمایت کرتے ہیں تاکہ کوئی قانونی راستہ نکالا جاسکے۔


ای پیپر