لندن فلیٹس ریفرنس،مریم نواز کی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی نکلیں
27 مارچ 2018 (16:48) 2018-03-27

اسلام آباد : احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نوازشریف،مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف لندن فلیٹس ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ واجد ضیا نے بیان مکمل کر لیا،واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز نے دو ٹرسٹ ڈیڈ جمع کرائیں جو فرانزک ٹیسٹ کے بعد جعلی نکلیں ۔عدالت نے نیب کیجانب سے مزید تین اضافی دستاویزات ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست منظور کر تے ہوئے قطری شہزادے کے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط کو ریکارڈ کا حصہ بنادیا۔عدالت نے مزید کیس کی سماعت کل بدھ دوپہر 12بجے تک ملتوی کر دی ۔بدھ کو وکیل صفائی واجد ضیا کے بیان پر جرح کریں گے۔

منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے نوازشریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی ، استغاثہ کے آخری گواہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا نے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ نیلسن، نیسکال اورکومبرسمیت دیگرکمپنیوں کی ٹرسٹ ڈیڈپرنوازشریف،حسن اورحسین نوازکے دستخط ہیں تینوں ملزمان نے جے آئی ٹی کے سامنے بھی غلط بیانی کی ،مریم ٹرسٹی اورکیپٹن صفدرنے بطورگواہ دستخط کئے ،، لندن فلیٹ زمانہ طالب علمی میں حسین نوازکی ملکیت تھے امجد پرویزنے حسین نوازکے لندن میں موجود نہ ہونے اورگواہ کے دستاویزات دیکھ کرپڑھنے پراعتراض اٹھایا اورکہاکہ جے آئی ٹی میں ملزمان کا بیان تسلیم نہیں کیا جاسکتا گواہ عمران خان نیازی کا بیان ریکارڈ کئے بغیردستاویزات کا متن اپنے الفاظ میں پیش کررہے ہیں،2006آف شور کمپنیز سے متعلق قانون سازی کا اہم سال تھا،نئی قانون سازی کے بعد بیئیرر شیئرز کی ملکیت چھپانا ممکن نہیں تھا، سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی نیلسن اور نیسکول کی ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپی فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھجوائی گئی.

ریڈلے کی رپورٹ کے بعد جے آئی ٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے، جے آئی ٹی کی طرف سے مریم نواز کو طلب کیا گیا، واجد ضیا نے بیان میں کہا کہ مریم نواز نے دو ٹرسٹ ڈیڈ جمع کرائیں جو بقول ان کے اصلی تھیں،فرانزک ٹیسٹ کے بعد جے آئی ٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ٹرسٹ ڈیڈ بھی جعلی ہیں،مریم،حسین اور کیپٹن ر صفدر نے جعلی دستاویزات پر دستخط کرکے سپریم کورٹ میں پیش کیں،حسن نواز نے بھی ٹرسٹ ڈیڈ کی یہی کاپیاں عدالت میں پیش کیں،حسن نواز نے بھی ٹرسٹ ڈیڈ کی یہی کاپیاں عدالت میں پیش کیں،حسن اور حسین نواز کی طرف سے اسٹیفن موورلے سے لی گئی قانونی رائے جامع نہیں تھی، واجد ضیا نے کہا کہ مورلے نے ٹرسٹ ڈیڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات کو دیکھے بغیر رائے دی.

مورلے کی رائے کے مطابق ٹرسٹ ڈیڈ کی رجسٹریشن ضروری نہیں تھی،درخواست گزار عمران خان کی طرف سے جمع کرائی گئی قانونی رائے تفصیلی تھی،گیلارڈ کاپر نے ٹرسٹ ڈیڈ اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد رائے تحریر کی ، حسین اور مریم نواز کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات میں بیئرر شیئرز مریم کی تحویل میں ہونے کا ذکر نہیں، نیب نے تین اضافی دستاویزات جمع کراتے ہوئے استدعا کی کہ برٹش ورجن آئی لینڈ،اٹارنی جنرل پاکستان اورقطری شہزادے کا خط بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے،،مریم نواز کے وکیل نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کے آخری مرحلے پرنیب کواضافی دستاویزات یاد آگئیں جج محمد بشیر نے بھی 19 جون کا خط پیش کرنے کی وجہ پوچھی تو واجد ضیا نے کہاکہ سپریم کورٹ کی ہدائت پرلیٹرجاری ہوا جس میں برٹش ورجن آئی لینڈ سے رابطے کا اختیار دیا گیا دلائل سننے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سناتے ہوئے عدالت نے اضافی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی نیب کی درخواست منظور کر لی عدالت نے قطری شہزادے کے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط کو ریکارڈ کا حصہ بنادیا۔ برٹش ورجن آئی لینڈ اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کے خط کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنادیا گیا۔ عدالت نے مذید کیس کی سماعت کل بدھ12بجے تک ملتوی کر دی۔


ای پیپر