سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث کرکٹر محمد آصف کو پھر رسوائی کا سامنا
27 مارچ 2018 (15:43)

 دبئی :اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا یافتہ فاسٹباﺅلر محمد آصف نے اپنی سزا تو پوری کرلی ہے لیکن ان کا ستارہ بدستور گردش میں دکھائی دے رہا ہے اور وہ مسائل اور مشکلات سے باہر نہیں آ پا رہے۔ محمد آصف کو گذشتہ دنوں دبئی میں اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں دبئی ایئرپورٹ سے ڈی پورٹ کردیا گیا اور وہ چند گھنٹے ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام کی حراست میں رہنے کے بعد شارجہ میں ٹیپ بال ٹورنامنٹ کھیلے بغیر وطن واپس آگئے۔واضح رہے کہ محمد آصف 10 سال قبل آخری مرتبہ دبئی گئے تھے۔ پرانے کیس کی وجہ سے 10 سال کے دوران انہوں نے متحدہ عرب امارات کا سفر کرنے سے گریز کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 2007 میں محمد آصف کو دبئی ایئرپورٹ پر اس وقت پولیس نے حراست میں لیا تھا، جب ان کی جیب سے منشیات برآمد ہوئی تھی۔ محمد آصف آئی پی ایل کھیل کر وطن واپس آرہے تھے، تاہم اس وقت تلاشی کے دوران ان کی جیب سے افیون برآمد ہوئی تھی۔ وہ 2 ہفتے دبئی پولیس کی حراست میں رہے تاہم اس قت کے چیئرمین پی سی بی ڈاکٹر نسیم اشرف نے شاہی خاندان سے اپنے تعلقات کی بنا پر انہیں رہائی دلوائی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد آصف نے شارجہ میں ایک ٹیپ بال ٹورنامنٹ کھیلنے کا معاہدہ کیا تھا تاہم جب وہ لاہور ایئرپورٹ سے دبئی ایئرپورٹ پر اترے تو اسکیننگ کے دوران انہیں امیگریشن حکام نے دبئی میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔ اس دوران وہ امیگریشن حکام کی حراست میں رہے اور بعدازاں انہیں ڈی پورٹ کرکے پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔

محمد آصف ڈی پورٹ ہونے کی وجہ سے ٹورنامنٹ میں بھی شرکت نہیں کرسکے۔ محمد آصف سے رابطہ کیا تو انہوں نے ڈی پورٹ ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ انہیں دبئی جانے کے لیے اسپیشل ویزہ درکار تھا اور منتظمین نے ان کا نام کلیئر کرا کر انہیں ویزہ دلایا تھا۔ محمد آصف کے مطابق جب میں دبئی پہنچا تو مجھ سے وزارت خارجہ کا لیٹر مانگا گیا، جو کہ ابوظہبی سے ملنا تھا۔انہوں نے بتایا کہ میری کلیئرنس ہونے کے بعد مجھے ویزہ ملا تھا لیکن لیٹر نہ ہونے کی وجہ سے مجھے متحدہ عرب امارات میں داخل ہونے کی اجازت نہیں مل سکی۔


ای پیپر