گندگی!
27 مارچ 2018

کاش عمران خان کو یہ احساس ہوتا بدنام زمانہ ایک ٹی وی اینکر اور خودساختہ مذہبی رہنما کو اپنی جماعت میں شامل کروانے کا دباﺅ قبول کرنے سے اُنہیں اور اُن کی جماعت کو کتنا نقصان ہوگا؟ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے ضمیر کا دباﺅ دوسرے” دباﺅں“ کے مقابلے میں اب کم ہوتا جارہا ہے۔ یا پھر ممکن ہے اُنہوں نے سوچا ہو پانامہ کیس میں سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کو عوامی طورپر کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا اور کرپشن پسند عوام نے سابق وزیراعظم کی کرپشن کو اتنی اہمیت نہیں دی تو ”منافقت پسند عوام“ اپنے جیسے ایک اینکر یا خودساختہ مذہبی رہنما کی پی ٹی آئی میں شمولیت کو کیوں خاطر میں لائیں گے؟۔ عمران خان کے نزدیک دیگر خرابیاں یا برائیاں شاید اتنی اہمیت نہیں رکھتیں جتنی کرپشن وغیرہ رکھتی ہے، منافقت ، جھوٹ، ریاکاری، دین فروشی اور کہہ مکرنی اُن کے نزدیک کرپشن کے مقابلے میں شاید بہت معمولی اہمیت کی حامل خرابیاں ہیں۔ ہوسکتا ہے یہی بات ایک بدنام زمانہ اینکر اور خودساختہ مذہبی رہنما کو اپنی جماعت میں شامل کروانے کا دباﺅ قبول کرتے ہوئے انہوں نے پیشِ نظر رکھی ہو۔ اُنہوں نے سوچا ہو عامر لیاقت حسین کی کوئی مالی کرپشن آج تک سامنے نہیں آئی۔ فرض کرلیں وہ مالی طورپر بھی کرپٹ ہو، اُس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ تحریک انصاف میں ایسے بے شمار لوگ پہلے ہی اُنہیں چمٹے ہوئے ہیں، اپنی شدید ترین خواہش کے باوجود وہ اُن سے جان اِس لیے چھڑا نہیں پارہے وہ اس حقیقت کو دِل سے تسلیم کرچکے ہیں پاکستانی سیاست میں اِس ”ٹولے“ کے بغیر منزل حاصل کرنا، یا کم ازکم اقتدار کی منزل حاصل کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ پہلے یہ اعتراض کیا جاتا تھا عمران خان کو سیاست نہیں آتی۔ اب آہستہ آہستہ اُنہیں سیاست آتی جارہی ہے اور اُس کے مطابق منافقت بھی آتی جارہی ہے، اور اخلاقی تقاضوں سے وہ الگ ہوتے جارہے ہیں تو اِس پر بھی اعتراض کیا جارہا ہے۔ دنیا کسی حال میں جینے نہیں دیتی، پر دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پوری طاقت کے ساتھ قائم ودائم رہے گی وہ عامرلیاقت حسین کو اپنی جماعت میں شامل کروانے کا دباﺅ قبول کرنے جیسی کتنی حماقتیں بھی کرلیں، دوسرے تمام سیاستدانوں سے دنیا اُنہیں بہتر ہی سمجھے گی۔ بڑی بڑی مہلک اور ناقابل علاج سیاسی بیماریوں کے مقابلے میں وہ ایک چھوٹی اور قابل علاج بیماری ، ناقابل علاج کینسر کے مقابلے میں اُنہیں زیادہ سے زیادہ قابل علاج ملیریا ہی سمجھا جائے گا۔ خصوصاً یہ کوئی نہیں کہہ سکتا اِس ملک کو وہ ٹوٹ کر نہیں چاہتے ۔ اُن کے بدترین دُشمن بھی یہ تصور نہیں کرسکتے پاکستان کے مفاد کے خلاف کسی اقدام کی وہ حمایت کریں گے یا دانستہ طورپر اُس کا حصہ بنےں گے، جبکہ اُن کے مقابلے پر جو نااہل اور بددیانت سیاستدان پورے جوش و تکبر کے ساتھ میدان میں اُترے ہوئے ہیں اُن کے دوست بھی اب برملا یہ اعتراف کرتے ہیں اُنہیں صرف اقتدار عزیز ہے۔ اِس مقصد کے لیے ملک دُشمنی کی کسی حدتک بھی وہ جاسکتے ہیں، جیسا کہ اُن کے کچھ ”اعمال“ یہ ثابت بھی کرتے ہیں، خاص طورپر قومی اداروں کی مسلسل تذلیل کا جو طریقِ کار اُنہوں نے اپنا رکھا ہے ملکی مفاد کو اُس سے شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ اُن کا یہ بیانیہ درست ہے ہماری عدلیہ کی تاریخ یا ماضی بھی صاف ستھرا نہیں، مگر جتنی کرپشن اِ س ایک خاندان نے گزشتہ چند برسوں میں کی، عدلیہ کی کرپشن یا دیگر خرابیاں اُس کے مقابلے آٹے میں نمک کے برابر بھی شاید نہ ہو، عدلیہ کی پوری تاریخ کی کرپشن ترازو کے ایک پلڑے میں ڈال دی جائے اور دوسرے پلڑے میں شریف خاندان اور زرداری کی پچھلے چند برسوں کی کرپشن ڈال دی جائے اُن کا پلڑا یوں نیچے گرے گا جیسے خود دنیا کی نظر میں وہ گرچکے ہیں،....وہ الزام لگاتے ہیں عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ میرے نزدیک یہ اُن کا الزام نہیں اعتراض ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کا حق صرف ہمیں حاصل ہے، عمران خان یہ حق حاصل کرنے والا کون ہوتاہے؟ اسٹیبلشمنٹ جب اُنہیں اقتدار میں لے کر آتی ہے اُنہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا، لیکن اُن کا اقتدار چھیننے لگتی ہے اُن کی حالت غیرہوجاتی ہے۔ وہ اِس حقیقت کو سمجھنے سے مستقل طورپر قاصر ہوچکے ہیں جواقتدار میں لے کر آتاہے وہ اقتدار چھین بھی سکتا ہے ،.... یہ حقیقت عمران خان کو بھی تسلیم کرنی چاہیے، مگر وہ شاید اِن دنوں اِس کے برعکس اِ س حقیقت پر زیادہ یقین رکھنے لگے ہیں کہ اقتدار صرف اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یا پھر اب وہ شاید خود اُس عوام کے زور پر اقتدار حاصل نہیں کرنا چاہتے جو منافقت اور کرپشن پسندی میں اپنی مثال آپ ہے، یہ الگ بات ہے ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی دودھ کی دُھلی نہیں ہے۔ ہردولعنت ہے۔ صرف ایک ہی راستہ اس ملک کو عظمتوں اور ترقیوں پر لے جاسکتا ہے۔ وہ کڑے اور بلاتفریق احتساب کا راستہ ہے، یہ راستہ ہر اُس شخص کو دکھایا جانا چاہیے جس نے اس ملک کے قومی خزانے یا وسائل کو باپ دادا کا ناجائز مال سمجھ کر لوُٹا ۔ جائز مال باپ دادے کا بھی ہو اُس کی قدر ہوتی ہے، حرام کے مال کے بارے میں ہم سنا کرتے تھے یہ جیسے آتا ہے ویسے نکل جاتا ہے۔ مگر اب پاکستان کے کچھ سیاستدانوں، ججوں، جرنیلوں، افسروں حتیٰ کہ جرنلسٹوں کے پاس حرام کا پیسہ آکر نہ صرف ٹھہر گیا ، بلکہ اس میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مجھے یقین ہے اُن کی کئی نسلوں کو کم ازکم مالی مسئلہ کوئی نہیں ہوگا۔ پہلے ہم سنتے تھے حرام کا پیسہ بیماریوں پر لگ جاتا ہے اب کچھ عدالتوں اور اِدھر اُدھر بھی لگ جاتا ہے ، جس سے آسانیوں کے کئی دروازے کھل جاتے ہیں۔ عرض یہی ہے جب تک سب کا کڑا اور بلاتفریق احتساب نہیں ہوتا، بات بننے کے بجائے مزید بگڑتی جائے گی، المیہ یہ ہے کوئی ادارہ یا شخصیت ایسی دکھائی نہیں دیتی جس کے بارے میں اِس ملک کو ٹوٹ کر چاہنے والے پورے یقین سے کہہ سکیں وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر صرف اور صرف اِس ملک کے مفادات کا سوچتے ہیں، یہ تاثر جن قومی اداروں اور شخصیات سے جُڑا ہوا ہے اُنہیں اِس کی لاج رکھنی چاہیے ورنہ اُن کے کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں بچے گا ، .... جہاں تک ڈاکٹر بلکہ مریض عامر لیاقت کا تعلق ہے، اُس کے بارے میں زیادہ کیا بات کروں؟۔ وہ ہرقسم کی عزتوں اور ذلتوں کے احساس سے مکمل طورپر عاری ہوچکا ہے۔ ایسے شخص کو کچھ کہہ دیں اُس کا کچھ بگڑنے والا نہیں ہے، وہ یہی سمجھے گا مذمت کی صورت میں کچھ آہی رہا ہے کچھ جا تو نہیں رہا ، ایسے لوگوں کی جتنا چاہے کوئی بُرا کہہ لے وہ بُرا نہیں مناتے۔ بلکہ آگے سے ہنستے رہتے ہیں۔ البتہ اُنہیں کوئی اچھا کہہ لے وہ یہ سوچ کر بُرا منا جاتے ہیں کہ یہ میرا مذاق اُڑا رہا ہے ۔ ماضی میں عامر لیاقت حسین جو گند عمران خان پر اُچھالتا رہا ہے اُس کے پیش نظر میں تو یہی سمجھتا ہوں عمران خان کی جماعت میں شامل ہوکر اب بھی عمران خان پر اُس نے گند ہی اُچھالا ہے.... کوئی نہ سمجھے تو کوئی کیا کرے ؟؟؟


ای پیپر