چیف جسٹس صاحب۔۔۔۔ہماربھرم رکھیئے گا۔
27 مارچ 2018

نوے کی دہائی میں پی ٹی وی اسلام آباد سے ایک ڈرامہ سیریل ”آغوش“ کے نام سے نشر ہوئی جس میں نسیم قریشی نے ”شاہ بابا“ کے ایک نیک صفت بڑے آدمی کا کردار کیا تھا تو اس ”شاہ بابا“ کا ایک تکیہ کلام یا کانٹی نیوٹی تھی ” کاش ہم بہت سے ہوتے اور بہت سارے لوگوں کی مدد کر سکتے“
کسی آدمی کا خود سے خواہش کرنا کہ وہ بہت سارے آدمی کی مدد کرنا چاہتا ہے لیکن اس لئے نہیں کر پاتا کہ وہ بیک وقت بہت سی جگہوں پر موجود نہیں ہو پاتا بے بسی کا اظہار ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے ”بابارحمتا“ کا ذکر کر کے گویا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا اور پھرسیاسی حلقوں سے منفی جذبات کے اظہار کے بعد ”بابا رحمتا“کو متنازع بنانے کی کوششیں کی جاتی رہیں ہمارے معاشرے میں یہ چلن عام ہے کہ ہم اپنی غلطی اور کوتاہی تسلیم کرنے سے حتی الوسع گریز کرتے ہیں اور اگر کبھی جواب دینا پڑ ہی جائے تو اپنی کمی ‘ کوتاہی کا ملبہ کسی دوسرے کے سر پر گرانے کی کوشش کرتے ہیں اس عمومی رویے کی بدولت اپنی اصلاح نہیں کر پاتے اور پھر رفتہ رفتہ ہمارے اندر یہ یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم ٹھیک ہیں‘ مکمل ہیں‘ درست ہیں جبکہ دوسرے ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں‘ اپنا کام نہیں کرتے اور جس کی وجہ سے ناکامی ہمارا مقدر قرار پاتی ہے۔
انسان کسی دوسرے کی خرابی پر ترقی نہیں کر سکتا اپنے معاملات کو درست کرنے سے ہی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے لیکن دوسروں کو مورود الزام ٹھہرانے کے بعد ہم اپنی اصلاح کے فرض سے غافل ہو جاتے ہیں۔
ادارے برباد ہو چکے ‘ کرپشن نے نظام کی بنیادیں تباہ کر دی ہیں اور ہم ایک دوسرے پر الزام دھرنے میں مصروف ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سرگرمیوں نے مجھے ”شاہ بابا“ کی یاد دلا دی کہ لوگ اپنے مسائل کے ہاتھوں تنگ ہیں اور کسی مسیحا کی تلاش میں ہیں اسی لئے وہ ہر آنے والے کو خوش آمدید کہتے ہیں اور امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔
کچھ عرصے بعد امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں اور ہم ایک مرتبہ پھر منتظر نظروں سے آسمان کو تکنے لگتے ہیں۔
دو نمبر آمر اور دو نمبر سیاستدان ہی ہمارا مقدر ٹھہرتے ہیں ‘ ہاں افتخار محمد چوہدری سے بھی عوام نے بہت امیدیں باندھیں مگر وہ بھی سراب ثابت ہوئے۔
مجھے نہیں پتا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ”بابا رحمتا“ ہیں کہ ”شاہ بابا“
جاتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
اصل بات یہ ہے کہ وہ اس وقت عوام کی نبض پر ہاتھ دھرے ہوئے ہیں ‘ حجرہ شاہ مقیم کی ٹوٹی پھوٹی گندے پانی سے بھری ہوئی گلیاں ہوں یا چونیاں کا پولیس مقابلہ ‘ صاف پینے کا پانی ہو یا دودھ اور گوشت کے مسائل ‘ صحت کے معاملات ہوں یا میڈیکل کی تعلیم یہ سب وہ مسائل ہیں جن سے مجھ‘ آپ سمیت ہر پاکستانی کا روزانہ کی بنیادوں پر واسطہ پڑتا ہے لیکن کوئی حل نظر نہیں آتا۔ سچی بات یہ ہے کہ جب تک نواز شریف درندگی کی شکار بچیوں اور سیلاب کے پانی میں بے گھر ہونیوالے لوگوں کے ساتھ رہے انہیں عوام نے اپنی آنکھوں کی پلکوں پر بٹھایا اور دل میں جگہ دی۔ جب وہ خواص میں گھر گئے تو عوام سے کٹ گئے ،اس کے اثرات اب 2018 میں سامنے آئیں گے۔
جب بھی کوئی صاحب اختیار عوام کے پاس چل کر جاتا ہے عوام اسے بے پناہ محبت اور خلوص دیتے ہیں‘ کیسی خیالی بات ہے بلکہ کتابوں کا قصہ معلوم ہوتی ہے کہ قاضی القضاة کو راہ روک کر فریاد کی جائے اور فریادی کو دھکے نہ ملیں بلکہ اسے ہی نہیں دیگر سائلین کو بھی چھٹی کے دن بلا لیا جائے۔
غور کریں انہوں نے کیاکہا ” عدالت کا دروازہ 24 گھنٹے کھلا ہے‘ ظلم برداشت نہیں کیا جائے گا جب حکومت بنیادی حقوق فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو عدلیہ کو کردار ادا کرنا پڑتا ہے“ اخبارات کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ شکایات پنجاب پولیس اور قبضہ سے متعلق معاملات پرچیف جسٹس کے سامنے آئیں۔
پولیس اور قبضہ مافیا کا پرانا ساتھ ہے ۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پنچائت بے گناہ بچی کو ونی کر دیتی ہے۔ جڑانوالہ میں کمسن لڑکوں سے زیادتی کے حوالے سے کسی نئے گروہ کی خبریں ہیں۔ ایسے میں چیف جسٹس صاحب آپ نے امید دلائی ہے تو یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ امید اور بھروسہ جب ٹوٹ جاتا ہے تو مایوسی ‘ امید کی خوشی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے‘ ہمارا بھرم رکھیے گا!


ای پیپر