سر مغیث الدین شیخ
27 جون 2020 2020-06-27

مغیث الدین شیخ صاحب کو ان کے چاہنے والے مختلف ”القابات“ سے پکارا کرتے تھے۔ پر مجھے ہمیشہ انہیں ” سر “ کہنا اچھا لگا۔ وہ مجھے ہمیشہ ”بٹ صاحب“ کہتے تھے۔ یا کبھی کبھار ”برخودار“ کہہ لیتے۔ وہ جب مجھے ”بٹ صاحب“ کہتے ، مجھے ہمیشہ اپنے والد محترم یاد آ جانے۔ وہ بھی ہمیشہ مجھے ”بٹ صاحب“ کہتے تھے۔ میں اکثر ان سے کہنا ”ابوجی آپ مجھے صاحب نہ کہا کریں ، مجھے اچھا نہیں لگتا“۔ وہ فرماتے ”بیٹا گھر سے عزت ملے گی تو باہر سے بھی ملے گی“۔ وہ بالکل صحیح فرماتے تھے۔ اللہ نے میری اوقات سے بہت بڑھ کر عزت دی اور اتنی عزت دی کہ سر مغیث الدین شیخ کی قربت اور محبت عطاءفرما دی۔ اللہ نے انہیں شہادت کا رتبہ عطاءفرمانا تھا۔ میرے نزدیک کورونا سے دنیا سے رخصت ہونے والا ہر مسلمان شہید ہے۔ اور دوسرے مذاہب کے جو لوگ اس وباء، بیماری یا آزمائش کا شکار ہوئے ان کا درجہ بھی ان کے مذہب کے مطابق کچھ ایسا ہی شاید ہو گا۔ ایک اور بات میں عرض کروں ۔ شہادت کے لئے جو ”قواعد و ضوابط“ ہمارے دین نے طے کر رکھے ہیں سر مغیث الدین شیخ ان پر پورا نہ بھی اترے تو میرے نزدیک جو کچھ بطور ایک استاد (جو کہ انبیاءکا پیشہ ہے) اپنے طالب علموں کو انہوں نے دیا ، جتنی شفقت ان کے ساتھ فرمائی، مالی اور ہر لحاظ سے جتنی مدد وہ ان کی کرتے رہے، دنیا سے ان کی رخصتی کسی صورت میں بھی ہوتی اس کا درجہ شہادت ہی کا ہوتا.... وہ صرف کہنے کی حد تک نہیں ، عملی طور پر ایک عظیم انسان تھے۔ میں ان کی کس کس خوبی کا ذکر کروں؟ انہیں دیکھ کر ان سے مل کر ، ان کے ساتھ چند لمحے گزار کر، خصوصاً اپنے شاگردوں کے ساتھ ان کا حسن سلوک دیکھ کر ہم یہ بات اچھی طرح محسوس کر سکتے ہیں اللہ نے انسان کو ”اشرف المخلوقات“ کا درجہ کیوں دیا؟۔ پاکستان کو وہ ٹوٹ کر چاہتے تھے، چنانچہ پاکستان کے ٹوٹنے کا ذکر کرتے ہوئے وہ باقاعدہ آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔ وطن کے ساتھ ان کی والہانہ محبت کا یہ عالم تھا 1993ءمیں جب امریکہ کی یونیورسٹی IOWA سے انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کر لی تو وہاں کے اساتذہ ، خصوصاً ان کے گورے کلاس فیلوز نے ان کی منتیں کیں وہ پاکستان واپس نہ جائیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ان سے گزارش کی وہ بطور استاد اسی یونیورسٹی کا حصہ بن جائیں۔ پر انہوں نے معذرت کر لی۔ انہوں نے فرمایا ”میرے وطن نے مجھے اس قابل کیا میں امریکہ کی ایک بہترین یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کروں۔ میں نے اپنے وطن کا یہ قرض کبھی نہیں چکا سکتا۔ یہاں بہت سے اساتذہ علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں، ایک میرے نہ ہونے سے فرق نہیں پڑے گا۔ میں نے اس یونیورسٹی سے جو کچھ سیکھا، جو علم حاصل کیا میں یہ علم اپنے پاکستانی بچوں کو دینا چاہتا ہوں، ان بچوں کو جو امریکی یونیورسٹیوں میں نہیں جا سکتے۔ میرے اس عمل سے یہ ہو گا میرے وطن نے مجھ پر جو بے پناہ احسانات کئے ہیں اس کا تھوڑا سا فرض شاید اتر جائے.... چنانچہ وہ واپس آ گئے۔ حالانکہ وہ جانتے تھے پنجاب یونیورسٹی کا شعبہ صحافت اس وقت شرارتوں اور سازشوں کا گڑھ بنتا جا رہا ہے وہ اس ماحول کے عادی نہیں تھے۔ اس کے باوجود لوٹ آئے اور شعبہ صحافت کا دوبارہ حصہ بن گئے۔ پھر جب وہ اس شعبے کے سربراہ تھے یہ شعبہ نہ رہا باقاعدہ ایک ادارہ بن گیا۔ اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں اس ادارے کو انہوں نے میڈیا کے جدید ترین رجحانات اور تقاضوں کے مطابق ایسی نئی زندگی عطا کی پنجاب یونیورسٹی کا شعبہ صحافت ، یونیورسٹی کے دیگر تمام شعبوں سے ہر لحاظ سے الگ تھلگ اور ممتاز دیکھائی دینے لگا۔.... میں یہ عرض کروں صحافت کو باقاعدہ ایک عزت اور وقار جس شخص نے بخشا ان کا کام سر مغیث الدین شیخ ہے۔ یہ نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے انہیں اس قدر محبت تھی اپنے بیٹے علی طاہر مغیث سے انہوں نے یہ کہہ رکھا تھا”جب میرا انتقال ہو سب سے پہلے اس کی خبر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے لوگوں کو دینا“.... پنجاب یونیورسٹی میں ان کی خدمات کا دائرہ شعبہ صحافت تک محدود نہیں۔ ان کے پاس کئی عہدے رہے وہ ہال کونسل کے چیئرمین بھی تھے۔ یعنی پنجاب یونیورسٹی کے تمام ہاسٹلز ان کے انڈر تھے۔ اس دوران ہاسٹلز میں جو نظم و ضبط انہوں نے قائم کیا۔ خصوصاً ہاسٹل میں مقیم پر طالب علم کو اولاد کی طرح محبت دی، یہ شاید اسی کا نتیجہ ہے ان کے صاحبزادے علی طاہر مغیث مجھے بتا رہے تھے ”جب سوشل میڈیا پر ان کے کورونا میں مبتلا ہونے کی خبر وائرل ہوئی دنیا بھر سے ان کے سٹوڈنٹس ، خاص طور پر ہاسٹلز میں ان کی سرپرستی سے فیض یاب ہونے والوں نے فون اور میسجز کر کے ان سے پوچھا ، بتائیں وہ ڈاکٹر صاحب کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟۔ حتی کہ امریکہ میں مقیم ان کے ایک سٹوڈنٹ نے یہاں تک کہا ان کا علاج دنیا کے کسی کونے میں بھی ممکن ہو اس کے سارے اخراجات وہ برداشت کرے گا“.... اس دوران علی طاہر مغیث کو اپنا موبائل فون کئی کئی گھنٹے آف رکھنا پڑتا تھا کیونکہ دنیا بھر سے اتنی کالز ان کے والد محترم کا حال پوچھنے کے لئے آتی تھیں ، اگر وہ یہ کالز سنتے رہتے اپنے والد کی شاید اس طرح خدمت نہ کر پاتے جس طرح وہ چاہ رہے تھے۔ میں اکثر لکھتا ہوں اور کہتا ہوں ”جس طرح اللہ پاک نے انسانوں کو بے بہا جو نعمتیں اور رحمتیں بخشی ہیں ان کے مطابق انسان ساری عمر سجدے میں پڑا رہے ان نعمتوں اور رحمتوں نکا شکر ادا نہیں ہو سکتا....اسی طرح والدین اپنے بچوں کے لئے جو کچھ کرتے ہیں ، انسان کچھ بھی کرے کسی صورت میں بھی اس کا بدلہ نہیں چکایا جا سکتا۔ ہاں صرف تھوڑا بہت بدلہ اس صورت میں چکایا جا سکتا ہے والدین کو وفات کے بعد اور وفات سے پہلے بھی انسان ایسے ایسے اعمال کا مظاہرہ کرے۔ خصوصاً لوگوں کے ساتھ ایسا اچھا برتاﺅ کرے، اور ساتھ ہی ساتھ اپنے دینی فرائض پورے کرنے کی پوری کوششیں بھی کرے ، تو اولاد کے یہ اعمال والدین کی وفات کے بعد ان کی خبر کو ہی جنت میں تبدیل کروانے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ مجھے اس حوالے سے علی طاہر مغیث سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں ، مجھے یقین ہے سر مغیث الدین شیخ کی تربیت رنگ لائے گی۔ (جاری ہے)


ای پیپر