پہلی اینٹ کی تلاش
27 جون 2019 2019-06-27

روم ایک دن میں تعمیر نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح سے کوئی بھی سیاسی تحریک ایک کانفرنس سے یا فوری طور پر شروع نہیں کی جاسکتی۔ اصل میں سیاسی تحریک کا عوامی ہونا بیحد ضروری ہوتا ہے۔ عوام اپنے مسائل کی وجہ سے سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ لہٰذایہ سوچناکہ کل اس سے حکومت گر جائے گی یا کل سے حکومت کے لئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ 25 جولائی کو دھاندلی زدہ الیکشن کیخلاف یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا گیا جس دوران اپوزیشن کے مشترکہ جلسے ہونگے،سیاسی جماعتیں پارلیمان کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج جاری رکھیں گی۔ یوم سیاہ پر چاروں صوبوں میں مشترکہ جلسے کیے جائیں گے۔

ماضی کی مثالیں دیکھ لیں۔ ایوب خان کے خلاف نوابزادہ نصراللہ خان کی سربراہی میں پانچ جماعتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے اپریل 1967 میں بنا۔ لیکن جنوری 1969میںاس کا نام تبدیل کر کے ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی رکھا گیا۔ لیکن ان کے خلاف تحریک دو سال بعد چل سکی۔ تحریک کی وجہ یہ بنی کہ ایوب خان اپنی کامیابیوں کا صد سالہ جشن منانا چاہ رہے تھے،ایوب خان نے تشدد کے ذریعے ’’ڈیک ‘‘ کی تحریک کو روکنا چاہا۔ کراچی، لاہور، ڈھاکہ، پشاور، کھلنا میں فوج طلب کرلی گئی۔ فروری میں ایوب خان سیاسی قیدی رہا کرنے اور اپوزیشن سے مذاکرات کے لئے مجبور ہو گیا۔ انہوں نے نیا آئین بنانے کا بھی اعلان کیا۔ وہ سیاسی سمجھوتہ چاہتے تھے لیکن انہیں جنرلوں کی حمایت حاصل نہ ہو سکی ۔ نتیجے میں جنرل یحییٰ خان نے مارچ میں مارشل لاء نافذ کردیا۔ جنرل یحییٰ خان نے بڑی سیاسی پارٹیوں سے مذاکرات شروع کئے۔ عوامی لیگ نے صوبائی حقوق کے مطالبے پر مہم چلائی اور اس نعرے کو مقبول عام بنایا۔ جماعت اسلامی نے اسلامی آئین کا مطالبہ کردیا۔ ’’ڈیک‘‘ کے غیر موثر ہونے کی وجہ سے میدان میں عوامی لیگ اور پیپلزپارٹی رہ گئیں۔

ایوب خان کے خلاف پہلا اتحاد پانچ جماعتوں خواجہ خیر الدین اور ممتاز دولتانہ کی زیر قیادت کونسل مسلم لیگ، عوامی لیگ، نیشنل عوامی پارٹی بھاشانی گروپ، نیشنل عوامی پارٹی ولی گروپ، چوہدری محمد علی کی نظام اسلام پارٹی، اور جماعت اسلامی پر مشتمل تھا۔ متحدہ اپوزیشن نے ایوب خان کے مقابلے میں صدارت کے لئے بانی پاکستان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو بطور امیدوار لے آئی۔ دھاندلیوں کی وجہ سے اپوزیشن کی امیدوار فاطمہ جناح صدارتی الیکشن ہار گئیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پہلا اتحاد یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ 1973 میں قائم ہوا۔چار سال بعد بننے والے پاکستان نیشنل الائینس ان کے خلاف تحریک شروع کرسکا۔

اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس نے پچیس جولائی

کے یوم سیاہ پر اتفاق اور لاک ڈائون کا بھی اصولی فیصلہ کرلیاگیا ہے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل عین وقت پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بلاواا ٓ نے کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے۔ بہرحال اختر مینگل نے مولانا فضل الرحمٰن کوپانچ نکات کے لئے ایک خط بھیجاجس پر مینگل اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان پچھلے سال معاہدہ کیا تھا۔مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق اعلامیہ میں اختر مینگل کی پارٹی کے چھ نکات شامل ہیں۔

کانفرنس نے وزیراعظم کا قرضوں کے خلاف انکوائری کمیشن قومی ترقیاتی کونسل،قرضہ کمیشن اورججز کیخلاف ریفرنسز مسترد کر دیئے اور مطالبہ کیا کہ قرضے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے،مجوزہ قومی ڈیولپمنٹ کونسل (این ڈی سی) ایک غیر ضروری ادارہ ہے جس کی قومی اقتصادی کونسل کی موجودگی میں کوئی ضرورت نہیں، یہ اقدام اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش ہے جسے اجلاس نے مسترد کیا۔

کونسا قدم کب اٹھانا چاہئے؟ کون سی اینٹ پہلے نکالی جائے ؟ یہ بہت اہم سوالات ہیں۔ ابھی کل جماعتی کانفرنس کو بہت سارے مطالبات اور حکمت عملی پر متفق ہونا باقی ہے۔ گزشتہ روز کی کانفرنس کو ہی لے لیجئے۔مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان تکرار کم و بیش 45 منٹ تک جاری رہی۔ مولانا فضل الرحمان کا خیال تھاکہ معاملہ مڈٹرم الیکشن کی طرف جائے ، مارشل لاء لگ گیا تو اس کا مقابلہ کریں گے۔پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کا موقف مولانا سے مختلف تھا۔بلاول بھٹو نے جواب میں کہا میں نانا، دو ماموں اور والدہ گنوا چکا ہوں، پارلیمنٹ کسی صورت ڈی ریل نہیں ہونے دوں گا۔عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رہنما نے مداخلت کر کے بیچ بچائو کرایا، اے این پی کے رہنما نے کہا ہم مشترکہ گرائونڈز پر بات کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی یہ بھی تجویز تھی کہ عمران خان نے صحابہ کی توہین کی ، جس کا ذکر بھی اعلامیے میں کیا جائے۔ جواباً بلاول بھٹو کا موقف تھا کہ مذہب کا نواز شریف، عمران خان سمیت کسی کے خلاف بھی استعمال قبول نہیں۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی بدھ کو ا ٓٹھ گھنٹے طویل جاری رہنے والے اے پی سی کے اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر بھرپور کردار ادا کریگی۔اپوزیشن جماعتوں میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے پر اتفاق ہوگیا،نئے چیئرمین سینیٹ کو لانے کا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کریگی۔اے پی سی میں رہبر کمیٹی میثاق معیشت اور قومی چارٹر تیار کرے گی۔ اجلاس میں منصفانہ اور غیر جانبدارانہ احتساب پر زور دیا گیا اور جعلی احتساب کو مسترد کیا گیا۔ اپوزیشن کی طرف سے عدم تعاون کے اظہار کے طور پر اپوزیشن کے تمام ممبران کے دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔اگرچہ یہ علامتی ہے لیکن اپوزیشن بعد میں دیگر کمیٹیوں سے نکلنے کا بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔

شہبازشریف نے اے پی سی میں اظہار خیال خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے سڑکوں پر بھی آنا پڑے تو نکلنا چاہئے ۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہماری لڑائی عمران خان سے نہیں انہیں سلیکٹ کرنے والوں سے ہے۔پوری پارٹی کا نواز شریف اور شہباز پر بھرپور اعتماد ہے، ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف تو کرسکتے ہیں البتہ فیصلہ لیڈر شپ کا ہوتا ہے۔اجلاس میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر بھی اکثریتی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے تاہم بلاول بھٹو زرداری نے تحریک چلانے کی تاحال حمایت نہیں کی ۔

حکمت عملی کے حوالے سے یہ طے کیا گیا کہ فوری طور پر تحریک چلانے کے بجائے حکومت کو مرحلے وار کمزورکیا جائے۔ اور یہ سلسلہ نومبر تک جاری رکھا جائے، جب ایک اعلیٰ ادارے کی سربراہی میں تبدیلی ہوگی۔

سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں۔ یہ اینٹ آسانی سے سرکائی جاسکتی ہے۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی پہلی اینٹ ہے۔نواز شریف حکومت کو بھی اس اینٹ کے ذریعے کمزور کیا گیا تھا۔اس کے بعدحکومت مخالف تحریک پنجاب میں شروع کرنے کی باری آئے گی۔


ای پیپر