اے پی سی کی چارج شیٹ اور ڈوبتی معیشت
27 جون 2019 2019-06-27

28 جون کو بجٹ منظور ہو جائے گا اس کے ساتھ ہی قومی ا سمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو جائے گا۔اس کے ساتھ ہی خبر آ گئی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ کپتان نے قوم کو یقین دلایا ہے کہ دو ماہ عوام کے لیے مشکل ہیں۔اس کے بعد قوم اور غریبوں کے اچھے دن آنے والے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں بڑے عرصے کے بعد بجٹ کا اپوزیشن نے جس انداز سے پوسٹ مارٹم کیا ہے ماضی میں ایسا بہت کم ہوتا تھا۔ پارلیمنٹ میں اب حکومت کوٹف ٹائم ملے گا۔ نیب کے چیئرمین کے آڈیو اور ویڈیو سکینڈل کے بعد اپوزیشن کے خلاف جس انداز سے کیس کھولے جارہے ہیں اس سے حکومت کو سکون سے حکومت کرنے کا کوئی موقع ملنے والا نہیں ہے۔آصف زرداری نے تو اپنی ضمانتوں کی درخواستوں کو واپس لے کر تاثر دیا ہے کہ اسے جیل یا نیب کی قید سے آزاد ہونے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ وہ مقابلہ کے لیے تیار ہیں ۔ہلچل تو آصف زرداری اور حمزہ شہباز کی گرفتاریاں کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی۔جس سے سیاسی درجہ حرارت کافی بلند نظر آیا پھر پروڈکشن آرڈر کا معاملہ بھی اسمبلی میں بار بار ہنگامہ آرائی کا سبب بنا۔اس سیاسی منظر نامے میں بلاول بھٹو اور مریم نواز سیاست میں مزاحمتی سیاست دان بن کر ابھرے ہیں ۔خاص طور پر مریم کی ستر منٹ کی پریس کانفرنس اور بلاول کی اپنی والد ہ بے نظیر بھٹو کے جنم دن کے حوالے سے تقریب سے خطاب میں اٹھائے گئے سوال اہم تھے۔ آل پارٹیز کانفرنس جس کا شور پہلے مرحلے میں شروع ہو چکا تھا۔ وہ 26 جون کو مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہو چکی ہے۔آل پارٹیز کانفرنس کامیاب ہوئی یا ناکام رہی۔ اس کے بارے میں حکومت اور اپوزیشن کے اپنے اپنے دعوے ہیں۔ اس کانفرنس کا یہ مقصد ہرگز نہیں تھا کہ ایک دن میں کپتان کی حکومت کا قصہ تمام ہو جائے گا۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے حکومت کی ترجمان فردوس عاشق اعوان کا رد عمل قبل از وقت ہی۔ بھٹو کے زمانے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا بھٹو جیسے لیڈر بھی اندازے کی غلطی کھا گئے تھے۔ جب کام شروع ہوا تو اس کو روکنا کسی کے بس میں نہیں تھا ۔ بھٹو نے اپوزیشن کو روکنے کے لیے ایک تقریر بھی کی ،ہمارے کپتان بھی ایسی ہی تقریر کر چکے ہیں کہ وہ دیکھ لیں گے او ر یہ دیکھ لیں گے۔ تین ماہ تک اپوزیشن احتجاج کی جو صورت گری سامنے آئے گی اگر تبدیلی سرکار اپوزیشن کے احتجاج کو روکنے کے لیے وہ اپنے کارکنوں کو اپوزیشن کے مقابلے میں نکالتے ہیں یہ بڑی غلطی ہو گی یہ غلطی بھٹو نے بھی کی تھی اس ماحول میں مولانا شاہ احمد نورانی کی دستار کو تار تار کیا گیا اور جاوید ہاشمی کو پیٹا گیا۔ پھر گلی کوچے تشدد سے اٹ گئے۔ فوج کو آنا پڑا۔ حکومت کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے۔یہ کام مشرقی پاکستان میں بھی شروع ہوا تھا اس کا درد ناک باب اب بھی ہم کو شرمندہ کرتا ہے۔ آل پارٹیز نے فوراً احتجاج شروع نہ کرکے سنبھلنے کا موقع دیا ہے۔ اور یہ کانفرنس کے شرکا نے بڑا سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے ۔ گیارہ ماہ بعد چاروں صوبوں سے پہلی مرتبہ اپوزیشن نے باقائدہ اکٹھے ہو کر پیغام دیا ہے کہ مستقبل میں وہ حکومت کو قدم قدم پر ٹف ٹائم دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔جو فیصلے کیے گئے ہیں ان میں ٹائمنگ کو بڑا عمل دخل ہے۔اپوزیشن بھر پور انداز میںاگست سے حکومت کے خلاف ایک بھر پور احتجاج کرنے جارہی ہے ۔ حکومت پر اے پی سی کا خوف ہی تھا ۔وزیر اعظم نے اپنے اتحادیوں کو منانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا ہے۔یہاں تک جب اختر مینگل اے پی سی جانے کا اعلان کر چکے تھے۔وزیر اعظم نے چار ووٹ لینے کے لیے نہ صرف ان سے ملاقات کی بلکہ بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے بہت سی تجویزیں اور ڈویلپمنٹ کا پیکج لے آئے مگر یہ سب کچھ آسانی سے حل نہیں ہو گا۔ جو نئے وعدے ہوئے ہیں اس کا جائزہ لینے کے بعد اختر مینگل فیصلہ کریں گے کہ وہ حکومت کے ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں۔آل پارٹیز کانفرنس اس رپورٹ کا انتظار کرے گی ۔اختر مینگل کی جماعت کا وزارتیں لینے کا کوئی ایشو نہیں ہے۔وہ گزشتہ گیارہ ماہ سے اپنے چھ تحریری نکات جس کی بنیاد پر وہ حکومت کے ساتھ آئے تھے ۔ پورے نہیں ہوئے ،یہ مطالبات ایک بار پھر نمایاں ہوئے ہیں ۔ آل پارٹیز کانفرنس کس حد تک کامیاب رہی۔ کانفرنس نے ایک زبان ہو کر جو فیصلے کئے ہیں اس میں ایک رہبر کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ جس میں تمام جماعتوں کو نمائندگی ملی ہے۔ اس وقت جو اہم فیصلے ہوئے ہیں ان میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے گا ڈپٹی چیئرمین سینٹ سلیم مانڈی والے نے دعویٰ کر دیا ہے کہ چیئرمین کو ہٹانے کے لیے ان کے پاس ووٹ کافی ہیں۔۔آنے والے چیئرمین کا تعلق پیپلز پارٹی سے نہیں ہو گا ۔اس کا فیصلہ بھی رہبر کمیٹی کرے گی۔اپوزیشن بھی کپتان کے نقش قدم پر چلتی ہوئی لاک ڈاؤن بھی کرے کی اور سڑکوں پر بھی حکومت کے خلاف سلیکڈڈ کے سوال کو اٹھائے گی ۔ جس کے لیے ملک بھر میں دھاندلی کے سوال پر 25جولائی کو یوم سیاہ منائے گی اور حقائق سامنے لائے گی کہ کس طرح اس رات کو مبینہ دھاندلی کرکے نتیجے کو ایک جماعت کی طرف پلٹ دیا۔ آل پارٹیز کانفرنس نے ججوں کے خلاف دائر ہونے والے ریفرنس کو بھی مسترد کر دیا اب وکلا کے ساتھ بھی اپوزیشن کھڑی ہو گی۔۔ ، قومی ترقیاتی کونسل( جس میں ہمارے آرمی چیف کو بھی شامل کیا گیا ہے) اور قرضہ کمیشن کو بھی مسترد کر دیا ہے۔خاص طور پروزیر اعظم کا قرضوں کے خلاف انکوئری کمیشن کو پارلیمنٹ پر حملہ قرار دیا۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے دائیں شہباز شریف اور بائیں جانب بلاول بھٹو کو بٹھا کر جو پریس کانفرنس کی ہے اس میں مولانا یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے کہ وہ اسلام آباد کی تبدیلی سرکا ر کو زیر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اے پی سی کے مشتر کہ ا علامیہ میں یہ بھی کہا ہے کہ ملک دیوالیہ پن کی حدود کو عبور کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔’’ملکی معیشت زمیں بوس ہو چکی ہے،حکومتی فیصلے ملکی سلامتی،خود مختاری اور بقا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔‘‘

مریم نواز کا موقف اے پی سی میں خاصا سخت رہا انہوں شرکا کو بتایا کہ ہماری لڑائی عمران خان سے نہیں انہیں سلیکٹ کرنے والوں سے ہے۔انہوں نے اپوزیشن کو بھی اس کا ذمہ دارقرار دیا اور پاکستان کی تاریخ کا بھاری بھرکم بجٹ کا بوجھ عوام اٹھا سکتے بھی ہیں یا نہیں؟ اس کے بارے مین تبدیلی سرکار کا کہنا ہے کہ یہ عوام دوست بجٹ ہے۔اس کا بوجھ کسی صورت عوام پر نہیں پڑے گا۔بجٹ منظور کرانے کے لیے وزیر اعظم کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے کبھی چودھری برادران کے منت ترلے،کھبی ا یم کیو ایم کو وزارت کے ساتھ ڈو مور کا تقاضا بھی کیا گیا۔ ہمارے وزیر اعظم نے آخر کار اختر مینگل کے مطالبات ماننے کی حامی بھر لی ہے کہ وہ ان کے وہ مطالبات مانیں گے۔اپوزیشن دعوے کے باوجود بجٹ روکنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی بے چاری حکومتوں کا تو ایسے ہی’’ترا‘‘ نکلا ہوا تھا۔ اس کو گرانے کے لیے اپوزیشن نہیں عوام میں اپنی گرتی مقبولیت کے ہاتھوں ماری جائے گی۔ معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے اپوزیشن کو جو سپیس دینی پڑتی ہے وہ نہیں مل رہی۔اپوزیشن کو تو تبدیلی سرکا کھڈے لائن لگانا چاہتی ہے۔ ضد نہیں چلتی جو لوگ آصف زرداری اور نواز شریف کو مائنس کا ارادہ رکھتے تھے۔ان کی خواہش اور ضد پوری ہو چکی۔عوا م پر تو بجلیاں گر رہی ہیں۔ڈالر 163روپے کا ہو چکا ہے،یہ بات کپتان کو بتانی چاہیے کیوں کہ کپتان نے مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر کہا تھا۔ میں اپنی قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں کبھی قوم سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ڈالر نے تو قوم کی ہوائیاں اڑادی ہیں مگر قوم سے سچ بولنے والی سرکار نے پراسرار خاموشی اختیار کرکے قوم کو سچ بتانے سے انکار کردیا ہے ہماری تبدیل سرکار اور آئی ایم ایف کے گٹھ جوڑ سے عوام کی جو معاشی تباہی ہوئی ہے ہے خدا کی پناہ۔اب ہیومن ڈویلپمنٹ کے اشاریے بتانے والے بتائیں کہ پاکستان میں فی کس آمدن میں کتنی کمی ہو چکی ہے۔ پاکستان کے عوام کو تباہ کن مہنگائی سے اپنی خوراک کو کم کرنا پڑا ہے۔ یہ بھی بتایا جائے کہ متو سط طبقہ گیارہ ماہ میں کتنے درجے نیچے گرا ہے۔ یہ بھی کوئی معلوم کرکے بتائے کی دوائیں مہنگی ہونے سے کتنے لوگوں کو قرضہ اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑا ہے۔آٹا جو غر یبوں کے کھانے کا سورس ہے صرف جون کے مہینے میں اس کی پرواز کہاں تک گئی۔ مگر ڈالر کا خنجر روزانہ کی بنیاد پر غریبوں کے سینوں میں گھونپا جارہا ہے ۔ ا س کی ایک ماہ کی کہانی تو اتنی ہے جس نے جھنجوڑ دیا ہے۔ روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی ہے۔


ای پیپر