مودی اور ٹرمپ تاحیات حکمران
27 جون 2019 2019-06-27

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا انتخابات میں جیت جانا میرے لیے تو قطعاً حیرت اور اچنبھے کی بات نہیں تھی، کیونکہ ایک ایسا ملک جو تعصب اور عصبیت کی آگ میں ایسا جل بھن رہا ہے، کہ حضور کی بعث سے قبل کی صورتِ حال کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔ جہاں دلت، انتہائی ذلت زدہ زندگی گزارنے پہ مجبور ہوں، اور مسلمانوں سمیت کسی بھی غیرمذہب والوں کو اپنے عقائد پہ نہ تو عمل کرنے کی اجازت ہو، اور نہ ہی وہ اپنے نظریات کا پرچارکرسکیں، اور آج کل کا یہ نعرہ کہ ہندوستان، صرف ہندوﺅں کے رہنے کی جگہ ہے، جہاں کسی اور ملیچھ اور پلید کے رہنے کی جگہ نہیں، اور واقعی ان کا یہ اصرار بالکل جائز ہے، کیونکہ اربوں کی تعداد میں پلید ہونا، اور موجود ہونا کسی مزید ناپاک کی موجودگی کا متقاضی نہیں ہوتا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کسی انتہا و قدامت پسند کا ملک پہ مسلط ہوجانا، آخر کار مستقبل میں اس ملک کو اتنا مہنگا پڑتا ہے کہ ایک دن وہاں کے عوام کو اس کی قیمت چکانی پڑجاتی ہے۔

ہٹلر اور مسولینی کون تھے؟ یقیناً مودی جیسے نظریات اور سوچ رکھنے والے لوگوں کے ”گرو“ تھے، جنہوں نے نہ صرف اپنی فوج کو تباہی کی جانب گامزن کردیا، بلکہ آخرکار عالمی امن تہہ و بالا کرنے، اور تاریخ کو زیرو زبر کرنے کے مرتکب ٹھہرے، مگر قانون قدرت جب روبہ عمل ہوتا ہے، تو پھر ان جیسے دہشت گرد ، اپنی ذہنی پستی اور پیرومرشد ، مزاجوں کے باعث انجام بد کو پہنچ کر دنیائے عقل وادنش کے لیے مقامِ عبرت ورذالت بنادیئے جاتے ہیں۔ فرعون ، شداد، ہامان ونمرود ، اپنے پیروکاروں کے تحفظ کے بجائے اپنا وجود بھی برقرار نہ رکھ سکے، اور انجام بد کو پہنچ گئے۔ اس حوالے سے اللہ کی لاٹھی، صرف غیرمسلموں پہ ہی نہیں پڑتی ، بلکہ جو بھی اس کی زدمیں آتا ہے، بالآخر پاش پاش ہوجاتا ہے، اور اس کی وجہ اس کی پرخاش، اور بے اعتدالی مزاج وافکار ٹھہرایا جاتا ہے، جسے آج کل کی زبان میں بیانیہ ونظریات کہا جاتا ہے۔ مذہبی حوالے سے اپنے ملک کو پتھر و دھات کے زمانے میں پہنچا دینے والے کٹراور متعصب رعایا کا ہیرو ہے، بھارت میں اس حدتک انصاف کا بول بالا ہے، کہ اگر کوئی مسلمان گائے کو لے جاتا نظر آئے، یا اس کا بھاﺅ تاﺅ کرتا نظر آجائے، تو اس کی خبرگیری میں حربہ داد گیری استعمال کیا جاتا ہے، چاہے وہ نوبیاہتا جوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

صرف مسلمان اور ذاکرنائیک جیسے ششدوسنجیدہ غیرمعمولی یادداشت وخیالات مثبت کے ذاکر نائیک ہی نہیں، وہاں تو گرجا گھروں اور چرچوں کو بھی سرعام جلا کر حساب برابر کردیا جاتا ہے، کیونکہ یہی رسم چنگیزی بھی ہے، اور اصول ہلاکو وچنگیز بھی کہ مخالفین کے کھوپڑیوں کے مینار بنادیئے جائیں۔

ایک دفعہ کسی نے ہلاکو خان سے پوچھا، کہ کبھی ایسا اتفاق ہوا ہے کہ آپ کو کسی انسان پہ رحم آیا ہوا؟ واضح رہے، کہ ہلاکو خان کا دور بہت پرانا دور تھا ، اور اس وقت تحریک انصاف کا دور دور تک وجود ہی نہیں تھا۔

توقارئین ہلاکو خان نے جواب دیا، کیوں نہیں، ایک دفعہ ایک عورت ، جو پہاڑپہ بیٹھی تھی کہ اچانک اس کا معصوم بچہ لڑکھڑاتا ہوا پہاڑ سے گرا میں وہاں سے گزررہا تھا، مجھ سے رہا نہ گیا، کیونکہ اس کی ماں چیخ وپکار کرکے بے ساختہ رورہی تھی تو میں فوراً نیزے میں پرو کر بچہ اس کو پکڑا دیا تھا۔ مگر شکر ہے، کہ تحریک انصاف کے آنے کے بعد یہ سلسلہ جو روستم رک گیا ہے ،اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آج کل ہلاکو خان کا جذبہ ترحم کچھ نرم پڑ گیا ہے، مگر چونکہ فتح مکہ میں ریاست مدینہ کے والی سرکار عالی حضور کی دور کو گزرے ڈیڑھ ہزارسال ہونے کو ہے۔ شاید یہاں بھی ایران کے ”بہائی“ کی سوچ عود کر آئی ہے۔

بھارت میں سیکولرازم کا ڈھونگ دم توڑ چکا ہے، کیونکہ اس کے ہرطبقہ ہائے زندگی کے لوگ، پرلوک سدھارنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں مگر کسی قسم کی رو رعایت مسلمانان ہند کو دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ مولانا مسعود اظہر اور کبھی مولانا سعید ان کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں، اور مودی عالمی اداروں تک جا پہنچا ہے، مگر راجستھان سے کرناٹک اور کلکتہ تک مسلمانوں کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے، شیوسہنا ایک ایسی باتنظیم سامنے آچکی ہے اور اس حدتک بے باک ہو گئی ہے، کہ وہ ببانگ دہل بھرتی کرتے، اور انہیں سرعام مشقیں کرتے دکھائی دیتے ہیں، کہ مسلمان انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں، کہ ان پر نہ کوئی قدغن اور نہ کوئی پابندی ، بلکہ انہیں تو اتنی آزادی ہے کہ کسی بھی مسلمان کو نہ صرف سرعام قتل کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کے پورے خاندان کو بھی غائب کرنا معمول بن چکا ہے، نہ تو ان کے خیال میں ان پہ کوئی پرچہ کٹتا ہے، اور نہ ہی ان پہ کسی قسم کی پابندی لگائی جاسکتی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کا علاقہ فوجی چھاﺅنی میں تبدیل کردیا گیا ہے، اور بجائے کسی اور جگہ اپنی فوج کو ٹریننگ دینے کے، وہاں کے افسران بلکہ آرمی چیف تک نے اجازت دی ہوئی ہے کہ اس حوالے سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار گرم رکھا جائے اور یہاں پہ ہی اپنے ہتھیاروں کو آزمایاجائے بقول حفیظ تائب

اے ضمیر ارض محشر ہے بپا کشمیر میں

بھارتی ظلم وستم حدسے بڑھا کشمیر میں

امن کے سوداگروں کو کیا نظر آتا نہیں

کاشمر زادوں کا خونِ نارواکشمیر میں

ادھر دنیا میں دوسراقوم ووطنیت پرست ٹرمپ بھی اگلا الیکشن امید ہے کہ جیت جائے گا جس کی ابتداءاس نے ریاست فلوریڈا میں اجتماعات کرکے کردی ہے اور امریکہ کی معاشی ترقی، اور اپنے کارناموں کی تفصیل اس نے عوام کو بتانی شروع کردی ہے، اور اس کا آغاز وہ اوبامہ کے وقت سے کرتے ہیں، جب امریکہ کی اقتصادیات زمیں بوس ہوگئی تھی، اور امریکہ کے غریب تاریخ میںپہلی مرتبہ فٹ پاتھوں پہ بسر کرنے پہ مجبور ہوگئے تھے، اور خریدوفروخت نہ ہونے کے سبب پراپرٹی کے دفاتر بند ہوگئے تھے۔

ٹرمپ پہلے دن سے بضد ہیں کہ امریکہ میں تارکین وطن کی گنجائش قطعی طورپر منظور نہیں اور حتیٰ کہ وہ میکسیکو کی سرحد پہ جو چار سو میل لمبی ہے، وہ دیوار برلن اور دیوار چین کی طرح دیوار ضرور بنائے گا، خواہ امریکہ دیوالیہ ہی کیوں نہ ہوجائے مگر وہ یہ کام ضرور کرے گا۔

شام اور دوسرے ممالک کے تارکین وطن ، چاہے سمندر میں ڈوب جائیں، مگر ٹرمپ نے انہیں امریکہ داخلے کی اجازت نہیں دی، دنیا چونکہ اس وقت اخلاثی انحطاط پذیری کا شکار ہے، گنے چنے چند افراد بلاشبہ احتجاج ضرور کرتے ہیں مگر اس کی ”شنوائی“ بھی تو ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا یہ بات میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ وہ اور نریندر مودی جب تک زندہ ہیں وہ اپنی انتہا پسندی کی بدولت ،انتخابات ہمیشہ جیتتے رہیں گے، کیونکہ وطنیت پسندی ذومعنیٰ لفظ ہے، جس کو مثبت اور منفی دونوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے، اللہ پاکستان کا حامی وناصر ہو۔


ای پیپر