عمرہ نامہ!.... (چھٹی قسط)
27 جون 2019 2019-06-27

گزشتہ سے پیوستہ ....

اپنے گزشتہ کالم ” عمرہ نامے“ کی پانچویں قسط جو مورخہ 20جون کو شائع ہوئی میں، میں عرض کررہا تھا ”اُس وقت کے صدر زرداری کے ساتھ ایوانِ صدر اسلام آباد میں ملاقات کے بعد میں اپنے چھوٹے بھائی اور دوستوں کے ساتھ مری چلے گیا ، وہاں ریسٹ ہاﺅس میں ٹی وی پر چلنے والی حاجی غلام فرید صابری کی مشہور قوامی ”تاجدارِ حرم“ ہونگاہ کرم، ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے“ کے دوران مجھ پر جو رقت طاری ہوئی، اُس کے بعد جو خواب میں نے دیکھاگزشتہ کالم میں اُس کی مکمل تفصیل میں نے لکھی تھی، .... مجھ پر اِس خواب کا بڑا اثر ہوا تھا، یوں محسوس ہورہا تھا میں کِسی اور ہی دنیا میں جانے والا ہوں، فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد میں باہر آکر ریسٹ ہاﺅس کے لان میں بیٹھ گیا، میں بڑی دیر خاموشی سے وہاں بیٹھا رہا، ایک ایسے سکون سے اُس وقت فیض یاب ہوا جو اِس سے قبل شاید ہی مجھے کبھی مِلا ہو، ہلکی ہلکی دھوپ نے آہستہ آہستہ لان کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا، تیز بارش کے بعد نکلنے والی دھوپ سے دِن اُس روز کچھ زیادہ ہی نِکھرا نکھرا محسوس ہورہا تھا، میں نے ریسٹ ہاﺅس کے کک انعام سے کہا میرے لیے چائے بناکر لاﺅ، اِس دوران میرا چھوٹا بھائی اور میرے دوست بھی جاگ گئے، وہ بھی باہر آکر لان میں میرے ساتھ بیٹھ گئے، میں نے اُنہیں اپنا خواب سنایا کہ کِس طرح رات کو میں نے ایک خوبصورت چمکتا ہوا سیاہ پردہ دیکھا، جس کے پیچھے یا جس کے اندر کوئی موجود تھا، میں باہر کھڑے ہوکر یہ التجائیں کررہا تھا میں نے آپ سے مِلنا ہے۔ کوئی جواب نہیں آرہا تھا، میں روئے جارہا تھا، میں ضِد کررہا تھا آپ سے ملے بغیر نہیں جاﺅں گا، دوسری جانب مگر مسلسل خاموشی تھی، میں اُس سیاہ چمکدار پردے سے لپٹنا چاہتا تھا، میں نے مگر ایسے نہیں کیا، مجھے لگا میں ایک پلید انسان ہوں، مجھے اِس سے لپٹنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، سو میں نڈھال ہوکر اُس کے نیچے بیٹھ گیا، ....میرا چھوٹا بھائی محمد ثاقب بٹ بہت ہی درویش صفت انسان ہے، گزشتہ بیس برسوں سے شاید ہی کوئی نماز اُس نے چھوڑی ہو، وہ صرف فرض نمازیں نہیں، اور بھی کئی نمازیں پڑھتا ہے جِن کا ثواب شاید فرض نمازوں سے زیادہ ہوتا ہے، اُس کی سب سے بڑی نماز یہ ہے آج تک اُس نے کسی کا دل نہیں دُکھایا۔ یہ ”واحد نماز“ ہے جِس سے بہت کم لوگ واقف ہیں، مگر جو یہ نماز پڑھتے ہیں اور اِس کی قدر جانتے ہیں وہ اللہ کے بڑے قریب ہوتے ہیں، میں اُنہیں ”ولی اللہ“ ہی سمجھتا ہوں درویش فرماتے ہیں ”مندر ڈھادے مسجد ڈھا دے، جوکجھ ڈھانا ای ڈھادے .... اِک بندے دا دِل نہ ڈھاویں، رب دِلاں وچ وسدا“ ....ہمارے بزرگ بڑے عظیم تھے، ہم اُتنے ہی غلیظ ہیں، میں آج تک یہ واقعہ نہیں بھولا، میری عمر اس وقت شاید آٹھ،دس برس تھی، میرے دادا عصر کی نماز پڑھ رہے تھے، میں ان کے قریب بیٹھا ”معاشرتی علوم“ کی کتاب پڑھ رہا تھا، کتابوں کے نام اُن دِنوں کتنے اچھے ہوا کرتے تھے، ”معاشرتی علوم اور دینیات وغیرہ ، اب کتابوں کے ساتھ بھی ہمارا رشتہ ختم ہوتا جارہا ہے، ہم تو وہ کتاب (قرآن پاک)بھی اب نہیں پڑھتے جو پڑھنے سے زیادہ سمجھنے والی ہے، ہم سمجھتے ہیں وہ صرف الماریوں میں رکھنے والی ہے، شاعر مرحوم انجم یوسفی کا ایک بڑا خوبصورت شعر ہے” رہے گی یاد کسے آپ کی غزل انجم ....یہاں تو لوگ خُدا کا کلام بھول گئے “ .... میں اپنے دادا کی بات کررہا تھا، وہ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے، ہمارے گھرکے صحن میں ایک ”تخت پوش“ ہوتا تھا جس پر نماز پڑھی جاتی تھی، وہ ”تخت پوش“ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے، میں خوش قسمت ہوں میرے بزرگوں کی کوئی نشانی تو میرے پاس ہے، دادا جان کی نماز کے دوران اُن کا ایک دوست جو آنکھوں کی نعمت سے محروم تھا وہ صحن سے باہر کھلے دروازے پر کھڑا میرے دادا کو آوازیں دے رہا تھا، ظاہر ہے وہ چونکہ بینائی سے محروم تھا اُسے دیکھائی ہی نہیں دے رہا تھا میرے دادا نماز پڑھ رہے ہیں، وہ مسلسل اُن کا نام پکارے آوازیں

دیئے جارہا تھا، اور میں یہ سوچ کر اُسے کوئی جواب نہیں دے رہا تھا کہ میرے جواب دینے سے اُن کی نماز میں کوئی خلل نہ آجائے، یا میں اُن کے آگے سے گزروں گا مجھے اُس کا گناہ ہوگا، ....خیر جب چھٹی ساتویں بار بڑی بلند آواز میں میرے دادا کا اُس نے نام پکارا تو وہ نماز توڑ کر دروازے پر اُس کے پاس چلے گئے، بڑی محبت سے اُسے اندر لاکر بٹھایا اور فرمایا ” میں ذرا نماز پڑھ لوں پھر گپ لگاتے ہیں“،....نماز ادا کرنے کے بعد وہ دیرتک اپنے بینائی سے محروم دوست سے گپیں لگاتے رہے، جب وہ چلے گئے میں نے اُن سے کہا ” دادا ابو ہمیں تو آپ یہ نصیحتیں کرتے ہیں کوئی نماز پڑھ رہا ہو خاموشی اختیار کرنی چاہیے اور خود آپ نے نماز توڑ دی.... یہ آپ نے کیا کیا ؟، وہ بولے ”نماز ہی توڑی ہے دل تو نہیں توڑا“،.... نماز تو میں پھر بھی پڑھ لوں گا، لیکن میرا یہ نابینا دوست مجھ سے ملے بغیر واپس چلے جاتا اُس کا دِل ٹوٹ جاتا، ....میں اکثر سوچتا ہوں، ہم ایسے کیوں نہیں سوچتے جیسے ہمارے بزرگ سوچتے تھے، صرف سوچتے نہیں تھے عمل بھی کرتے تھے، معاشرے میں ایک برکت تھی، لوگ ہوس حرص اور لالچ سے مکمل طورپر پاک تھے، .... افسوس ”نئے پاکستان“ کے ”دھوکے“ میں اپنے ”پرانے پاکستان‘، سے ہم محروم ہوگئے، بلکہ ”مرحوم“ ہوگئے، ہمارے اندر کا انسان مرچکا ہے اور باہر جو ہے وہ کچھ اور ہی ہے، .... خیر مری کے ریسٹ ہاﺅس کے لان میں بیٹھے اپنے چھوٹے بھائی اور دوستوں کو میں نے اپنا خواب سنایا، میرے چھوٹے بھائی نے کہا ”کوئی خوشخبری ملنے والی ہے“ ....ناشتے کے بعد ہم واپس لاہور کے لیے نکل آئے، گاڑی میں حاجی غلام فرید صابری کی قوالیاں لگی تھیں۔ میں بار بار دوقوالیاں ہی سنتے چلے جارہا تھا، ”تاجدارِ حرم، ہو نگاہ کرم، ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے“ ....اور” بھردوجھولی میری یامحمد، لوٹ کر میں نہ جاﺅں گا خالی“ .... ہم کلرکلہار کے قریب پہنچے میرے موبائل کی گھنٹی بجی، سکرین پر کوئی نمبر نہیں آرہا تھا، میں نے کال اٹینڈ نہیں کی، میں اُس سرور سے محروم نہیں ہونا چاہتا تھا جو قوالیاں سنتے ہوئے مجھ پر طاری تھا، میں نے موبائل کی بیل آف کردی، ذرا آگے جاکر ایک ”ریسٹ ایریا‘، میں چائے وغیرہ پینے کے لیے ہم رُکے، میں نے دیکھا میرے موبائل پر کتنی ہی کالز اسلام آباد کے سرکاری نمبروں سے آئی ہوئی ہیں (جاری ہے)


ای پیپر