فٹ بال ورلڈ کپ میں رپورٹر صحافی نے خود کو ہراسانی سے بچا لیا
27 جون 2018 (20:12) 2018-06-27

ماسکو :برازیلین ٹی وی کی صحافی جولیا گوئماریس روس کے شہر یکاٹیرن برگ میں کیمرے کے سامنے رپورٹنگ کے فرائض انجم دے رہی تھیں کہ ایک شخص نے ان کے گال پر بوسہ لینے کی کوشش کی لیکن خاتون صحافی نے پیچھے ہٹ کر خود کو بچا لیا ۔اس موقع پر جولیا نے شدید برہمی کا اظہار کیا جس پر بوسہ لینے کی کوشش کرنے والے شخص نے فوراً معذرت کر لی۔جولیا نے اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ کریں، ایسا کسی کے بھی ساتھ نہ کریں، میں آپ کو ایسا کرنے کی اجازت کبھی نہیں دے سکتی، یہ ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ کو ایسا کسی بھی عورت کے ساتھ نہیں کرنا چاہیے، احترام کریں۔

ٹوئٹر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جولیا نے کہا کہ اس خراب تجربے کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے، میں خوش قسمت ہوں کہ برازیل میں مجھے کبھی اس طرح کے تجربے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہاں ایسا دو بار ہوا ہے جو بہت افسوسناک اور شرمناک ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ماسکو میں روس اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ کے دوران بھی ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی تھی ٗجولیا کے اس جرات مندانہ اقدام اور جارحانہ ردعمل پر صحافی برادری نے انہیں بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے داد دی اور تمام خاتون صحافیوں کیلئے مثال قرار دیا۔

واضح رہے کہ محض ایک ہفتہ قبل ہی ورلڈ کپ کے دوران جرمنی کے نشریاتی ادارے سے بحیثیت اسپورٹس رپورٹر منسلک کولمبیا کی جولیتھ گونزالے تھیران کو صحافتی ذمے داریوں کی انجام دہی کے دوران ایک مداح نے گھیر کر بوسہ لے لیا تھا بعدازاں رپورٹر نے ویڈیو اپنے انسٹا گرام پر شیئر کی جو بہت وائرل ہو گئی۔انہوں نے لکھا تھا کہ احترام کیجیے! ہم اس طرز عمل کے مستحق نہیں، میں فٹبال کے مسحورکن لمحات سے آگاہ کرتی ہوں لیکن ہمیں پیار اور ہراساں کرنے کی حد کی شناخت ہونی چاہیے۔


ای پیپر