طیب اردوان، جماعت اسلامی اور نواز شریف
27 جون 2018 2018-06-27

میں نے گزشتہ ماہ مئی کے دوران پاکستان میڈیا کلب کے زیر اہتمام صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ ترکی کا چند روزہ دورہ کیا تھا۔۔۔ انتخابی تیاریاں زوروں پر تھیں۔۔۔ ہم ترکی کے دو اہم ترین شہروں دارالحکومت انقرہ اور شاندار تاریخی پس منظر رکھنے والے سب سے بڑے شہر استنبول میں جگہ جگہ گئے۔۔۔ استنبول سے انقرہ اور واپسی کے بذریعہ سفر کے دوران کئی مقامات پر اترے۔۔۔ عام لوگوں سے ملے۔۔۔ ترجمان کے ذریعے ان کے خیالات معلوم کرنے کی کوشش کی۔۔۔ طیب اردوان کے اپوزیشن کی جانب سے زوردار تیاریوں کے باوجود انتخاب جیتنے کے آثار ہویدا تھے۔۔۔ انقرہ و استنبول کے دوسرے اہم مقامات کے علاوہ دارالحکومت میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت کا دورہ بھی کیا۔۔۔ کچھ اراکین سے تفصیلی ملاقات اور اور سوال و جواب کی نشست ہوئی۔۔۔ استنبول ہوائی ادارے پر وفد کی مختصر ترین ملاقات صدر مملکت کے ساتھ ہوئی۔۔۔ دو سال (2016ء) قبل ترک فوج کے ایک بڑے حصے نے ملک کے منتخب صدر کے خلاف جو بغاوت کی اور اسے ترک عوام نے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر والہانہ جذبے اور بے مثال مزاحمت کے ذریعے ناکام بنا کر رکھ دیا تھا۔۔۔ اس کے آثار کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔۔۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں بھی وہ جگہ دیکھنے کا موقع ملا جو گولہ باری کی زد میں آ گئی تھی اور گہرے نشانات پڑے ہوئے تھے۔۔۔ ان آثار کو حالیہ قومی و جمہوری تاریخ کی قابل فخر یادگار کا درجہ دیا جا رہا ہے۔۔۔ جمہوریت اور منتخب آئینی حکومت کے تحفظ کی خاطر اپنے ملک کی سب سے طاقتور اور مسلح قوت اور طبقہ اشرافیہ کے اندر گہرا اثر و رسوخ رکھنے والے منظم ترین ادارے فوج کے مقابلے میں بھرپور مزاحمتی جذبے کے ساتھ سامنے آنے اور اس کی جانب سے شب خون مارنے کے عزائم کو ناکام بنا دینے کی جو مثال بہادر اور باشعور ترک عوام نے قائم کی ہے وہ جدید تاریخ کے اندر نہ صرف منفرد درجہ رکھتی ہے بلکہ عالم اسلام کے کسی اور ملک کے حالات کے ساتھ جہاں بادشاہتیں، آمریتیں اور نیم جمہوری حکومتیں قائم ہیں اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ ترکوں کا یہی زندہ و توانا قومی و جمہوری شعور آج وہ دو سال بعد زبردست صدارتی و پارلیمانی انتخابی معرکے کے نتیجے میں جناب طیب اردوان کی کئی ایک مبصرین کے لیے حیران کن اور ان کی پیشین گوئیوں کے برعکس کامیابی پر منتج ہوا ہے۔
موجودہ انتخابی معرکے میں طیب اردوان اور ان کی جماعت اے کے پارٹی کے ساتھ قائم ہونے والے دوسری جماعتوں کے اتحاد کا مقابلہ اتاترک اور عصمت انونو کی وارث خالصتاً سیکولر اور آئین کے اندر فوج کے کردار کو متعارف کرانے والی سب سے پرانی جماعت ری پبلیکن پارٹی اور اس کے اتحادی محاذ کے ساتھ تھا۔۔۔ ری پبلیکن پارٹی کی حقیقی معنوں میں سب سے بڑی اتحادی وہاں کی فوج اور ملک کی مغرب نواز اشرافیہ رہی ہے۔۔۔ آج بھی ہے۔۔۔ موجودہ صدارتی انتخاب میں طیب اردوان کے مدمقابل اسی ری پبلیکن پارٹی کے نو آموز لیکن اپنے حامی طبقات میں مقبول اور پر جوش مقرر محرم آنحے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ سامنے آئے خوب مقابلہ کیا۔۔۔ مگر وہ اربکان اور اردوان دور میں فروغ پانے والی اسلامی تہذیبی اقدار کی مقبولیت سے اتنے مرعوب تھے کہ جلسہ عام میں اپنی اہلیہ کے سر پر سکارف پہنا کر ساتھ لائے۔ مغربی اخبارات و جرائد اور جغادری مبصرین کا خیال تھا کہ اردوان صاحب اپنے زبردست حریف کے مقابلے میں پچاس فیصد سے کم ووٹ حاصل کر پائیں گے۔۔۔ یوں ملکی آئین کے تھت انہیں دوسرے راؤنڈ کا معرکہ در پیش ہو گا۔۔۔ پہلے راؤنڈ میں کامیابی ھاصل نہ کرنے کی وجہ سے اردوان کی شخصیت کا طلسم ٹوٹ چکا ہو گا دوسرے میں کوئی بھی نتیجہ سامنے آ سکتا ہے۔۔۔ لیکن اتوار 24 جون کے انتخابی نتائج نے ان تمام تجزیوں اور دنیا بھر میں ننگے اور اتاترکی سیکولرزم دوست عناصر کی خواہشات کا دم توڑ کر رکھ دیا۔۔۔ جناب اردوان نے نہ صرف اولین راؤنڈ میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کر کے ایسے تمام تجزیہ نگاروں کو سر کھجانے پر مجبور کر دیا بلکہ 53 فیصد ووٹ لے کر اپنے سب سے بڑے حریف محرم آنجے (30 فیصد) کے مقابلے میں 23 فیصد کی برتری حاصل کر لی۔۔۔ اس پر مسترزاد یہ کہ اسی روز ہونے والے پارلیمانی چناؤ میں 600 کے ایوان میں ان کے اتحاد نے 350 سے زائد نشستیں حاصل کر کے تمام مخالفین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے جبکہ خیال یہ کیا جا رہا تھا اگر اردوان صدارتی انتخاب جیت بھی گئے تو پارلیمانی چناؤ میں انہیں مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہو پائے گی۔۔۔ یوں وہ اپنے ملک کے سیاسی نظام کو پارلیمانی کی جگہ صدارتی میں تبدیل کرنے کے ارادے کو آسانی کے ساتھ بروئے کار نہ لا سکیں گے۔۔۔ یہیں سے ان کے زوال کا آغاز ہو جائے گا۔۔۔ نئی پارلیمنٹ قدم قدم پر ان کے صدارتی اختیارات پر بھی قدغنیں لگانے میں کامیاب ہو گی۔۔۔ مگر تمام نتائج اس کے الٹ ثابت ہوئے۔۔۔ ترک عوام نے ایک مرتبہ پھر فوج کے آئینی کردار (جو اردوان کے ہاتھوں عملاً ختم ہو چکا ہے) کے خواہشمندوں کے ساتھ آخری حد تک مغربی تہذیب و اقدار کی قدروں سے چمٹی ہوئی بظاہر بالادست اور امیر ترین طبقات پر مشتمل اشرافیہ اور عالمی شہرت رکھنے والے مذہبی مبلغ بہت بڑے تعلیمی نیٹ ورک کے سربراہ لیکن امریکہ کے اندر سی آئی اے کی حفاظت میں پناہ گزین جناب فتح اللہ گولن کی تحریک تینوں کو شکست دے دی ہے۔۔۔ اہل مغرب اس کامیابی پر کتنے بر افروختہ ہین اس کا اندازہ آپ کل کے ’نئی بات‘ میں شائع ہونے والے ایک مغربی مبصر سائمن ٹسڈل کے تجزیے میں لگا چکے ہوں گے جس نے اردوان کو اپنے ممالک کے لیے جغرافیائی اور سٹرٹیجک خطرہ قرار دیا ہے، اور غصے کی حالت میں ننگی گالیوں سے نوازا ہے۔
پاکستان میں طیب اردوان کی شاندار کامیابی پر دو قسم کے لوگ خوش بھی ہیں اور حیران بھی۔۔۔ ایک جماعت اسلامی کے دانشور دوسرے نواز شریف کے ہم خیال اور مسلم لیگ (ن) کے حامی، جماعت اسلامی کے دوستوں کا مخمصہ یہ ہے کہ طیب اردوان جس کی اٹھان استنبول کے کامیاب اور عام آدمی کی فلاح کے منصوبوں کو فروغ دینے والے میئر کے طور پر ہوئی تھی۔۔۔ وہ اسلامی سیاست کے علمبردار مرحوم نجم الدین اربکان کی رفاہ پارٹی کے سرگرم کارکن تھے۔۔۔ ان کی شناخت بھی جمہوریت پسند ہونے کے ساتھ اسلام دوست سیاستدان کی ہے۔۔۔ اگر موصوف گزشتہ سولہ برس سے ترکی میں ایک کے بعد دوسری انتخابی معرکہ سر کرتے چلے جا رہے ہیں تو پاکستان میں جماعت اسلامی کیوں نہیں۔۔۔ اس سوال کو زیر بحث لاتے ہوئے اس حقیقت نفس امری کو فراموش کر دیا جاتا ہے کہ جدید دنیا کے اندر عالم اسلام کے کسی ایک ملک کے اندر فقہی اسلام کو رائج دینے کے لیے حالات سازگار نہیں۔۔۔ ترکی کو تو خاص طور پر اتاترک اور ان کی پشت پناہ فوج اور طبقہ اشرافیہ کے سیاستدانوں نے 1930ء سے لے کر آج تک سیکولرزم کے ماحول میں ڈبو کیاغرق کر رکھا تھا۔۔۔ اس پر قدرے ردعمل ساٹھ کی د ہائی کے آغاز صدر عدنان مندریس کی جانب سے آیا جنہوں نے اذان اور چند دوسرے اسلامی شعائر کی کھلے عام اجازت دے دی مگر اسی ’’گناہ عظیم‘‘ کی پاداش میں اس مرد صالح کو تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا۔۔۔ اس کے بعد ترکی یکے بعد دیگرے طغرل اور عدنان مندریس کی آمریتوں کی لپیٹ میں آ گیا۔۔۔ نوے کی د ہائی میں مرحوم و مغفور نجم الدین اربکان بلاشبہ اسلام کا علم بلند کر کے اور بلدیاتی سطح پر طیب اردوان جیسے ساتھیوں کے عام آدمی کی سہولتوں کی خاطر رفاہی کاموں کے ریکارڈ کے ساتھ انتخابی کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔۔۔ وزیراعظم بھی بنے لیکن حسب توقع فوج نے ان کی ایک نہ چلنے دی۔۔۔ امریکہ اور یورپ کے ملک بھی کھلی مخالفت میں ڈٹ گئے۔۔۔ اربکان مرحوم سے اقتدار چھین لیا گیا۔۔۔ طیب اردوان نے اسی زمینی حقیقت کو پہچان لیا۔۔۔ کہانی قدرے طویل ہے لیکن مختصر یہ کہ موصوف نے علیحدہ جماعت قائم کی۔۔۔ اپنی سیاست کا تشخص اقتصادی ترقی آئین و جمہوریت دوستی، آزاد خارجہ پالیسی اور فقہی اسلام کی بجائے معاشرے کے اندر مسلم تہذیبی اقدار کو پروان چڑھانے والے لیڈر کے طور پر قائم کیا۔۔۔ گزشتہ سولہ برس کے دوران ایک مسلم قوم پرست، ملک کی بے پناہ اقتصادی ترقی کی راہ پر ڈالنے اور فلسطین اور امت مسلمہ کے دوسرے مسائل پر اسرائیل اور امریکہ و یورپ کے ساتھ آنکھیں چار کرنے والے مدبر کے طور پر ابھرے ہیں۔۔۔ ان مقاصد کی خاطر جاں گسل جدوجہد کی ہے۔۔۔ اربکان مرحوم کی رفاہ پارٹی نے نام تبدیل کرتے ہوئے اپنے آپ کو فضیلت پارٹی کے طور پر پیش کیا اب اس نے سعادت پارٹی کا نام اختیار کر لیا ہے۔۔۔ موجودہ انتخابی معرکے میں اس نے حیران کن نظریاتی قلابازی کھائی اور طیب اردوان کوشکست دینے کی خاطر ری پبلیکن پارٹی کے اتحاد میں شامل ہو گئی۔۔۔ یہ وہ المیہ ہے جس سے ترکی کی خالصتاً اسلامی جماعت نہیں ہمارے یہاں کے متفقین اور مخلصین بھی دوچار چلے آ رہے ہیں۔
نواز شریف کے حامیوں اور مسلم لیگ (ن) کی نظریاتی و عملی سیاست کے ساتھ وابستگی رکھنے والوں کی حیرانی کا باعث ان کی یہ سوچ ہے جس کے مطابق طیب اردوان اور نوازشریف میں کئی مشترک اقدار پائی جاتی ہیں۔۔۔ دونوں آخری تجزیے میں مسلم قوم پرست ہیں۔۔۔ آئین کی بالادستی اور جموہریت کی بالادستی کے شدت کے ساتھ حامی ہیں۔۔۔ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے اپنے ملک کو اقتصادی ترقی سے سرشار کر دینے کے ایجنڈے کے ساتھ جڑے ہیں۔۔۔ اس کے ساتھ اپنے یہاں کی سب سے طاقتور جمہوریت مخالف قوت کے ساتھ پنجہ آزمائی کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔۔۔ کرپشن کے الزامات نواز شریف پر بھی لگے اور جناب اردوان پر بھی۔۔۔ پھر ترکی کا لیڈر کامیاب کیوں اور پاکستان میں نواز شریف کس لیے نہیں۔۔۔ وجہ ظاہر و باہر ہے۔۔۔ طیب اردوان 2002ء میں وزیراعظم منتخب ہو کر برسراقتدار آئے تھے۔۔۔ تب سے اب تک تمام تر مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود اپنی حکومت کا تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب رہے اس دوران میں انہیں پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے ملک اور عوام کے لیے شاندار اقتصادی ترقی کی منازل طے کرنے کا موقع ملا۔۔۔ جن کا ثمر آج ترک عوام اور خود ان کی سیاست کو مل رہا ہے۔۔۔ اقتدار کی اسی مدت میں وہ مسلم تہذیبی قدروں کو فروغ دینے کا باعث بنے اور خود کو مسلم دنیا کے منفرد آزاد خیال لیڈر کے طور پر منوالیا اس کے برعکس نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے باوجود زبردست عناصر کی جانب سے ہر اڑھائی سال بعد اقتدار سے محرومی کا شکار ہوتے رہے۔۔۔ اقتصادی ترقی کی خاطر شروع کیا جانے والا ان کاہر منصوبہ تعطل کا شکار ہوا۔۔۔ کسی ایک کو حسب پروگرام پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا پائے۔۔۔ اس میں شاید ان کی اپنی غلطیوں کا عمل دخل بھی ہو لیکن یار لوگوں نے بھی اپنی طاقت اور بے پناہ اثر ورسوخ کی بدولت ناکام بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی۔۔۔ اس سب کے باوجود موٹرویز کا جال بچھانے ، سی پیک کا آغاز اور پاکستان ایٹمی طاقت بنانے کے اعلان کی وجہ سے لمحہ موجود کے اندر سب سے بڑی عوامی انتخابی طاقت ہیں۔۔۔ عوام کی معتدبہ اکثریت ایک نوعیت کی خاموش مزاحمت کا مظاہرہ کر رہی ہے تاہم ابھی اہل پاکستان کو اپنے وطن کو کامیاب جمہوری ملک اورشاندار اقتصادی ترقی کا آئینہ دار بنانے کے لیے لمبی جدوجہد سے گزرنا ہو گا۔


ای پیپر