کھلتے ہوئے بند دروازے
27 جون 2018 2018-06-27

سند ھ کی سیاست عرصہ دراز سے،شاید عشروں سے دیہی ناخداؤں اور کراچی ایسے میڑوپولیٹن شہر سے اْٹھے شہری وڈیروں کی دہلیز پر کھڑی باندی کی مانند تھی۔2018ء میں اس شہر یر غمال اور محصورصوبہ کے عوام کے پاس موقع ہو گا کہ وہ ووٹ کے ذریعے تبدیلی لاسکیں۔سندھ میں 1970 سے لے کر آج تک تین یا چار مختصر ادوار کے سوا تمام حکومتیں پاکستان پیپلز پارٹی نے بنائیں۔ ایک بار جام صادق مرحوم،ایک بار علی محمد مہر، ارباب غلام رحیم،لیاقت جتوئی نے اسٹیبلشمنٹ کی سر پرستی میں حکومتیں بنائیں لیکن اس چھتری کا سایہ ہٹتے ہی یہ سارے لیڈر دھند کی طرح تحلیل ہو گئے۔پیپلز پارٹی سیاسی حقیقت بن کر سندھ کے ریگزاروں پر چھائی رہی۔ آج بھی پیپلز پارٹی سندھ کی سب سے بڑی سیاسی حقیقت ہے۔ ماضی میں بھی پیپلز پارٹی کے خلاف کئی الائنس بنے۔مختلف وڈیروں اور پیروں نے بھی علاقائی اور مقامی اتحاد بنائے۔ یہ اتحاد زیادہ دیر چل نہ پائے۔کبھی مفادات آڑے آئے کبھی اناؤں اور شخصی بالا دستی نے کام دکھایا۔ایسا بھی ہوا کہ زرداروں کی چمک کے آگے کوئی نہ ٹھہر سکا۔ پیپلز پارٹی کے عہدنو کے قائد جو سیاست بھی جانتے ہیں اور کاروبار تو ان کی گھٹی میں پڑا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ کون سے وڈیرے کا علاج کیا ہے۔ وہ علاج بالمثل بھی جانتے ہیں اور علاج با لدوا بھی۔ان کے آزمودہ نسخے اب تک کا ر آمد ہیں۔سندھ سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار کہتے ہیں سندھی عوام کے پاس کوئی متبادل نہیں۔لہٰذا ووٹر کی مجبوری ہے کہ وہ اپنا ووٹ موجودہ لاٹ کی جھولی میں ڈالیں۔خاکسار اس تجزیہ سے جزوی طور پر اتفاق کرتا ہے۔ لیکن کلی طور نہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ سندھ کے عوام بھٹو خاندان اس کی قربانیوں اور جدو جہد کو مکمل طور پر اون کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی بڑی ملک گیر جماعت نے سندھ کے عوام سے رابطہ بھی نہیں کیا۔ اس طرح کا معاملہ کراچی کا مینڈیٹ 1988 کے بعد سے ایم کیو ایم کی جیب میں ہے۔ اکا دکا قومی و صوبائی نشستوں کے سوا کوئی جماعت دور دور تک ایم کیو ایم کے مد مقابل نہیں۔ ایم کیو ایم کا یہ دعویٰ درست تھا کہ عروس البلاد کراچی کا پچاسی فیصد مینڈیٹ اس کے پاس ہے۔ 1993 کے انتخابات سے پہلے کراچی آپریشن شروع ہوا تو ایم کیو ایم نے بائیکاٹ کیا۔ لہٰذا دیگر جماعتوں جماعت اسلامی،پی پی ،جے یو آئی،مسلم لیگ (ن) نے بھی قابل ذکر تعداد میں سیٹیں حاصل کیں۔ لیکن ایسا صرف ایک مرتبہ ہی ہوا۔ اس کے بعد ایم کیو ایم کبھی اقتدارسے باہر نہ رہی۔ پرویز مشرف کے دور میں لسانی عصبیت خوب کام آئی۔ایم کیو ایم کی سیاسی بڑھوتری کے لحاظ سے یہ غیر معمولی دور تھا۔ اس دور میں ایم کیو ایم نے پہلی مرتبہ اردو سپیکنگ چیف منسٹر لانے کا خواب دیکھا۔اس خواب کی تکمیل ہو جاتی اگر پرویز مشرف کچھ عرصہ مزید اقتدار میں رہ جاتے لیکن وائے قسمت! آصف زرداری کی کامیاب حکمت عملی نے ان کو رخصت ہونے پر مجبور کر دیا۔ وزارت اعلیٰ کا خواب ادھورا ہی رہ گیا۔ تا ہم ایم کیو ایم کی اقتدار میں شراکت داری جاری رہی تاوقتیکہ بڑ بولے الطاف حسین نے خود ہی بم کولات ماری۔ اس لات مار مہم جوئی کا نتیجہ یہ نکلا کہ قائد تحریک خود بھی شکار ہوئے ۔اور جماعت بھی تتر بتر ہوکر رہ گئی۔ وہ ایم کیو ایم جس کا سیاسی مرکز نائن زیرو تھا۔ اب اس کے اتنے ٹکڑے ہوئے ہیں کہ گنے بھی نہیں جاتے۔ ایم کیو ایم جسے شروع میں دینی جماعتوں کا اثر کم کرنے اور بعد میں پیپلز پارٹی کو توڑنے کیلئے بنایا گیاتھا۔ اب وہ بیت الحمزہ، ڈیفنس، بہادرآباد، نائن زیرو،پیر الٰہی بخش کا لونی کے مابین پنگ پانگ بنی ہوئی ہے۔ اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے ۔ کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا۔ پیپلز پارٹی بہر حال اپنی جگہ پر قائم دائم ہے۔ 2013 کے بعد پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اقتدار میں شراکت دار ہیں۔البتہ اب ان کے راستے جدا جدا ہیں۔ایم کیو ایم اب وہ جماعت نہیں رہی جس کے امیدواروں کے مابین ایک لاکھ سے زائد ووٹ لینے کی شرطیں لگا کر تی تھیں۔کراچی میں جاری آپریشن اورایم کیو ایم کی سیاسی غلطیوں کے باعث اب کراچی بدل گیا ہے۔ ٹارگٹ کلر مارے گئے یا چھپتے پھر رہے ہیں۔بھتہ خوری میں نمایا ں کمی آئی ہے۔ کاروباری سر گرمیاں عروج پر ہیں۔ اب کوئی نو گو ایریا نہیں رہا۔2018 کے عام انتخابات ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہے ہیں جب کراچی پہلے جیسا نہیں رہا۔ اب ملک گیر سیاسی جماعتوں کے پاس وہ موقع جو موجود ہے۔جو انہوں نے 2013 میں ضائع کیے۔ 2013 میں پی ٹی آئی کو موقع ملا تھا کہ وہ کراچی میں اپنے آپ کو منوا سکے۔ پنجاب کی جانب توجہ احمقانہ حد تک خود اعتمادی،دو عملی اور سیاسی حرکیات سے ناشناسی نے پی ٹی آئی کو آگے نہ بڑھنے دیا۔ پی ٹی آئی نے ایک قومی اور دو صوبائی سیٹوں پر ہی قناعت کر لی۔ پانچ سال احتجاجی سیاست میں گزار دیے۔ورنہ شاید پی ٹی آئی کراچی کی سب سے بڑی جماعت ہوتی۔اب تو خیر وہ سندھ کے پی پی مخالف وڈیروں کی سب سے زیادہ فیورٹ جماعت ہے۔
2018ء کے عام انتخابات سر پر ہیں۔سیاسی جماعتوں کیلئے سندھ میں امکانات کی نئی دنیا ئیں موجود ہیں۔ بس آگے بڑھ کر جام کو تھام لینے کی ہمت اور صلاحیت ہونی چاہیے۔ سندھ میں جی ڈی اے کے پاس تمام مواقع موجود ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی کی سیا سی اڑان کے پر کاٹ سکے۔ اگر پی پی مخالف دھڑے متحد رہے۔ اگر ان میں کوئی رخنہ نہ آیا۔ اگر وہ آصف زرداری کے شاطر انہ چالوں کے سامنے ٹھہر سکے تو وہ پیپلز پارٹی کو ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ نہ صرف اپنی پارلیمانی طاقت کو بچا لے بلکہ اس میں اضافہ کرے۔ کیونکہ کراچی کا مینڈیٹ بکھرا ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کی کئی نشستیں ایسی ہیں جو جیتی جا سکتی ہیں۔ پی ٹی آئی کو بھی ایک مرتبہ پھر قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔ اس کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جو ووٹر کیلئے پر کشش ہے۔ سب سے زیادہ مواقع مسلم لیگ (ن) کیلئے ہیں۔سندھ میں مسلم لیگ کا ووٹ بینک موجود ہے۔ اس کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔شہباز شریف کے پاس پنجاب میں پر فارمنس کا کامیاب ماڈل موجود ہے۔ وہ شہری مسائل کی مینجمنٹ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کا دورہ کراچی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صوبے سے نکل کر قوی کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔
سندھ میں سیاست کے بند دروازے قسمت آزمائی کرنے والوں کیلئے کھل رہے ہیں۔ ہمت، حوصلہ اور سیاسی لگن ہوتو سیاسی بازی بیتی جاسکتی ہے۔


ای پیپر