مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کے مقاصد
27 جون 2018 2018-06-27

مودی سرکاری نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر گورنر راج نافذ کر دیا ہے۔ گورنر راج لگانے کیلئے مودی سرکاری نے مقبوضہ کشمیر میں مصنوعی سیاسی بحران پیدا کیا۔ بی جے پی نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت محبوبہ مفتی کی حکومت کا خاتمہ کیا اور گورنر راج کا راستہ ہموار کیا۔ بی جے پی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے واضح مقاصد اور اہداف رکھتی ہے۔ اس کا پہلا ہدف مقبوضہ کشمیر میں جاری مزاحمت اور عوامی تحریک کو طاقت کے بے دریغ استعمال کے ذریعے کچلنا اور دبانا ہے تا کہ بھارتی قبضے کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کروایا جاسکے اور دنیا میں اس ثاثہ کو پھیلایا جائے کہ کشمیریوںں کی تحریک آزادی در اصل جموں و کشمیر کے عوام کی آزادی کی تحریک نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کی تحریک ہے جس میں بیرونی مداخلت اور عناصر موجود ہیں۔

دوسرا ہدف وادی کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے کشمیر کے ہندو پنڈتوں کی بحالی اور دوبارہ آباد کاری کے نام پر ہندوؤں کو بڑی تعداد میں وادی کشمیر میں بسانے کا منصوبہ رکھتی ہے تا کہ مسلمان آبادی کی واضح اکثریت کو کم کیا جاسکے۔ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں یہ مقامی قانون حائل ہے جس کے تحت غیر کشمیری کشمیر میں زمین نہیں خریدسکتے۔ مودی سرکاری اس قانون کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے جموں میں بڑی تعداد میں آباد کاری کر کے وہاں پر آبادی کا تناسب تبدیل کیا گیا ۔ اس وقت جموں میں آبادی کی اکثریت غیر مسلموں پر مشتمل ہے اور بی جے پی جموں سے کافی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ میں کچھ وہ وادی کشمیر میں بھی کرنا چاہتا ہے۔

تیسرا ہدف مقبوضہ جموں و کشمیر کی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنا ہے تا کہ کشمیر کی بھارتی آئین کے تحت خصوصی حیثیت کو تبدیل کیا جاسکے اور دیگر قوانین بدلے جاسکیں۔ گورنر راج کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایسی صورت حال اور خوف و ہراس کی ایسی فضاء قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ جب اسمبلی کے نئے انتخابات ہوں تو بی جے پی کو اکثریت حاصل ہوسکے۔ تا کہ وہ کشمیریوں کو جو تھوڑے بہت قانونی آئینی اور جمہوری حقوق حاصل ہیں ان کو بھی چھینا جاسکے۔ اور کشمیریوں کو بھارت کی مستقل غلامی قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔

چوتھا ہدف 2019ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کیلئے مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تا کہ سخت گیر ہندو انتہا پسندوں کی حمایت حاصل کی جائے اور ہندو آتا کی بنیاد پر ہندو آبادی سے مزید حمایت حاصل کی جائے۔ 2014ء میں بی جے پی نے اسی ایجنڈے پر کامیابی حاصل کی تھی اور 2019ء میں وہ اسیایجنڈے کو مزید سخت گیر اور مسلم دشمن بنانا چاہتی ہے۔ تا کہ اس بنیاد پر اگلے انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکے۔ مودی نے گذشتہ عام انتخابات میں معیشت کو مضبوط بنانے اور روز گار فراہم کرنے کے جو وعودے کئے تھے ان میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہوا۔ اس لئے وہ مسلم دشمنی اور ہندو ایجنڈے پر انتخابات میں اترنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ کوئی بھی جماعت مقبوضہ جموں و کشمیر میں مخلوط حکومت نہ بنا سکے اور گورنر راج کو طویل عرصے تک برقرار رکھا جائے۔ اس وقت PDP کانگریس اور نیشنل کانفرنس ہی ملکر مخلوط حکومت بنا سکتی ہیں مگر ایسا اس وقت مشکل نظر آتا ہے۔ PDP کا بی جے پی کے ساتھ اتحاد اور مخلوط حکومت تین سال تک قائم رہی مگر ان تین سالوں میں دونوں کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات موجود رہے۔ PDP کی تمام تر بھارت نوازی کے باوجود PDP کشمیریوں سے بات چیت کے ذریعے امن قائم کرنے اور طاقت کے استعمال کو محدود اور کم کرنے کے حق میں تھی جبکہ بی جے پی بات چیت کی بجائے بہیمانہ طاقت کے ذریعے تحریک کو کچلنے کے حق میں ہے۔

گورنر راج کے نفاذ کے اہداف کے حوالے سے بھارتی وزیرداخلہ اور آرمی چیف نے اپنے عزائم کو واضح کر دیا ہے۔ دونوں نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں جو کہ تحریک آزادی کشمیر میں سرگرمی ہیں اور نوجوانوں میں اچھا خاصا اثر و رسوخ اور حمایت رکھتے ہیں۔ گورنر راج کا واضح مقصد عام انتخابات جو کہ اگلے برس منعقد ہونے ہیں سے قبل کشمیر میں موجود عوامی مزاحمت اور تحریک کو ہر قیمت پر کچلنا ہے۔ مودی سرکاری کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اس مقصد اور ہدف کو حاصل کرنے کیلئے کتنا ظلم، جبر ، ریاستی طاقت، تشدد اور بربریت استعمال کرنی پڑتی ہے۔ بھارتی قابض افواج جو کہ پہلے سے ہی بے شمار اختیارات کی مالک ہیں۔ ان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مزید اختیارات دے دیئے جائین تا کہ وہ ہر قانون ، قاعدے اور ضابطے سے آزاد ہو کر جس کے ساتھ جو سلوک کرناچاہیں کریں۔

نامور بھارتی صحافی اور رائزنگ کشمیر کے چیف ایدیٹر شجاعت بخاری کی شہادت اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ بی جے پی کے کئی راہنما سر عام دھمکیاں دے رہے ہیں کہ جو بھی بھارت قبضے کے خلاف اور آزادی کے حق میں بات کرے گا اس کو بھی شجاعت بخاری کی طرح قتل کر دیا جائے گا۔ مودی سرکار کشمیر میں میڈیا کی تھوڑی بہت آزادی کو بھی پوری طرح کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نئے منصوبے کے تحت انٹرنیٹ پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی اس کی سروسز کو محدود کیا جائے گا۔ اخبارات ؟؟؟ شپ عائد ہوگی۔ موبائل فون کی سروسز کو بھی بند اور محدود کیا جائے گا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر جو کہ چلے ہی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کیا جاچکا ہے اسے غزہ میں تبدیل کرنے کی تیاری اور کشش ہو رہی ہے۔ بھارتی حکمت عملی اسرائیل سے مختلف نہیں ہے جس کے تحت قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے جتنی لاشیں گرانی پڑیں گرائی جائیں جتنے لوگوں کو مارنا اور زخمی کرنا پڑے کرو مگر ہر قیمت پر اپنی حاکمیت ‘ تسلط اور قبضہ برقرار رکھو۔

مگر گذشتہ 70 سالوں کے تجربات اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ تمام ترجبر ‘ بربریت اور ریاستی طاقت کے استعمال

کے باوجود بھارت کشمیریوں کے دل و دماغ سے آزادی کی سوچ ، لگن ، تڑپ اور جذبہ ختم نہیں کر سکا ہے۔ اگر ظلم و جبر اور طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے ایسا ممکن ہوتا تو 70 برسوں سے جو کچھ بھارتی قابض افواج نے کیا ہے اس کے بعد تو کشمیر میں آزادی کے حق اور بھارتی غلامی اور تسلط کے خلاف ایک آواز بلند نہ ہوتی مگر ایسا نہیں ہوا۔ تمام تر جبر ، تشدد اور ظلم آزادی کے جذبے کو کچلنے میں ناکام ہے۔ کشمیری ہر قربانی دینے کو تیار ہیں مگر بھارتی تسلط اور قبضے کو ماننے اور تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

مودی سرکار جو کچھ کرنا چاہتی ہے اس کے اچھے نتائج ہر گز نہیں نکلیں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں ، سماجی تحریکوں اور سول سوسائیٹی کو دنیا بھر میں اس صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے انسانی حقوق کی بڑی پیمانے پر ہونے والی خلاف ورزی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔


ای پیپر