الحدیدہ: سعودی یمن جنگ کا خطرناک محاذ
27 جون 2018 2018-06-27

مارچ2015ء میں جب سعودی عرب نے یمن میں جاری خانہ جنگی میں مداخلت کرتے ہوئے ایران نواز باغی حوثیوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو سعودی حکومت کو یقین تھا کہ یہ محض چند دن کی بات ہے سعودی فوجیں حوثی باغیوں کو کچل دیں گی اور وہاں سعودی نواز یمنی صدر عبدالربو منصور ہادی کی حکومت کا کنٹرول ہو جائے گا جو کہ دارالحکومت صنعاء پر 2014ء میں ہونے والے حوثی قبضے کے بعد وہاں سے جان بچا کر فرار ہو گئے تھے لیکن حوثی باغی سعودی عرب اور اس کی40 ملکی کولیشن فورس کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہوئے اور جنگ کو چوتھا سال شروع ہو چکا ہے مگر صورتحال آج بھی جوں کی توں ہے۔ یہ جنگ سعودی عرب کے لئے ایک اعصابی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے اور سعودیہ کے عملاً حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سخت پریشان ہیں کہ وہ تو نمازیں بخشوانے گئے تھے روزے گلے پڑ گئے۔ وہ شام، لبنان، ایران، فلسطین اور اسرائیل کے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح یمن سے ان کی جان چھوٹ جائے۔

جو بات سعودی عرب کو 2015ء میں کرنی چاہئے تھی وہ اس لئے نہ ہو سکی کہ سعودی فورسز کے پاس یمن کے لئے کوئی جنگی پلان نہیں تھا یہ صرف بمباری کرتے تھے تا کہ حوثی وہاں سے انخلاء کر دیں اب انہیں احساس ہوا کہ جب تک حوثی لاغیوں کی سپلائی لائن نہیں کاٹ دی جاتی یہ جنگ مزید 10 سال میں بھی منظم نہیں ہو گی چنانچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے فیصلہ کیا کہ بحیرہ عرب میں واقعہ یمن کی بندگاہ الحدیدہ جہاں سے یمن کو 80 فیصد خوراک اور تیل سپلائی ہوتا ہے اور جس پر حوثی باغیوں کا کنٹرول ہے اس پر حملہ کر کے وہاں قبضہ کر لیا جائے سعودی حکام کا الزام ہے کہ الحدیدہ سے ہی ایرانی میزائل یمن لائے جاتے ہیں جو سعودی عرب کے شہروں پر برسا دیئے جاتے ہیں۔

گزشتہ ایک ہفتے سے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی فوجوں نے الحدیدہ پر یلغار کر رکھی ہے ایک دفعہ تو یہ بھی خبریں آئیں کہ سعودی اور اماراتی فوجوں نے الحدیدہ پر قبضہ کر لیا ہے مگر بعد ازاں پتہ چلا کہ انہوں نے بندر گاہ سے 6 کلو میٹر دور ایئر پورٹ پر قبضہ کیا ہے۔ سمندری پورٹ ابھی تک حوثیوں کے قبضے میں ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس لڑائی میں حملہ آوروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔

جنگ سے پہلے یمن میں اقوام متحدہ کے نمائندے Giffrithنے دونوں فریقوں کو انتباہ کیا تھا کہ اگر یہاں لڑائی طویل پکڑ گئی تو ملک میں خوراک پانی اور ادویات کی شدید قلب پیدا ہو جائے گی جس سے ہزاروں افراد کے مرنے کا خدشہ ہے ان کی بات نہیں مانی گئی انہوں نے کہا تھا کہ الحدیدہ کو اقوام متحدہ کے سپرد کر دیا جائے اور دونوں فریق اس علاقے سے نکل جائیں۔ جب ان کی بات نہ مانی گئی تو وہ وہاں سے نکل گئے جنگ کے پہلے دن امارات اور سعودی اتنے پرامید تھے کہ انہوں نے کہا کہ حوثی ہتھیار ڈال دیں یا نکل جائیں ان کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات ہوں گے اور نہ ہی کوئی شرائط ہوں گی حوثیو نے پورے علاقے میں بارودی سرنگیں بچھا دیں اور میدان چھوڑنے سے انکار کر دیا کئی جگہ وہ گھیرے میں بھی آئے اور ایئر پورٹ پر سعودیوں کا قبضہ ہو گیا مگر ان کی حکمت عملی یہ تھی کہ ایئر پورٹ سے زیادہ بندر گاہ ضروری ہے۔ لہٰذا انہوں نے بندرگاہ پر اپنا قبضہ مستحکم کر لیا ہے اور پچھلے ایک ہفتے سے صورتحال جوں کی توں ہے اور سعودی اور اماراتی پیش قدمی روک دی گئی ہے۔

یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ اس حملے میں سعودی عرب امارات کی فوج کی مدد کے لئے سوڈان اور کئی دیگر ممالک کے فوجی ہیں جو کولیشن کا حصہ ہیں۔ امریکہ کی طرف سے ٹیکنیکل امداد دی جا رہی ہے امریکی سیٹلائٹ کی مدد سے سعودیوں کو حوثی باغیوں کی نقل و حرکتکی اطلاع دی جاتی ہے جس پر سعودی فضائیہ حملے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ فرانس اور برطانیہ کا جدید ترین اسلحہ سے جو سعودی اور اماراتی فوجوں کے پاس ہے جبکہ دوسری طرف یمنی باغیوں کو کوئی بیرونی امداد حاصل نیہں ہے ایرانی میزائیلوں کے استعمال کے الزام کو حوثیوں نے تردید کی ہے۔

لیکن اصل خطرہ یہ ہے کہ خوراک اور ادویات کی بندش اور قحط سالی کی وجہ سے وہاں پر لاکھوں بے گناہ انسانوں کی موت کا اندیشہ ہے۔ اقوام متحدہ کی وارننگ ہے کہ پانی کی قلت سے وہاں ہیضے کی وبا پھیلنے کا خطرہ ہے جس سے لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن جائیں گے۔

محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک ایران کو شکست نہ دی جائے تب تک یمن شام لبنان عراق پر سعودی بالادستی قائم رکھنا ممکن نہیں ہے اس لئے سعودی عرب نے سفارتی طور پر ایران کو تنہا کرنے کے لئے ایران نیوکلیئر ڈیل ٹرمپ کے ذریعے کینسل کرائی۔


ای پیپر