کیاکچن آئٹمز کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے
27 جون 2018 2018-06-27

دہشت گردی اور تخریب کاری کی طرح مہنگائی بھی ہمارے ہاں ارباب حکومت کے لئے ایک ایسا ’’ناقابل فہم بحران‘‘ بن رہی ہے کہ جس کے حل کے لئے7 عشرے گزر چکنے کے باوجود وہ کوئی موثر ، نتائج خیز اور قابل عمل منصوبہ بندی کرنے سے وہ قاصر رہے ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ وہ طاقتور ترین حکمران جو موثر ترین حزب اختلاف کو بآسانی زیر کر لیتے ہیں، گرانی اور مہنگائی کے ’’دیو‘‘ کے سامنے اعتراف بے بسی سے کام لیتے نظر آتے ہیں۔ ہر نیا آنے والا حکمران عوام کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ اسے چند ماہ کی مہلت دیں اور اس دوران صبر و تحمل سے کام لیں تو وہ’’ مستقبل قریب‘‘ میں ’’ ورثے میں ملنے والی‘‘ مہنگائی کا قلع قمع کر کے رکھ دے گا۔ابتدائی دنوں میں وہ چند ماہ کے لئے اس ’’کڑوی گولی‘‘ کو ملک کے وسیع تر مفاد میں نگل لینے کا مشورہ دیتا ہے لیکن بعد ازاں اس کی توجہ مہنگائی پر قابو پانے کے بجائے ’’اقتدار کی دیوی کی تسخیر‘‘ کی جانب مبذول ہو جاتی ہے اور وہ بھول جاتاہے کہ اقتدار کے سنگھاسن پر فروکش ہوتے ہی اس نے وطن عزیز کے مسائل اور مصائب کے ڈسے بے بس و بے کس عوام کو کیا کیا خوش خبریاں سنائی تھیں۔ ایک دور میں سادہ لوح عوام کو حکمرانوں کی جانب سے انتہائی مہارت کے ساتھ یہ باور کرایا جاتا رہا کہ مہنگائی عالمی اقتصادی کساد بازاری کا نتیجہ ہے ۔اسی طرح بعض دیگر منخب حکمرانوں کے بھاری تنخواہ پانے والے معاشی ترجمان عوام کوطفل تسلی دیتے رہے کہ ’’جلد ہی ‘‘ مہنگائی پر قابو پا لیا جائے گالیکن حالات و حقائق گواہ ہیں کہ ارباب حکومت کی یقین دہانیوں اور ان کے تنخواہ دار ’’اقتصادی ترجمانوں‘‘ کے لالی پاپس کے باوجود مہنگائی میں اضافے کی شرح پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ گراف کے آخری پوائنٹ کی جانب محو پرواز رہی۔

المیہ تو یہ ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کا معاملہ بھی مسئلہ کشمیر کے ’’آبرومندانہ حل ‘‘ کی تلاش کی طرح ہر دور کے ارباب حکومت کے لئے ایک ایسا معمہ رہا ہے جو سمجھنے کا ہے نہ سمجھانے کا ۔ مہنگائی کی تیزی سے بڑھتی شرح اس امر کی دلیل ہے کہ ارباب حکومت حکومتی رٹ قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ کسی بھی معاشرے اور مملکت میں مہنگائی اسی وقت جنم لیتی ہے جب ناجائز فروش ، گراں فروش اور ذخیرہ اندوز مافیاکی سرگرمیاں پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے ذمہ داران کے ساتھ ملی بھگت کی وجہ سے بلا خوف و خطر پروان چڑھنے میں میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ حکومتی اہلکاروں سے ساز باز کے بغیر معاشرے میں کسی فرد کی جرات نہیں کہ وہ کسی بھی چیزکے من چاہے نرخ مقرر کر سکے یا منہ مانگے دام وصول کر سکے۔ اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی پر قابو پانا مریخ پر آکسیجن کی تلاش کی طرح’’ ناممکن کے حصول ‘‘ایسی بے کار کوشش ہے ۔عوام سستے نرخوں پر اشیا ئے ضروریہ کی فراہمی تو ارباب حکومت کی پہلی اور اولین ذمہ داری ہوا کرتی ہے ۔ جب روز مرہ اشیاء، اشیائے ضروریہ اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی ذخیرہ اندوز ، گراں فروش، چور بازار اور اجارہ دار اپنی مرضی سے مقرر کرنے لگیں اور انہیں روکنے ٹوکنے پر مامور سرکاری اداروں کے اہلکاران و افسران اس پر چپ سادھے رہیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہوتا ہے کہ ’’چوکیدار‘‘ نے ’’چور‘‘ کے ساتھ مل کر متحدہ محاذبنا لیا ہے ۔ ناجائز مہنگائی اور بلا جواز گرانی کے ذمہ دار عوام دشمن اور سماج دشمن عناصر کے سنگین جرائم پر ان کے خلاف قرار واقعی کارروائی کا نہ ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ متعلقہ ذمہ داران نے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے عوامی فلاح و بہبود کو داؤ پر لگا رکھا ہے ۔ایسے میں بیچارے عوام یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ حکمرانوں نے سماج دشمن ، ریاست دشمن اور عوام دشمن عناصر کو فری ہینڈ دے رکھا ہے کہ وہ جس طرح چاہیں گرانی اور مہنگائی کے خنجر سے عام آدمی کی خواہشوں، امنگوں اور آرزؤں کا قتل عام کرتے رہیں۔ مہنگائی کی ذمہ دار قوتیں بھی در حقیقت عام آدمی کی معاشی ، ذہنی ، نفسیاتی اور سماجی زندگی کی قاتل ہوتی ہیں ۔ وہ حکومتیں جو عوام کو لوٹنے والے مٹھی بھرغیر محب وطن گراں فروش تاجروں ، ذخیرہ اندوز آڑھتیوں اور اجارہ دار سرمایہ داروں کو نکیل ڈالنے میں ناکام رہیں ، انہیں کوئی حق نہیں تھاکہ وہ گڈ گورننس کے قیام کا دعویٰ کریں تیں۔

یہ تو ہر کسی کے علم میں ہے کہ پاکستان دنیا کے ان چند خوش قسمت ترین ممالک میں سے ایک ہے جس کا بنیادی تشخص ایک زرعی ملک کا ہے ۔ ایک زرعی ملک کے شہری بھی اگر آلو ، سبز مرچیں اور ٹماٹر ایسی عام اور ارزاں سبزیاں مہنگے ترین درآمدی پھلوں کے نرخو ں میں خریدنے پر مجبور ہوں تو اسے نرم ترین الفاظ میں سنگین ترین زیادتی ہی کہا جاسکتا ہے ۔ کیا زرداری اور نواز شریف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے حکمران ساگ پات اور سبزیوں پر گزارا کرنے والے عوام کو یہ بتانا پسند کریں گے کہ پاکستان کے بڑے چھوٹے شہروں اور قصبوں کی سبزی منڈیوں میں فروخت کے لئے لائی جانی والی سبزیاں مشتری سیارے سے منگوائی جاتی ہیں؟ مستقبل کے منتخب حکمرانوں کو یہ سادہ سی بات ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اگر کوئی منتخب جمہوری حکومت آٹا ، چینی ،دودھ ، گھی ، سبزیاں،گوشت اور دالوں ایسی کچن آئٹمز کی قیمتوں میں کمی لاکر انہیں کم از کم اپنے آئینی عرصہ حکومت تک کے لئے مستحکم کر دے تو ایسی حکومت کوعوام صرف ایک آئینی دورانیہ کے لئے ہی نہیں بلکہ زائد آئینی دورانیوں کے لئے منتخب کرنے کے عمل کو اپنی فلاح کا ضامن سمجھیں گے۔معاشرے میں تمثیلاً یہ کہا جا رہا ہے کہ ایک دور میں لوگ مٹھی میں رقم لے کر بازارجاتے تھے اور بوریاں بھر کر سامان خوردو نوش گھر لاتے تھے اور اب بوریوں میں رقم بھر کر بازار کا رخ کرتے ہیں اور اشیائے خورو نوش مٹھیوں میں بھر کر لاتے ہیں۔


ای پیپر