ٹرن ٹرن ۔۔۔ ہیلو ہیلو ۔۔۔؟؟‘‘
27 جون 2018 2018-06-27

’’السلام علیکم‘‘ ۔۔۔ میں نے پہلی بیل پر موبائل فون آن کیا تو کوئی بولا ۔۔۔ ’’وعلیکم السلام‘‘ میں نے جواب دیا تو بے تکلف ہوتے ہوئے فرمانے لگے ۔۔۔
’’لگتا ہے سو رہے تھے‘‘ ۔۔۔ مجھے حیرت ہوئی ۔۔۔ میں نے حیرت کو قابو میں کیا اور عرض کی ۔۔۔ حضور آپ کی پہلی بیل پر میں نے موبائل آن کر لیا اور آپ کے سلام کا جواب سانس لیے بغیر دے دیا ۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے آپ جب دل چاہیں سوئیں ۔۔۔ جاگیں ۔۔۔ دوستوں کو کبھی کبھار فون ضرور کر لیا کریں ۔۔۔
وہ بولے اور فون بند ہو گیا تھا ۔۔۔ شاید بات کرتے کرتے سو گئے تھے؟ ۔۔۔ ملتان سے یہ کال تھی ۔۔۔ جب بھی فون آیا فرماتے ہیں ’’سو رہے ہو‘‘ ۔۔۔
’’ ہیلو ‘‘ ۔۔۔ ’’ ہیلو ‘‘ ۔۔۔ ’’ ہیلو ‘‘ ۔۔۔ پہلی بیل کے بعد میں نے فون آن کیا تو دوسری طرف سے کسی نے تین بار زور زور سے ہیلو کیا ۔۔۔ اگر میں کانوں سے بہرہ بھی ہوتا تو کہہ ڈالتا ۔۔۔ ’’میاں آہستہ بولو ۔۔۔ کان مت کھاؤ‘‘۔
’’افضل‘‘ ۔۔۔ ’’افضل‘‘ ۔۔۔ ’’افضل‘‘ ۔۔۔ پھر تین بار بولے ’’جی ہاں‘‘ ۔۔۔ ’’جی ہاں‘‘ ۔۔۔ ’’جی ہاں‘‘ ۔۔۔ میں نے پہچان لیا ۔۔۔ میری اس وضاحت کا نوٹس لیے بغیر پھر گرجے ۔۔۔ ’’لگتا ہے کھانا کھا رہے تھے ۔۔۔ کھانا ۔۔۔ کھانا‘‘ ۔۔۔ ’’حضور میں کھانا کھا رہا تھا ۔۔۔ یا آپ‘‘ ۔۔۔ میں نے وضاحت چاہی تو بولے ۔۔۔ ’’گرمیوں میں تیتر بیٹر مت کھانا ۔۔۔ عقل ماری جاتی ہے‘‘ ۔۔۔ ’’آپ نے اب کھانے چھوڑ دیے ہیں یا نہیں؟ ‘‘ ۔۔۔ یہ پہلی بات تھی جو انھیں سمجھ آ گئی ۔۔۔ جس پر انھوں نے خوشی کا اظہار اس طرح کیا ۔۔۔ ہا ہا ۔۔۔ ہا ہا ۔۔۔ ہا ہا ۔۔۔ چھوڑ چکا ۔۔۔ چھوڑ چکا ۔۔۔ چھوڑ چکا ۔۔۔
یہ افضل صاحب گوجرانوالہ میں رہتے ہیں۔ لکھاری ہیں لیکن گھر داری کے لیے مٹھائی کا کام کرتے ہیں ۔۔۔ مٹھائی کھانے کا نہیں مٹھائی تیار کرنے کا ۔۔۔ تیس سال کے ہیں اور بتانے والی بات یہ کہ اٹھائیس سال سے شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ کسی کو بتاتے نہیں ۔۔۔
مبادا ۔۔۔ کوئی مٹھائی اور دوائی اکٹھی کھانے سے روک دے ۔۔۔ ویسے آپ کوشش نہ کریں بات کبھی نہیں مانتے ۔۔۔ کسی کی بھی نہیں ۔۔۔ کہتے ہیں مزاح نگار ہیں ۔۔۔ مگر میں نے کبھی انھیں ہنستے نہیں دیکھا (حالانکہ عطاء الحق قاسمی صاحب فرماتے ہیں کہ ’’جس کے چہرے پر ہنسی نہیں، گفتگو میں قہقہہ نہیں وہ مزاح نگار کیسے ہو سکتا ہے) ۔۔۔ جنازوں میں شریک نہیں ہوتے کہتے ہیں ہنسی آ جاتی ہے کہ جب میرا جنازہ اٹھے گا تو بڑے بھائی جان کی شامت آ جائے گی کیونکہ میں نے چالیس پچاس لوگوں سے ادھار لے رکھا ہے اور اگر بھائی جان نے غلطی سے جنازہ اٹھنے سے پہلے پوچھ لیا کہ افضل مزاح نگار نے کسی سے ادھار لیا ہو تو میں حاضر ہوں ۔۔۔ اور پھر بھائی جان کو لوگ ’’غائب‘‘ کر دیں گے ۔۔۔ بھائی جان جانیں ۔۔۔ لوگ جانیں ۔۔۔ ’’وہ تو فرشتوں سے گفتگو میں محو ہوں گے‘‘۔۔۔
’’ ٹرن ٹرن ‘‘ ۔۔۔ فون بند ۔۔۔یہ مس کال تھی ۔۔۔ پھر ’’ ٹرن ٹرن ‘‘ ۔۔۔ پھر فون بند ۔۔۔ پھر ’’ ٹرن ‘‘ ۔۔۔ پھر مس کال تھی ۔۔۔ پھر صرف ’’ٹر‘‘ ۔۔۔ پھر کچھ وقفے کے بعد ’’ٹر‘‘ ۔۔۔ کیا پریکٹس ہے مس کال دینے کی ۔۔۔ ٹرن ٹرن کی بجائے صرف ’’ٹر‘‘ ۔۔۔ ’’ٹر‘‘ ۔۔۔ یہ آپ غلط فہمی کا شکار نہ ہوں مینڈک کا فون نہیں ہے ۔۔۔ یہ فیصل آباد سے ہمارے دوست ہیں شیخ اصغر ندیم آپ سمجھ گئے ہوں گے ۔۔۔ یہ تین ٹیکسٹائل ملز کے مالک ہیں ۔۔۔ مجھے نہیں یاد کبھی انہوں نے پوری کال کی ہو ۔۔۔ ہمیشہ مس کال دیتے ہیں اور اگر دو منٹ کے اندر اندر جواب میں آدھ گھنٹے کی کال نہ کروں تو بہت ناراض ہوتے ہیں اور رات وقفے وقفے سے ’’ٹر‘‘ ۔۔۔ ’’ٹر‘‘ سے مجھے سونے نہیں دیتے ۔۔۔ میں جب کال کرتا ہوں تو سلام دعا نہیں کرتے ۔۔۔ سیدھا پوچھتے ہیں ’’بارش تو نہیں ہو رہی لاہور میں؟‘‘ ۔۔۔ کیوں شیخ صاحب ۔۔۔ ’’یار بارش ہو گی تو سردی جلد آنے کا اندیشہ ہو گا اور سردی جلد آ گئی تو میری فیکٹری کی بنی لون کون خریدے گا؟‘‘ ۔۔۔ شیخ صاحب چاہتے ہیں بارہ مہینے موسم گرم رہے اور ان کی فیکٹری کی بنائی لان سدا بکتی رہے ۔۔۔ پورے خطے کا موسم بدل ڈالنے کا ارادہ ہے موصوف کا ۔۔۔ گرمی ہی گرمی سارا سال گرمی ۔۔۔ حالانکہ پاکستان میں ’’الیکشن‘‘ کی گرمی بھی جون جولائی میں عوام کو ’’آنکھیں دکھا‘‘ رہی ہے ۔۔۔
’’ٹوووں‘‘ ۔۔۔ ’’ٹوووں‘‘ ۔۔۔ ’’ٹوووں‘‘ ۔۔۔ یہ جانی پہچانی کال ہے کراچی سے بھائی نورم خان کی ’’ٹوووں‘‘ ۔۔۔ ’’ٹوووں‘‘ ۔۔۔ میں موبائل آن کرتے ہی بول پڑتا ہوں ۔۔۔ ہاں جی بھائی نورم خان ۔۔۔ ضرور ضرور اخبار آ گیا ہے ۔۔۔ مجھے یاد ہے ۔۔۔ خبریں پڑھنے سے پہلے ۔۔۔ آپ کا ابھی کالم پڑھتا ہوں ۔۔۔ ہاں ہاں ۔۔۔ رائے بھی دوں گا ۔۔۔ تنقید بھی کروں گا حالانکہ مجھے نہیں یاد میں نے کبھی نورم خان کے کالم پر تنقید کی ہو ۔۔۔ ایک بار کی تھی انھوں نے ایک ایک نکتے پر تنقید کی وجہ پوچھی ۔۔۔ تفصیل مانگی اور تقریباً ایک گھنٹہ بات کی کال میری طرف سے تھی ۔۔۔ اتنے وقت میں بندہ پورے کا پورا مشتاق احمد یوسفی یا ابن انشاء پڑھ لیتا ہے۔
’’غررر‘‘ ۔۔۔ ’’غررر‘‘ ۔۔۔ یہ عجیب سی بیل ہے لیکن یہ بھی جانی پہچانی ہے ۔۔۔ ’’غررر‘‘ ۔۔۔ ’’غررر‘‘ ۔۔۔ ’’غررر‘‘۔۔۔
’’یار مظفر ۔۔۔ وہ کل پھر منی بس میں سفر کر رہا تھا کہ میرا فون گن پوائنٹ پر پھر کسی نے چھین لیا‘‘ ۔۔۔ یہ ہمارے کراچی والے صحافی دوست شوکت علی مظفر ہیں شوکت علی مظفر ۔۔۔ بھائی گھبراؤ مت ۔۔۔ مجھے پتہ ہے آپ نے اب کے سات سو روپے کا خریدا تھا ۔۔۔ چور بے چارہ ستر روپے میں بیچ پائے گا ۔۔۔ شوکت بھائی کی کال ہو اور درد بھری خبروں کے علاوہ کچھ اور ہو ۔۔۔ ممکن نہیں ۔۔۔ پھر بیل پہ بیل ۔۔۔ دسویں بیل پر اٹھایا ۔۔۔ پھر بند ۔۔۔ پھر میں نے خود کال کی ۔۔۔ ’’اپنا ہیلو ‘‘ ۔۔۔ ’’اپنا مظفر بھائی بول رہا ہے‘‘ ۔۔۔ ’’اپنا کیہ حال اے؟‘‘ ۔۔۔ ’’پتہ چلا ہے ۔۔۔ اپنا ۔۔۔ خدا بخش خوشاب والے کے ساتھ پھر فراڈ ہو گیا ہے ‘‘ ۔۔۔ ’’ہور سن ۔۔۔ اپنا ہمارے محلے میں کراچی کی صابری نہاری والوں کی ۔۔۔ اپنا سنا ہے برانچ کھل رہی ہے‘‘ ۔۔۔ ’’اپنا ۔۔۔ میری بلی نے پھر بچے دےئے ہیں اپنا ۔۔۔ دس ہزار روپے ادھار چاہیے اپنا ۔۔۔ بجلی کا بل دینا ہے اپنا ۔۔۔ اپنا السلام علیکم اپنا‘‘ ۔۔۔ (مجھے گلا ہے شوکت سے کہ اُنھوں نے مجھے نہ کراچی بلایا نہ مشتاق احمد یوسفی سے اب کے ملوایا ۔۔۔ اور وہ بیچارے فوت بھی ہو گئے ۔۔۔ حالانکہ سید بدر سعید سمیت ہم نے ’’پینل‘‘ انٹرویو کرنا تھا مشتاق احمد یوسفی صاحب کا ۔۔۔ بہر حال اک مزاح نگار کی وفات پر زیادہ سنجیدہ ہونا)۔۔۔؟؟!!
فون میں نے کیا ہے ۔۔۔ مجھے بولنے نہیں دیا گیا ۔۔۔ ’’اپنا اپنا ۔۔۔ میں ۔۔۔ میں‘‘ ۔۔۔ اپنی سنائی اور فون بند ۔۔۔ اس دوران میں بھی بھول گیا ۔۔۔ کہ اپنا ۔۔۔ میں نے بھائی چوہدری امجد گجر کو کیوں فون کیا تھا‘‘ ۔۔۔ یہ لاہور سے لاہور کی جانے والی کال کا تذکرہ تھا۔
’’ٹاں‘‘ ۔۔۔ ’’ٹاں‘‘ ۔۔۔ ’’ٹاں‘‘ ۔۔۔ یہ پشاور سے ملک گلاب خان کی کال تھی ۔۔۔ ’’ ہیلو ‘‘ ۔۔۔ یار بھول گیا ۔۔۔ کیا کہنا تھا مظفر بھائی ۔۔۔ وہ کتاب آپ نے پھر نہیں بھیجا ۔۔۔ گلاب خان میں نے برادر بکسٹال والوں کو آرڈر کے مطابق دس کاپیاں بھیجا ہے‘‘ ۔۔۔ ’’اوہو ۔۔۔ تم نے نیو برادر والوں کو بھیجا ہو گا ۔۔۔ میں خالی برادر پہ چلا گیا تھا ۔۔۔ ابھی گیا ‘‘ ۔۔۔ ’’اور ہاں سن وہ طالبان کے خلاف زیادہ نہ لکھا کرو ۔۔۔ ادھر تمہاری کتابیں بیچنے والوں کی دوکان اڑا دیں گے وہ ظالم بارود سے‘‘۔۔۔
خوفناک پیغام دیا اور کال بند ۔۔۔ گلاب خان گیا۔


ای پیپر