سیاست کے مداری
27 جون 2018 2018-06-27

یوں تو پاکستان کی سیاست عمومی طور پر ہی ایک منفرد مزاج رکھتی ہے۔ لیکن پاکستان کی موجودہ سیاست میں شیخ رشید، جمشید دستی اور عامر لیاقت یہ تین ایسے شاہکار ہیں جوشہرت اور خود نمائی کے لیے ایسے ایسے حیلے اور حربے اختیار کرتے ہیں جن کے بارے میں کوئی عام فرد سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ یہ ہر وقت:

جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے

سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

کے مصداق اس تاک میں رہتے ہیں کہ مشہوری کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ پائے ۔ جھوٹ ، بہتان تراشی، جھوٹی پیشین گوئیاں اور گفتگو میں بازاری جملے اور جگتیں ان کا خاصہ ہیں۔ بولنا مُکرنا اور پھر بولنا اور پھر مُکرنا ان کی بنیادی صفت ہے۔ سیاست ان کی شناخت ہے۔ ان کا گمان ہے اور یہ خوش فہمی ہے کہ لوگ انھیں بہت سنتے اور دیکھتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انھیں سن کر سنجیدہ طبقہ کڑھتا ہے اور عامی محظوظ ہوتے ہیں۔ جب یہ افراد کسی ٹی وی چینل پر بیٹھے گفتگو کررہے ہوتے ہیں تو انھیں سننے والوں کو راقم نے صلواتیں سناتے بھی دیکھا ہے۔ لیکن اپنی ریٹنگ کے حددرجہ جنون میں مبتلا الیکٹرانک میڈیا کے لیے بھی ایسے افراد کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ سیاست ان کے نزدیک کسی نوٹنکی سے کم نہیں ہے۔ محرم کے مہینے میں یہ سیاہ لباس میں ملبوس نظر آئیں گے، ربیع الاول میں نعت کی محافل میں شریک دکھائی دیں گے اور رمضان میں چہرے پر مسکینی سجائے رمضان کے فضائل بیان کرتے نظر آئیں گے۔ شیخ رشید ہوں یا عامر لیاقت، یہ جن سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی وابستہ رہے وہاں ان کی حیثیت مشیر کی بجائے ایک ترجمان سے زیادہ کی نہیں رہی۔

انتخابات کا طبل بج چکا ہے۔ ایسے میں تمام اہل سیاست کی جانب سے عموی طور پر اور خاص کر مذکورہ شخصیات کی جانب سے ایسی ایسی حرکات دیکھنے کو ملیں گی جو سیاست میں کسی اچھی روایت کے اضافے کا سبب نہیں بنیں گی۔

چند روز قبل جمشید دستی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرانے گدھا گاڑی پر گئے۔ جمشید دستی جب سے سیاست میں ہیں وہ اکثر ایسی حرکات کرتے رہتے ہیں کہ خبر کا موضوع بنیں۔ یہی وتیرہ شیخ رشید نے بھی اختیار کررکھا ہے ۔ انھیں بھی عجیب و غریب حرکتوں اور باتوں سے خبروں میں رہنے کا فن آتا ہے۔ اُدھر جمشید دستی گدھا گاڑی پر بیٹھے تو شیخ رشید نے بھی سکوٹر پر اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا۔ اسی طرح عامر لیاقت چند ہفتے قبل تک تحریک انصاف کے خلاف بدلتے رہے ہیں وہ سامنے کی بات ہے۔ لیکن آج وہ تحریکِ انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔عمران خان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ انتخابات میں ٹکت ایسے افراد کو دیں گے جو انتخابات جیتنے کی سائنس جانتے ہوں۔

سواری کے لیے گدھا گاڑی کا استعمال ہو یا سکوٹر کا، اس حد تک سیاسی فنکاری کو تو برداشت کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جب مذہب کے فرائض اور ایمان کو اپنی نیک نامی کے اشتہار کے لیے استعمال کرنے کی نوبت آجائے تو وہ معاشرے کے منہ پر طمانچے کے سوا کچھ نہیں۔شیخ رشید اور عامر لیاقت نے اپنے اپنے انتخابی اشتہاروں میں خود کو بالترتیب ’’ مجاہد ختم نبوت‘‘ اور ’’محافظ ختم نبوت و سفیر ناموس رسالت‘‘ قرار دیا ہے:۔

کوئی نسبت بھی ان آنکھوں سے ہے پیمانے کو

مسلمان اور ختم نبوت کا اقرار لازم و ملزوم ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ مسلمان ہو اور ختم نبوت پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ لیکن اس پر خود کو دوسروں سے منفرد بنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ مذہب بھی ایسے افراد کے لیے سیاسی حربے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ ایک پانچ وقت کا نماز پڑھنے والا فرد اپنے نام کے ساتھ نمازی لکھنا شروع کردے یا رمضان کے روزے رکھنے والا خود کو روزوی کہلوانا شروع کردے۔

ممتاز قادری مرحوم کی شہادت کے بعد مذہبی جذبات سے کھیلنے کا آغاز ایک بار پھر ہوچکا ہے ۔ اس بنیاد پر ایک مذہبی و سیاسی جماعت کا قیام بھی عمل آچکا ہے۔ چونکہ ختم نبوت کا موضوع کچھ عرصے سے زیرِبحث ہے ۔لہذا شیخ رشید اور عامر لیاقت نے موقع غنیمت جانا اور دین کے مسلمات میں شامل ختم نبوت جیسے رکن کو اپنے اپنے انتخابی اشتہار کا حصہ بنا لیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ ’’ جو شخص لوگوں کے ساتھ دین کے بارے میں دھوکہ اور فریب کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمدؐ کا دشمن ہے‘‘۔ مگر کیا کیجیے کہ یہ تعلق ہی اس قبیلے سے رکھتے ہیں جو معاشرے کے جذبات کو اپنی شخصیت کی نمائش اور بقاء کے لیے استعمال کرنا خوب جانتا ہے۔

کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ

پاکستان کی سیاست میں اب تک مذہب کو جس طرح استعمال کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں جو مذہبی تعبیرات وجود میںآئی ہیں اس مذہب ،ریاست اور معاشرے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ تاریخ نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ جب بھی اہل مذہب نے سیاست کو اور اہل سیاست نے مذہب کو استعمال کرنا چاہا ہے تو اس کے نتیجے میں مذہب اور سیاست دونوں کا استحصال ہوا ہے اور ا فراط و تفریط نے جنم لیا ہے ۔ مسلم آبادی کی اکثریت پر مشتمل پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو ختم نبوت پر یقین نہ رکھتی ہو۔ ایسے میں شیخ رشید اور عامر لیاقت کا خود اس نعرے پر منفرد بنانا معاشرے پر کیا اثرات مرتب کرے گا ، انھیں اس سے کوئی غرض ہے نہ دلچسپی ۔ ان کا مقصود صرف اور صرف پارلیمنٹ کا رکن بننا ہے ۔ ممکن ہے کہ یہ مذہب کے جذباتی استعمال سے اپنے اہداف کے حصول میں کامیاب ہو بھی جائیں ۔ لیکن انتخابات کے بعد ان کے انتخابی اشتہارات کی یاد کر کے لوگ یہ ضرور کہیں گے:

تماشہ دکھا کر مداری گیا


ای پیپر