عام آدمی اور دو وقت کی روٹی کا حصول
27 جون 2018 2018-06-27

ہماری.ماضی کی دونوں منتخب حکومتوں کی وزارت خزانہ بسا اوقات ایسی رپورٹیں شائع کرتی رہی ہیں جن کا مقصد محض جعلی اعداد و شمار کے ذریعے عوام کو یہ باور کرنا تھا کہ ملک کی داخلی معیشت بلندیوں کے آسمانوں کو چھو رہی ہے ۔ یہ رپورٹس در اصل الف لیلیٰ کی کہانیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ان رپورٹس کا کمال یہ ہے کہ خورد بین سے بھی گہرے مطالعہ کے باوجود ایک عام شہری یہ نہیں جان پاتا کہ یہ رپورٹس وزارت خزانہ کے ایڈم سمتھوں کے حسنِ کارکردگی پر روشنی ڈالتی ہیں یا ان کی ناقص کارکردگی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ ایسی ہی ایک رپورٹ ملکی معیشت کے استحکام کی ضامن گزرے دور کی وزارت خزانہ نے بھی جاری کی تھی۔ واضح رہے کہ وزارت خزانہ کی رپورٹ میں فخریہ انکشاف کیا گیا تھا کہ ’ملک میں بجلی اور گیس کے استعمال میں اضافہ ہوگیا ہے،گذشتہ 4 سال کے دوران بجلی کے استعمال میں 18 فیصد اور گھروں میں گیس کی کھپت میں 8فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اس سے قبل 70.5فیصد افراد گھریلو استعمال کیلئے بجلی کا استعمال کرتے تھے جبکہ ان لوگوں کی شرح بڑھ کر 76.1فیصد ہوگئی ۔گیس کے استعمال میں بھی اضافہ کا رجحان منظر پر آیا ، گھروں میں گیس استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 35.2سے بڑھ کر 39.3فیصد تک پہنچ گئی ‘‘رپورٹ کا یہ انکشاف حیرا ن کن ہے کہ’ ’اپنے ذاتی گھر رکھنے والوں کی تعداد میں ساڑھے3 فیصد ،2 سے 4کمرے رکھنے والے مکینوں کی تعداد میں سوا 8 فیصد اضافہ اور ایک کمرہ میں رہائش رکھنے والوں کی تعداد میں 13 فیصد کمی ہو ئی ‘‘ رپورٹ کا یہ پہلو قابل غور تھاکہ ن لیگ کی حکومت کے دور میں رہائش ایسی بنیادی ضرورت سے محروم ہونے والے شہریوں کی تعداد میں قابل ذکر حد تک اضافہ ہوا ۔ ایک کمرے کی چھت ایسی ناگزیر اور بنیادی ضروریات سے محروم ہونے والے شہریوں کی تعداد میں23فیصد اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان 10برسوں میں معاشرے اور مملکت میں غربت کی شرح میں پریشان کن حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ لوگ غربت ، افلاس ، ناداری اور گرانی کے ہاتھوں اس حد تک عاجز آئے کہ انہیں ایک کمرے پر مشتمل اپنی جائیداد تک کو بھی فروخت کرنا پڑا۔ کیا اس صور ت حال کوکسی بھی طور حوصلہ افزاء کہا جا سکتا ہے۔

جہانتک بجلی اور گیس کے صارفین کی شرح میں اضافہ کا تعلق ہے تو یہ اضافہ قطعاًاس امر کی نشاندہی نہیں کرتا کہ عوام کے ذرائع آمدن میں اضافہ ہوا یا انہیں حکومت نے روزگار کے پُر کشش مواقع خاطر خواہ تعداد میں فراہم کئے ۔ رہائش عوام کی بنیادی ضرورت ہے جبکہ بجلی اور گیس محض ایک سہولت ہے۔اس سہولت کے حصول کیلئے بھی عوام کی اس اکثریت کوجس کی روزانہ آمدن ایک اور ڈیڑھ ڈالر کے مابین ہے ،سولہ سولہ گھنٹے روزگار کے کولہو میں بیل کی طرح جُتنا پڑتا ہے۔بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کیلئے باپردہ اور شریف ترین گھرانوں کی عورتوں کو روزگار کی تلاش میں در در کے دھکے کھانا پڑ رہے ہیں۔ اس سخت ترین اور جان لیوا مشقت کے باوجود جب ایک غریب خاندان کاسربراہ اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے مناسب اشیائے خورو نوش خریدنے سے قاصر ر ہتا ہے تومہنگائی اورغربت سے تنگ آکر وہ خود کشی اور خود سوزی ایسا مشکل اور ناگوار ترین فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتاہے۔ عام آدمی غربت، افلاس اور تنگدستی سے تنگ آکر کیوں خودکشی اور خود سوزی ایسا دنیا کا مشکل ترین فیصلہ کرتا ہے ، اس کا ادراک ماضی کے وہ حکمران کیسے کرتے جن کی آل اولاد لندن ایسے شہر میں لاکھوں پاؤنڈز مالیت کے مہنگے ترین فلیٹس کی مالک ہے۔

غریب ترین ملک کے کنگال ترین خزانے پر پلنے والے ان کھرب پتی حکمرانوں اور ان کی وزارت خزانہ کے ڈالروں میں تنخواہ،الاؤنسز اور اعزازئیے پا نے والوں کو کیا خبر عام آدمی کیسے زندگی بسر کرتا ہے اور وہ دو وقت کی روٹی کے حصول کیلئے کیا کیا جتن کرتا اور پاپڑ بیلتا ہے،سچ تو یہ ہے کہ اس ملک کی حکمران سیاسی اشرافیہ کو اس کا حقیقی ادراک و احساس ہوتا تو وہ پریزیڈنٹ ہاؤس ، پائم منسٹر ہاؤس، چیف منسٹر ہائرسز، گوورنر ہاؤسزوفاقی پارلیمانی لاجز ،ایم پی ایز ہاسٹلز اورا وفاقی و صوبائی افسر شاہی کے دفاتراور رہائش گاہوں کی اندرونی آرائش و زیبائش کے لیے قومی خزانے سے سالانہ اربوں کی رقم کی منظوری نہ دیتے۔ میرے نزدیک اس قسم کے تمام اخراجات قومی خزانہ کو ضایع کرنے کے جرم کی مد میں آتے ہیں۔ ترقی یافتہ جمہوری مملکتوں کے عوام دوست ارباب حکومت اس قسم کے اللوں تللوں کی اجازت دینے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

یہ بات کسی شک و شبہ کے بغیر کہی جا سکتی ہے کہ 1985سے تا دمِ تحریرصرف اس ایک مد میں200رب روپے سے زائد کا قومی سرمایہ انتہائی سفاکی اور بیدردی سے اُڑایا جا چکا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر یہی 200ارب روپیہ غریب، نادار اور بیروزگار نوجوانوں کو ایک لاکھ روپیہ فی کس کے حساب سے 2فیصد مارک اپ پر دیا جاتا تو اب تک 20لاکھ نوجوان معاشی خود کفالت اور اقتصادی خود انحصاری کی منزلِ مراد حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہوتے اور سرکاری خزانے میں سالانہ2 فیصد کے حساب سے اربوں کا منافع بھی جمع ہوتارہتا نیز یہ کہ اصل رقم بھی محفوظ رہتی۔


ای پیپر