یہ پھول نہیں کانٹے ہیں؟
27 جون 2018 2018-06-27

عام انتخابات کی سرگرمیوں کا آغاز بڑے جوش جذبے کے ساتھ ہو چکا ہے۔ عوام کو امیدواروں کی طرف سے یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں کہ اب وہ منتخب ہو گئے تو ان کے پچھلے تمام گلے شکوے دور کر دیں گے۔۔۔ انہیں نظر آئے گا کہ ان کی خواہش تکمیل کی جانب بڑھ رہی ہیں؟

عوام بے چارے، ان کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھ رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جو کہہ رہے ہیں سچ ہے یا پھر وہی روایتی طرز عمل ہے جو گزشتہ سات دہائیوں سے اختیار کیا جا رہا ہے۔۔۔؟

مجھے آج سے چند ہفتے پہلے امید واثق تھی کہ اب کی بار عوامی امنگوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔۔۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسائل اور بگاڑ اس قدر گھمبیر ہو چکے ہیں کہ اگر ان کو ختم نہ کیا گیا تو عوامی ردعمل سامنے آ سکتا ہے جو انتہائی شدید ہو سکتا ہے۔۔۔ پھر ہمارے معروضی حالات ہیں جو کسی طور بھی عوام سے چشم پوشی کی اجازت نہیں دیتے۔ اُدھر معیشت کمزوری کی طرف جا رہی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ بھاری قرضہ لینا پڑے گا بصورت دیگر ملک معاشی اعتبار سے بہت پیچھے چلا جائے گا لہٰذا ضروری ہے کہ عوامی رائے کا احترام کیا جائے مگر دکھائی یہ دے رہا ہے کہ عوام کو یکسر پس پشت ڈال کر تمام فیصلے ہونے جا رہے ہیں جو شعوری دور میں اہل خرد و دماغ کی بڑی غلطی ہو گی۔۔۔!

بہرحال سیاسی عمل جاری ہونے سے مجبور و بے بس عوام کو یہ امید بندھ چلی ہے کہ اب وہ در پیش مشکلات سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جنہوں نے گزشتہ طویل عرصے سے ان کو ایک اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔۔۔ کاش! ایسا ہو جائے۔۔۔ کہ وہ مزید ستم سہنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ اس سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگ خاموشی سے ہار مان لیں اور جو ہوتا ہے ہونے دیں۔۔۔ یا پھر وہ احتجاج کے راستے پر نکل کھڑے ہوں کہ اگر انہیں سسک سسک کر مرنا ہے تو کیوں نہ وہ اپنے حق کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے دم دے دیں۔۔۔؟

’’بادشاہ گروں‘‘ کو ان دو پہلوؤں سے متعلق سوچنا ہو گا۔۔۔ کیونکہ اگران کی امید ختم ہو گئی ان کے آرزوؤں کے چراغ گل ہو گئے تو پھر اس مایوسی کو پھیلنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ جو لاتعلقی کو جنم دیتی ہے اور کیا موجودہ حالات اس کے متحمل ہو سکتے ہیں۔۔۔؟ کون سنتا ہے نقار خانے میں طوطی کی آواز۔۔۔؟

یہاں تو تگڑوں کی اہمیت و حیثیت ہے۔۔۔ وہ لب بھی کھولیں تو کہا جاتا ہے پھول جھڑتے ہیں۔۔۔ مگر کوئی کمزور اور غریب خون کے دیپ بھی جلائے تو قابل تعریف و توجہ نہیں ہوتے۔۔۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو ہونے جا رہا ہے یعنی عام انتخابات کے نتیجے میں جو حکومت بنے گی وہ عوام کے لیے وہ کچھ نہیں کر پائے گی جو وہ چاہتے ہیں۔۔۔ اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں اپنی جیت کے لیے سرگرداں ہیں اور کروڑوں اربوں روپے خرچ کر کے ایوانوں میں پہنچنا چاہتی ہیں۔ ان سے کوئی پوچھے اتنی بڑی رقوم کے عوض کامیابی کس لیے۔۔۔؟ وہ کہیں گی مخلوق خدا کے لیے۔۔۔؟ جبکہ یہ سفید جھوٹ ان کے سینے میں دل تو ہے مگر اس میں درد اور خلوص نہیں وہ دوسروں کے کے لیے نہیں ، ان کے اپنے لیے دھڑکتا ہے لہٰذا وہ ایوانوں میں پہنچتے ہی اپنا نقصان پورا کرنے کی سوچنے لگتے ہیں۔ لہٰذا وہ مصروف ہو جاتے ہیں۔ ووٹرز ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں اور وہ آگے ہی آگے جا رہے ہوتے ہیں۔۔۔ سچی بات ہے کہ میں ان انتخابات سے بالکل خوش نہیں ہوں اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انتخابات نہ ہوں۔۔۔ ہونے چاہئیں اس سے عوام کے اندر ایک جذبہ پیدا ہوتا ہے اپنی دھرتی سے محبت کا احترام کا۔۔۔! انہیں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ وہ غیر اہم نہیں ہیں ان کی کوئی عزت ہے آبرو ہے مگر افسوس انہیں ہمیشہ محروم ہونا پڑا اپنی اہمیت و افادیت سے۔۔۔ وہ ووٹ دیتے رہے۔۔۔ مگر وہ ان لوگوں کو منتخب نہ کر سکے۔۔۔ جنہیں وہ عزیز تھے۔۔۔ عرض کرنے کا مقصد ان کی پرچی کی کوئی وقعت نہیں تھی۔۔۔ یہ کھیل محض انہیں بے وقوف بنانے اور ان کی ذات کو مصنوعی طور سے ابھارنے کے لیے کھیلا گیا۔۔۔ اور وہ یہی سمجھتے رہے کہ دیکھا ، وہ کس قدر قیمتی ہیں؟ اب جب ان کی خواہشوں کے برعکس اتھل پتھل ہو رہی ہے پیسے والے آگے آ رہے ہیں جنہیں ’’قابل انتخاب‘‘۔۔۔ اور اعلیٰ سوچ کا حامل تصور کیا جا رہا ہے بلکہ قرار دے دیا گیا ہے تو وہ تذبذب کے سمندر میں غوطہ زن ہیں کہ انہیں تو بتایا گیا تھا کہ وہ ہی بہتر فیصلہ کرتے ہیں لہٰذا جسے منتخب کریں گے۔۔۔ اسے من و عن تسلیم کیا جائے گا۔۔۔ مگر یہ کہنا ہو گا کہ ان پر ’’مسلط گروہ‘‘ اب بھی مسلط ہونے جا رہا ہے۔۔۔ یوں ان کا مستقبل سیاستدانوں نہیں سیاسی بہروپیوں کے ہاتھ میں ہو گا۔۔۔ وہ جیسے چاہیں گے ۔۔۔ کریں گے انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔ جبکہ ملک تو پہلے ہی پستیوں کی جانب رواں ہے۔۔۔ زندگی کے تمام شعبے بری طرح سے متاثر ہیں، سرکاری ادارے برباد ہو چکے ہیں، ایک سراسیمگی نظر آ رہے ہے، ہر طرف ایسا اس لیے ہوا کہ یہاں ’قانون‘ مفلوج تھا، اب بھی ہے طاقتوروں کی طرف اسے دیکھنے میں نئی طرح کی رکاوٹیں کھڑی نظر آتی ہیں لہٰذا وہ انہیں ریلیف بھی دیتا ہے اور چہل قدمی سے بھی نہیں روکتا روشنیوں میں جا کر موج مستیوں سے بھی منع نہیں کرتا۔۔۔ مگر عام شہری کو گردن سے دبوچتا ہے۔۔۔ یہ زیادتی ہے۔۔۔ اور یہ زیادتی طوالت نہیں پکڑ سکتی۔۔۔ کیونکہ ستم رسیدہ جسموں میں سکت باقی نہیں اور جب ایسی صورت حال جنم لے لے تو پھر ہیٹلی اُتے، تے اُتلی ہیٹاں‘‘ ہو جاتی ہے کیا 71 برس کے بعد ایسا ہونا ممکن نہیں ۔۔۔؟

لگ رہا ہے عوام کے تیور پہلے والے نہیں وہ ہر اس امیدوار کو روک روک کر پوچھ رہے ہیں کہ ’’اب تک کہاں تھے؟‘‘ سوشل میڈیا پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بپھرے ہوئے نوجوان ’’جماندرو‘‘ سرداروں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک ہے روشنی ہے وہ تبدیلی چاہتے ہیں انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں انہیں ان وڈیروں نے سرداروں نے، جاگیرداروں نے اور سرمایہ داروں نے نوچ نوچ کر کھایا ہے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ جتنی بھی حکمت عملیاں انہیں ٹھنڈا کرنے کے لیے اختیار کی جا رہی ہیں، تحلیل ہو جائیں گی۔۔۔ بہت مشکل ہو چکا سیلاب کے آگے بند باندھنا۔۔۔ لہٰذا جو وعدہ کیا جائے گا اسے پورا کرنا پڑے گا۔۔۔ پانچ برس کے آخر پے نہیں ان کے آغاز میں۔۔۔!

حرف آکر یہ کہ کامیابیوں کے لیے جوڑ توڑ ہونے لگا ہے برادریاں متحرک ہو گئی ہیں کوئی بڑا تنگ دستوں کی پرچیوں کا سودا کرنے جا رہا ہے اور کوئی رعب و دبدبہ کے تحت ووٹوں کو حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔۔۔ بھلا یہ ہوتے ہیں انتخابات اور اس سے جمہوریت آئے گی۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں ۔۔۔ یہ دھوکا ہے ایک سراب ہے اس کے پیچھے بھاگنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔۔۔ کوئی لاکھ دلیلیں دے کر عام انتخابات سے یہ چمن مہک اٹھے گا اسے نہیں مانا جا سکتا۔۔۔ کہ یہ پھول نہیں کانٹے ہیں۔۔۔؟


ای پیپر