مشتاق احمد یوسفی کا عہد یوسفی
27 جون 2018 2018-06-27

پڑھتے جائیے اور ہنستے جائیے۔

مشتاق احمد یوسفی صاحب کراچی جم خانہ میں منعقدہ ادبی تقریب کے دوران فرمانے لگے کہ ’’یہاں تو پاپ میوزک کی تقریبات زیادہ ہوتی ہیں۔ آپ نے ادبی تقریب منعقد کر کے بدعت کی ہے۔ آپ یہ مت سمجھیے کہ میں پاپ میوزک کے خلاف ہوں۔ میرے دوست مرزا ودود بیگ صاحب پاپ اور راک میوزک بڑے ذوق وشوق سے سنتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاپ میوزک سن کر میرا تو ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ فورا سمجھ میں آجاتا ہے کہ موسیقی کو حرام کیوں قرار دیا گیا ہے‘‘۔۔۔

پاپ اور راک میوزک کی ایک محفل میں حاضری کے بعد اس کا احوال یوں ایک جگہ یوں لکھتے ہیں کہ ’’پاپ اور راک گانا سننے کے بھی اپنے آداب ہوتے ہیں۔ پاپ میوزک جینز، جوگرز، باتصویر ٹی شرٹ پہنے اور ببل گم کے بغیر پلے نہیں پڑتا۔ اگر سننے والا اونچا سنتا ہو تو اور بھی سہانا لگتا ہے۔پاپ میوزک سننے کی نہیں دیکھنے کی چیز ہے۔

پاپ میوزک کی جس محفل کا ہم نے ذکر کیا اس میں پاپ سنگر کو کئی لاکھ کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ سٹیج پر پھول پھینکے گئے۔ ہزار ہزار کے نوٹ قدموں پر نچھاور کیے گئے۔بعض خواتین نے اپنے دوبٹے، کانوں کے بندے، مندریاں اور نیکلس اتار کر سٹیج پر پھینک دیے۔ ایک اللہ کی بندی نے اپنے سہاگ کی نشانی یعنی چوڑیاں اور انگوٹھی تک اتار کر سٹیج پر پھینک دی۔ اس کا بس چلتا تو جوش عقیدت میں شادی کی انگوٹھی کے ساتھ شوہر کو بھی اٹھا کر سٹیج پر پھینک دیتی۔ جا تجھے کشمکش عقد سے آزاد کیا، قوالی کے بارے میں فرماتے تھے کہ ، قوالی کا شعر اس وقت تک سمجھ میں نہیں آتا جب تک سر پر کروشیے کی ٹوپی اور آنکھوں کے سامنے مزار نہ ہو۔ کروشیے کی ٹوپی کھینچے تانے بغیر کسی بھی سر پر فٹ آتے ہم نے نہیں دیکھی۔’’مشہور ہونے کی خواہش کے حوالے سے فرماتے تھے کہ ’’مرزا صاحب نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ بھی معین اختر کی طرح مشہور ہو جائیں۔ آپ ٹی وی چینلز پر جایا کریں۔ اب تو کافی پرائیویٹ ٹی وی چینلز بھی آ گئے ہیں تو ہم نے جواب دیا کہ ایک پروڈیوسر نے طوائف سے کہا کہ ہم تمھیں اپنی فلم میں ایک ہیروئین کے رول میں کاسٹ کرنا چاہتے ہیں۔ معاوضہ بہت اچھا ملے گا۔ مشہوری الگ ہو گی۔ وہ بولی معاف کیجیے میں اس کوٹھے پر بڑی عزت کی زندگی گزار رہی ہوں۔ فلمی دنیا کا ماحول خراب ہے‘‘۔۔۔ بیوروکریٹس کے بارے میں فرماتے تھے کہ ’’بیوروکریٹ ہمارے ہاں سب سے جابر مجبور اور سب سے زیادہ مسکین ظالم ہے۔ اس غریب کو ہر آنے والے کا بول بالا اور ہر جانے والے کا منہ کالا کرنا پڑتا ہے‘‘۔

اپنے بارے میں فرماتے تھے کہ ’’ہمارے بیان میں اگر کہیں تفنن کی آمیزش نظر آئے تو معذرت چاہوں گا۔ وہ اسلئے کہ بچھو اپنی محبت کا اظہار بھی ڈنگ سے کرتا ہے‘‘۔۔۔تنخواہ دار طبقے کی مظلومیت یوں بیان کرتے تھے کہ ’’مہینے کی آخری تاریخوں میں اگر کوئی ملازمت پیشہ شخص کچھ کہے سنے بغیر اچانک بے ہوش ہو جائے تو آپ اسے ہسپتال ہر گز نہ لے جائیں۔ بلکہ ہزار کا نوٹ سنگھا دیں۔اللہ نے چاہا تو نہ صرف فورا آنکھیں کھول دے گا بلکہ جھپٹا مار کر نوٹ بھی اچک لے گا۔مگر شرط یہ ہے کہ نوٹ ایک ہزار روپے کا ہو اور نیا ہو‘‘۔

جون ایلیا کے بارے میں فرماتے تھے کہ ’’ایک دن جون ایلیا کا انٹرویو کرتے ہوئے جون ایلیا مجھے کہنے لگے کہ میرے پاس اب صرف پینتیس کرتے اور ایک پاجامہ رہ گیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اس ایک پاجامے کو بھی کسی کو بخش دیجیے تا کہ ایک طرف سے تو یکسوئی ہو‘‘۔

ایک جگہ لکھاکہ ’’مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے‘‘۔۔۔مرنے کے حوالے سے فرماتے تھے کہ ’’ہم ہسپتال میں مرنے کے خلاف نہیں ۔ ویسے تو مرنے کے لیے کوئی بھی جگہ ناموزوں نہیں ، لیکن پرائیویٹ اسپتال اور کلینک میں مرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مرحوم کی جائیداد، جمع جتھا اور بینک بیلنس کے بٹوارے پر پسماندگان کے درمیان خون خرابا نہیں ہوتا کیونکہ وہ سب ڈاکٹروں کے حصے میں آجاتے ہیں‘‘۔۔۔ مشتاق احمد یوسفی صاحب سنجیدہ آدمی تھے۔ گو کہ وہ مزاح نگاری کی وجہ سے شہرت ضرور رکھتے تھے لیکن اس مزاح کے پیچھے بھی ان کی سنجیدہ سوچ ہی شامل تھی۔مثال کے طور پر وہ فرماتے تھے کہ ہر شخص اپنے عہد میں زندہ رہتا ہے۔ کوئی شخص کسی کے عہد میں زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ ہر شخص کا عہد اس کے لیے ہوتا ہے کسی اور کے لیے نہیں لہذا اگر آپ کسی کے عہد میں زندہ ہیں تو وہ آپ کا اپنا عہد ہے۔ اس عہد کو بھرپور گزاریں۔ کہتے تھے کہ کتابیں زیادہ وقفے سے اس لیے لکھیں کیونکہ میں مانتا ہوں کہ کتابیں اس وقت لکھنی چاہییں جب آپ محسوس کریں کہ آپ کوئی نئی اور انوکھی بات لکھ سکتے ہوں۔محض لکھنے کی خاطر نہیں لکھتے رہنا چاہیے۔کھل کر ، مکمل طور پر اور پوری سچائی کے ساتھ انسان اپنی مادری زبان میں ہی اظہار کر سکتا ہے۔اس لیے جب بھی لکھیں اپنی مادری زبان میں لکھیں۔اچھی تحریر وہی ہے جو واقعات پر مرکوز ہو اور محض خیالی داستان نہ ہو۔ جو کچھ انسان دیکھے اور واقعی محسوس کرے اسی کو لکھنا چاہیے۔

آخری کتاب ’’آب گم‘‘ ان کی پسندیدہ کتاب تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری عمر لکھنے کے بعد جب آخری کتاب لکھی تو یوں لگا کہ جیسے اس میں تھوڑی پختگی ہے۔کہتے تھے کہ مجھے جتنی عزت ملی اور جو قدر میری برصغیر پاک و ہند میں کی گئی وہ میرے قد کاٹھ اور حیثیت سے زیادہ تھی۔فرماتے تھے کہ اپنے سے کمزور کا مذاق اڑانا بزدلی ہے۔ اگر آپ کسی پر مذاق کرنا چاہتے ہیں تو تسلی کر لیں کہ وہ آپ سے زیادہ مضبوط اور بہادر ہو کیونکہ اپنے سے زیادہ طاقتور پر حملہ کرنا ہی اصل بہادری ہے۔


ای پیپر