عام انتخابات کی شفافیت اور خدشات
27 جون 2018 2018-06-27

ملک میں عام انتخابات کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے حلقہ بندیوں پر لگنے والے اعتراضات نمٹانے کے ساتھ حتمی انتخابی فہرستیں بھی تیارہو چکی ہیں اور پولنگ اسکیم کی لسٹیں بھی اعتراضات سن کر فیصلوں کے مطابق آویزاں کر دی گئی ہیں اگلے مرحلے میں بیلٹ پیپر کی تیاری ہوگی احتیاط کے پیشِ نظر28جون کو فوجی جوان پریسوں کی سیکورٹی سنبھال لیں گے 29 جون کو امیدواران جماعتوں کے ٹکٹ جمع کرائیں گے اور نشانات الاٹ ہوں گے جس کی وجہ سے انتخاب ملتوی ہونے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا پھر بھی سب کچھ واضح نہیں خدشات کا شکار حلقے اب بھی وثوق سے کہتے ہیں کہ25 جولائی پولنگ کی تاریخ میں ردوبدل ممکن ہے شاید اسی لیے انتخابی فضا نہیں بن پائی اور گہما گہمی کا فقدان ہے امیدواران شش وپنج کا شکار ہیں یہ ابہام کب ختم ہوگا وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے۔

بلوچستان کی طرف سے موسم اور امن و امان کا جواز بنا کر جولائی کی بجائے الیکشن چند ماہ آگے کرنے کا مطالبہ ہوچکا ہے جسے زمہ داران کی طرف سے کوئی اہمیت نہ ملی اور عام انتخابات کی تاریخ برقرار رکھی گئی بلوچستان کے حالات سے آگاہ لوگ مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے اب بھی فیصلہ ساز قوتوں کی توجہ مبذول کرا رہے ہیں نگران وزیر اعظم ،آرمی چیف،چیف الیکشن کمشنر اور عدالتِ عظمٰی ایک دن بھی الیکشن ملتوی کرنے پر آمادہ نہیں اور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہالیکشن 25 جولائی کو ہی ہوں گے حالانکہ ملک کی اکائی کی بات پر غور ہونا چاہیے تھاعام انتخابات ملتوی کرنے اور فاٹا میں قومی و صوبائی انتخاب ایک ہی روز میں کرانے کی فاٹا کی درخواستیں بھی الیکشن کمیشن نے مسترد کر دی ہیں یہ فیصلہ فاٹا اور ملک کے دوسرے حصوں میں انتخابی عمل میں تضاد ظاہر کرتا ہے اگر سارے ملک میں قومی اورصوبائی انتخابات ایک ہی دن ہو سکتے ہیں تو فاٹا میں ایسا ممکن کیوں نہیں ؟بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں الیکشن کمیشن طے شدہ پروگرام کے مطابق کرانے کے لیے پُرعزم ہے طے شدہ پروگرام کے مطابق الیکشن اچھی بات ہے مگر ایک ہی ملک کے علاقوں میں انتخابی طریقہ کار میں فرق کسی طور ٹھیک نہیں اگر فاٹا کے انضمام میں سقم ہیں تو ضرورت اِس امر کی ہے کہ سقم دورکرنے کو اولیت دی جائے اور پھر الیکشن عمل شروع کیا جائے فاٹا کی درخواستیں مسترد کرنے سے الیکشن کمیشن کی ساکھ پر اچھا اثرنہیں پڑا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ دباؤ میں کام کر رہا ہے اور خامیاں دیکھ کر بھی آنکھیں بند کرنے پر مجبور ہے ان حالات میں صاف شفاف الیکشن کا عمل کیسے ممکن ہے؟

چیف جسٹس نے ایک سے زائد بار کہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات ہر صورت25جولائی کو ہی ہونگے مگر کاغذاتِ نامزدگی سے صادق و امین کے حلف نامے کو حذف کرنے اور نادہندہ کو بھی الیکشن میں حصہ لینے کا اہل قرار دینے پر ہائیکورٹ کے فیصلے سے بے یقینی کی فضا پیدا ہوئی مگر سپریم کورٹ نے سرعت کا مظاہرہ کیا اور اضافی بیان حلفی جمع کرا کر کاغذاتِ نامزدگی میں ہونے والی کمی پوری کردی سرعت کے باوجود جانچ پڑتال کی تاریخوں میں ردوبدل کرنا پڑا باقی شیڈول کے مطابق امور نمٹانے کے فیصلے کے باوجود خدشات کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکااب بھی فہمیدہ حلقے ابہام کا شکار ہیں ۔

شدید گرمی میں امیدوار اپنی الیکشن مہم چلا رہے ہیں پارٹیوں کے سپورٹر اورووٹر بھی جلسے جلوسوں میں شریک ہو نے پر مجبور ہیں لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں مون سون کی گھٹائیں جم کر برسیں گی اور ہر طرف جل تھل ہو گا تو امیدوار کیسے انتخابی مہم چلاسکیں گے بھارت جو اکثر پاکستان کے حصے کا بھی پانی روک لیتا ہے لیکن بارشوں کے موسم میں دریاؤں میں اضافی پانی چھوڑ دیتا ہے جس سے ہر سال ملک کا جانی ومالی نقصان ہوتا ہے علاوہ ازیں پنجاب اور سندھ کا بڑا حصہ پانی میں ڈوب جاتا ہے جنوبی پنجاب میں تباہی تو ہوتی ہے مگر خشکی کا ٹکڑا تلاش کرنا مشکل ہوجاتا ہے متاثرین درختوں، ٹیلوں اور مکانوں کی چھتوں پر پناہ لیتے ہیں متاثرین کیسے پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچ سکیں گے اور ووٹ کاسٹ کرپائیں گے؟ ظاہر ایسی صورتحال میں سبھی لوگ ووٹ ڈالنے کی بجائے جان بچانے کو ترجیح دیں گے الیکشن کمیشن سب کو ووٹ کاسٹ کرنے کی ترغیب دیتا ہے امسال تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پولنگ کی شرح کم رکھنے کے لیے ہی 25جولائی کی تاریخ طے کی گئی ہے اگر سب کو ووٹ دینے کے یکساں مواقع نہیں ملتے تو ظاہر ہے یہ الیکشن کمیشن کی نا اہلی تصور ہوگی ۔

انتخابی عمل غیرجانبدارانتظامیہ ہی کر اسکتی ہے افسوس آج بھی ایسی فضا کہیں نظر نہیں آتی سند ھ اور

پنجاب میں اعلیٰ انتظامی عہددار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کھلم کھلاحمایت کر رہے ہیں تبادلوں کے باوجود اپنی وابستگی کو چھپانے پرتیار نہیں ظاہر ہے جانبدار انتظامیہ کی موجودگی میں انتخابی نتائج متاثر ہونے کا اندیشہ مزید بڑھ جاتا ہے اگر الیکشن کمیشن اور نگران سیٹ اپ نے بددستور آنکھیں بند رکھیں تو عام انتخابات کی ساکھ پر سوال اُٹھیں گے اگر غیر جانبداری یقینی بنا نے کی کوشش کی جاتی ہے تب دو تین ماہ الیکشن عمل آگے جانے کا امکان ہے۔

بلدیاتی اِداروں کی موجودگی میں ووٹوں کی خرید وفروخت کے ساتھ رائے دہندگان پر اثر انداز ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے جو منصفانہ اور آزادانہ الیکشن کی روح کے منافی ہے حالات یہ ہیں پنجاب میں چیئرمین ضلع کونسل ،میئر اور چیئرمین مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی الیکشن مہم چلا رہے ہیں اکثر امیدوروں کے عزیز و اقارب ہی بلدیاتی اِداروں میں موجود ہیں جنھیں الیکشن عمل سے الگ اسی صورت میں کیا سکتا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو چند ماہ کے لیے معطل کر دیا جائے وائے افسوس کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومتیں چشم پوشی کر رہی ہیں کچھ سیاسی جماعتوں کی طرف سے بلدیاتی نظام کی معطلی کا مطالبہ بھی سامنے آچکا ہے لیکن نگران حکومتوں کی طرف سے کوئی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آتی اگر صورتحال جو ں کی توں رہتی ہے اور بلدیاتی اداروں کی موجودگی میں الیکشن کرا دیے جاتے ہیں تو گزشتہ الیکشن کی طرح نگرانوں کی جانبداری اور الیکشن کمیشن کی کمزویوں کو سیاستدان ہدفِ تنقید بنا سکتے ہیں 35پنکچر کی بدنامی کا آج تک نجم سیٹھی کو سامنا ہے موجودہ صورتحال رہی تو نگران حکومتوں میں شامل افراد اپنی نیک نامی بچا نہیں پائیں گے۔


ای پیپر