صاف پانی سکینڈل میں قمرالسلام اور وسیم اجمل جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے
27 جون 2018 (14:12) 2018-06-27


اسلام آباد: احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے صاف پانی کمپنی اسکینڈل میں ملزمان قمر السلام اور وسیم اجمل کو 9جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو ( نیب ) کے حوالے کردیا۔ نیب کی جانب سے دونوں ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت پیش کیا گیا۔


نیب کے وکیل نے عدالت میں الزام عائد کیا کہ ملزم انجینئرقمراسلام راجہ نے 84 واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا ٹھیکہ غیر قانونی طورپر مہنگے داموں دیئے، واٹر پلانٹس میں 56ریورس آسموسز پلانٹس تھے جبکہ 28 الٹرا فلٹریشن پلانٹس شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ واٹر پلانٹس چار تحصیلوں یعنی حاصل پور، منچن آباد، خان پور اور لودھراں میں لگائے جانے تھے، ملزم انجینئر قمرالسلام راجہ نے بدنیتی کے ذریعے بڈنگ کے کاغذات میں مالی تخمینہ بڑھا کر ظاہر کیا۔اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم کی جانب سے کے ایس بی پمپس نامی کمپنی کو مہنگے داموں ٹھیکہ دیا گیا اور قمر السلام راجہ پروکیورنمنٹ کمیٹی کے انچارج ہوتے ہوئے مہنگے داموں کے ایس بی پمپس کا ٹھیکہ منظور کیا۔انہوں نے بتایا کہ ملزم نے مبینہ طورپر 102واٹر فلٹریشن پلانٹس کا ٹھیکہ کے ایس بی پمپس کو مہنگے داموں دیا۔


اس کے علاوہ نیب وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سابق سی ای او ملزم وسیم اجمل پر پراجیکٹ بڈنگ کے بعدغیر قانونی طورپر صاف پانی کمپنی کے کاغذات میں تبدیلیاں کی اور 8فلٹریشن پلانٹس خلاف ورزی تحصیل دنیا پور میں لگائے جبکہ متعلقہ علاقہ کنٹریکٹ میں شامل نہیں تھا۔علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ملزم وسیم اجمل کی جانب سے علی اینڈ فاطمہ پرائیویٹ لمیٹیڈ کوبورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بغیر غیر قانونی طورپر 24.7 ملین کی رقم فراہم کی۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ملزم وسیم اجمل نے رقم آفس کی کرایے کی مد میں ادا کی جبکہ اس کا قبضہ ہی حاصل نہ کیا گیا۔کمرہ عدالت میں قمر السلام کے وکیل نے دلائل دیئے کہ نیب تمام کارروائی محض الزامات کی بنیاد پر کر رہا ہے، نیب کے پاس کرپشن کی درخواست آئی نہ ہی ثبوت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قمر السلام سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں اور اسی بنیاد پر انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اس موقع پر قمر السلام کا کہنا تھا کہ میں 10 سال سے پارلیمنٹ کا ممبر ہوں اور ایسا سلوک کیا جا رہا ہے جیسے غیر ملکی ہوں، میرے پاوں باندھ کر مخالف کو گھوڑا بٹھا دیا گیا میں کیسے کمپین کروں وزیراعلی پنجاب کے داماد مسلسل تیسری مرتبہ نیب تحقیقات میں پیش نہیں ہوئیجس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت میں سیاسی بیانات سے گریز کیا جائے۔قمر السلام نے کہا کہ میرے پاس صاف پانی کمپنی کا کوئی انتظامی اختیار نہیں تھا، جو سب سے کم بڈ آئی وہ 111 کروڑ تھی جسے ٹھیکہ دیا جانا تھا، ہم نے مزاکرات کر کے اسے 98 کروڑ پر لے آئے اور نیب کے مطابق مزاکرات کیوں کیے؟۔ملزم وسیم اجمل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وزیراعلی کی خواہشات کیمطابق کام نہ کرنے پر مجھے معطل کرکے او ایس ڈی بنا دیاگیا۔انہوں نے کہا کہ انتہائی دیانتداری کے ساتھ کام کیا، نیب کے ساتھ ہر معاملہ میں مکمل تعاون کیا تمام دستاویزات نیب کو فراہم کیے لیکن میرٹ پر کنٹریکٹ دینے کی بنا پر مجھے نکال دیا گیا۔جس کے بعد عدالت نے ملزم قمراسلام اور وسیم اجمل کو جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کی درخواست پر فیصلہ سناتے انہیں 9 جولائی تک نیب کے حوالے کردیا۔


ای پیپر