طمطراق....جمشید دستی نے پھرجیت جانا ہے
27 جون 2018 2018-06-27

جوشخص گدھا گاڑی چلا سکتا ہو، موٹرسائیکل چلا سکتا ہو، گاڑی چلا سکتا ہو، گدھے پہ بیٹھ سکتا ہو ، مخالفین کے خلاف، زبان چلا سکتا ہو، کھانا پکا سکتا ہے ، پھٹے والے ہوٹل پہ چائے پی سکتا ہے ، دشمنوں کے ”پھٹے “ اکھاڑ سکتا ہے ۔

سابق گورنر اور بھٹو شہید کے یار غلام مصطفی کھر کو ہرا سکتا ہو، حالانکہ برادران کھر کا یہ اپنا حلقہ ہے ، جس سے مدتوں فیض یاب ہوتے رہے، ان کے مقابلے میں کوئی امیدوار سامنے ہی نہیں آتا تھا، اس کو قدرت کی ستم ظریفی تو نہیں کہہ سکتے اور مکافات عمل کہتے ہوئے بھی کچھ مناسب نہیں لگتا، مگر پھر بھی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر ، جو میری لاہور میں محلے دار ہیں، اور کوٹ ادو مظفر گڑھ میں بھی ہمارا ایک گھر کھر کے گھر کے ساتھ ہے ، وہ وہاں کے بھی ہمارے محلے دار ہیں۔ نجانے کوٹ ادو میں ہمارے والد محترم نے وہاں کیوں گھر بنوا لیا تھا، جو ابھی بھی خالی پڑا ہوا ہے ، اور پہلے بھی خالی رہتا تھا۔ بہرکیف حنا ربانی کھر بھی جمشید دستی کا سامنا کرنے سے کتراتی ہیں۔

اب ”منا شیخ“ نے بھی جنہوں نے کھربوں کے اثاثے ظاہر کئے ہیں۔ انہوں نے بھی انکم ٹیکس ایک دھیلے کا نہیں دیا، جمشید دستی کے ساتھ شاید مقابلہ نہ کرسکیں اس کے لیے ”منافقت“ کرنی پڑتی ہے ، اور پجارو کی بجائے موٹرسائیکل کا ڈرائیور رکھنا پڑتا ہے ، اسی لیے میرا مشورہ ہے کہ منا شیخ، کو شیخ رشید والا انداز اپنانا پڑے گا، ویسے شیخ رشید تو شاید اپنی علیحدہ پارٹی رکھنے کے باوجود، تحریک انصاف کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، جوآئندہ حکومت میں وزیراطلاعات کی آس لگائے بیٹھے ہیں، ملک میں سوشل میڈیا کے بانی، اورقائداعظم ثانی کے بارے میں کل ایک دوست مجھے بتارہا تھا، کہ عمران خان کوئی چیز بھی اپنے نام پہ استعمال نہیں کرتے، نہ ہی گاڑی ان کے نام پہ ہے ، اور نہ ہی بیوی کا شناختی کارڈ، ان کے حوالے سے ہے ، وہ بھی خاور مانیکا کے نام پہ ہے ، مگر استعمال عمران خان کررہے ہیں۔ جیسے عبوری حکومت، وزیراعظم سے لے کر وزیراعلیٰ پنجاب، ساری گاڑیوں کا سکواڈ لے کر چلتے ہیں، مجال ہے ، جوانہوں نے ایک گاڑی کی بھی کمی کی ہو، اللہ نہ کرے ان دونوں کی جان کو، کوئی خطرہ ہو، مگر کیا گاڑیوں کے لمبی قطاریں کسی کی زندگی کی گارنٹی دے سکتی ہیں؟

خدا نے اگر زندگی کی ڈور ہلانی ہے ، تو پھر سلمان تاثیر کو اپنے ہی محافظ سے گولی مروا دیتا ہے ، راجیوگاندھی کو بھی بھارت میں ایک خاتون پھول پہنانے ، اور ہار ان کے گلے میں ڈالنے کے بہانے خودکش بمبار بن گئی تھی، اس طرح اس نے اپنی جان دے کر راجیوگاندھی کی جان لے لی تھی۔ خودکش بمبار عورت کا تعلق سری لنکا سے تھا، اور وہ آزادی کی تحریک کی رکن تھی، اور تامل ناڈو سے اس کا تعلق تھا اسی طرح راجیوگاندھی وزیراعظم بھارت کی والدہ اندرا گاندھی، کو بھی اس کے اپنے ہی محافظ سکھ جوان نے گولی ماردی تھی، کیونکہ اندراگاندھی نے امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام بابا گورونانک کے حوالے سے گولڈن ٹیمپل میں سکھوں کا خون بہایا تھا، وہاں فوجی کارروائی کے دوران سینکڑوں سکھ اور وہاں سکھوں کے لیے علیحدہ ریاست قائم کرنے کا علمبردار ”جرنیل سنگھ“ جس کی عزت سکھوں کے دلوں میں جاگزیں تھی، اس کو بھی مروا دیا گیا تھا، اور شیخ مجیب الرحمن کو بھی غداری وطن کی سزاملی۔ دراصل ہندوستان میں اب امریکہ نے شیوسینا پہ جو پابندیاں لگائی ہیں، وہ اس حقیقت کا اعتراف ہے ، کہ ہندوستان میں جہاں اوسطاً پانچ سے چھ افراد جن کا تعلق اقلیتی جماعتوں سے ہوتا ہے ، ان کو انتہائی بھیانک طریقے سے روزانہ مار دیا جاتا ہے ، حتیٰ کہ عیسائیوں کے گرجا گھر بھی محفوظ نہیں، اور ان پر سوچی سبھی سازش کے تحت آئے دن حملے کیے جاتے ہیں۔

مسلمانوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کرنا، عالمی سیاست کی نہایت بھونڈی اور بھیانک چال ہے ، سترہویں صدی سے، اٹلی، جرمنی، آئرلینڈ، امریکہ، اور کسی حدتک فرانس میں بھی دہشت گرد تنظیمیں مصروف عمل ہیں، جن کی بدولت دنیا میں ہزاروں نہیں لاکھوں افرادموت کے منہ میں چلے گئے ہیں، مگر چونکہ ان کے نام کچھ اس طرح کے ہیں، کہ ان سے نہ تو ملک کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی تنظیم کا نام واضح ہوتا ہے ، مگر جہاں بھی اس حوالے سے مسلمان چاہے آزادی کی خاطر بھی اگر مقبوضہ کشمیر، اور فلسطین میں غلیل کا استعمال کریں یا لاٹھیوں اور ڈنڈوں کا استعمال کریں تو پوری دنیا میں واویلہ مچا دیا جاتا ہے اگر شیوسینا پہ پابندی امریکہ نے لگادی ہے تو آثار یہ دکھائی دیتے ہیں، کہ انشاءاللہ کشمیریوں کا خون جلد رنگ لے آئے گا، ائرلینڈ کی دہشت گرد تنظیم PIRA، اٹلی کی RED BRIGDES، وغیرہ سے بالکل پتہ نہیں چلتا کہ یہ کس ملک کی دہشت گرد تنظیمیں ہیں، یہ نام نہاد حقوق انسانی کے چیمپئن ملک ہیں۔گوطمطراق ، جاہ وحشم ،حکومت و اقتدار، جادہ مستقیم کی بجائے، جاذبیت جانشینی کو دائم سمجھنے والے جاہل نہیں، انتہائی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود جاہ و جلال، جاہ ومنزلت اور جاہ و منصب، کو جاویدانی سمجھ بیٹھنے والے حکمرانوں نے سوائے منصب ومراعات کے حصول کے، اور ڈالر کی قیمت بڑھانے، روپے کی قیمت گھٹانے، پیٹرول اور پیڑولیم کی اشیاءکی قیمتیں بڑھانے، ٹیکس بڑھانے، یعنی ہر منفی اور عوام دشمن کام کے اور کیا کیا ہے ؟ شاید یہ عبوری حکومت ہمارے ملک کے آئینی تقاضوں کی مجبوری کی وجہ سے معرض وجودمیں آئی ہے ، وزیراعظم جناب ناصرالملک کے حوالے سے میرے ایک دوست نے سوال کیا کہ جب وہ چیف جسٹس سپریم کورٹ تھے، تو ان کے حوالے سے کوئی ایک ایسا کام جو قوم کے کسی ایک فرد کو یاد ہو تو بتائیں، میں نے انہیں کہا کہ میں سوچ کر بتاﺅں گا ....انہوں نے جواب دیا کہ بس، بس یہی میں چاہتا تھا، مگر موجودہ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے تو پانی، اور کریڈٹ کارڈ، ہسپتالوں کی صورت حال تعلیمی درسگاہوں وغیرہ کے حوالے سے بے شمار کام کیے ہیں، اب لاپتہ افراد کے بارے میں بھی انہوں نے درست سمت میں عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پاکستان کے کچھ ادارے، بعض افراد کو پکڑ کر لے جاتے تھے، اور ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرواکر یہ کہتے تھے، کہ رپورٹ کے نتیجے سے یہ ظاہر ہے کہ یہ اس ملزم کے جس کے سر کی قیمت اتنے لاکھ ہے ، اس سے ملتی ہے ، اور اس طرح سے نہ صرف ملزم بلکہ ملزمان پکڑ لیے جاتے ، بلکہ انعام کے بھی حقدار بن جاتے۔

اب مجھے نہیں معلوم کہ چیف جسٹس صاحب” مستحقین انعام و اکرام“ کے منہ سے ”رزق کثیر“ کا نوالہ کیوں چھین لینا چاہتے ہیں، عافیہ صدیقی قوم کی بیٹی کو تو ہم نے خود امریکہ کے حوالے کیا تھا، اور صرف چارسو ڈالر کے عوض یہ فریضہ انجام دیا تھا تو امریکہ نے کہا تھا کہ پاکستانی تو پیسوں کی خاطر اپنی ماں بھی بیچ دیتے ہیں۔ جس دن سے حسن عسکری رضوی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنایا گیا ہے ، فخروغرور ، بلکہ تکبر اور نخوت نے عجزوانکساری کی جگہ لے لی ہے ، کیونکہ ان کا تعلق میری صحافی برادری سے ہے ، مگر قارئین ذرا سوچیے، مجھے کتنا دکھ ہوتا ہوگا جب میں دیکھتا ہوں، کہ جناب چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب، جناب سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان کے ”وزیراعظم“ بننے پہ نہ غرور کرتے ہیں، اور نہ ہی نہال ہاشمی کی طرح خوشی کا اظہار کرتے ہیں ، بلکہ نہال ہاشمی کو ہی جیل بھیج دیتے ہیں، حالانکہ ناصرالملک کا تعلق بھی ان کی اپنی برادری سے ہے ، مگر وہ یہ دعا دے کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ کچھ عرصے کے لیے، حامی وناصر .... ملک۔ آخر میں، میں ان الفاظ پہ اکتفا کرتا ہوں کہ چند سیٹوں پہ تو قوم کو پرانے چہرے ہی نظرآئیں گے، مگر اس دفعہ دینی جماعتیں جنہوں نے گزشتہ ستر سالوں سے، نہ تو اپنا ”مکان“ بنایا ہے ، اور نہ ہی کوئی مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں بلکہ یقین جانیں، تو ان کے اثاثے دیکھ کر ہمیں سبکی ہوئی ہے ، اب تک تو وہ ”امیرمقام“ ہوتے، مگر ان کے صوبے سے تعلق رکھنے کے باوجود، وہ صرف نام کے ہی ”امیر“ ہیں، مگر اس میدان عمل میں نووارد، اور بھارتی میڈیا ،ا ورحکومت کے سینے پہ مونگ دلتے ہوئے فلاح انسانیت کے کام کرنے والے اپنا نام بھی بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے، جہاں تک کراچی کے انتخاب کا تعلق ہے ، تو سی پیک کی لڑائی لڑنے اور اپنی توانائیاں ضائع کرنے والوں کو خود چین کے حکمرانوں کے بیانوں پہ اعتبار کرناچاہیے، ان کا دھیان کراچی تک محدودہوکر رہ گیا ہے ، جس طرح بقول امان اللہ اداکار ان کا حلقہ محض آنکھوں کے نیچے تک ہے ۔

مگر قوم کو اس حقیقت کا اعتراف کرلینا چاہیے کہ کراچی کے لیڈروں نے جو اپنے اپنے اثاثے ظاہر کیے ہیں، کیا یہ ان کا متحدہ فیصلہ ہے ؟ ان کے اثاثے تو لندن منتقل نہیں ہوسکتے ،منی لانڈرنگ پہ نام بنانے والے جسٹس(ر) جاوید اقبال اپنا ”ہوم ورک“ کب مکمل کریں گے، میرے اس سوال کا جواب اگر قوم کو نہیں دیں گے، تو روزمحشر اللہ کو تو یہ جواب دینا پڑے گا، کہ ان کے نزدیک ساری جماعتیں اور سارے امیدوار پاک صاف ہیں، اور نیب نے ان سب کو CLEANCHITدے دی ہے ؟ اگر نہیں تو قوم کو بتایا جائے کہ احتساب کے بغیر انتخاب کس چیف صاحب کے کہنے پہ ہورہے ہیں۔


ای پیپر