نیب قوانین میں ترامیم ،اپوزیشن نے اہم فیصلہ کر لیا
27 جولائی 2020 (21:58) 2020-07-27

اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی میں اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف، نیب سمیت مختلف قوانین کے حوالے سے دئیے گئے مسودے پر غور کیلئے مزید وقت مانگ لیا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو ( نیب) سے متعلق مسودے پر پارلیمانی کمیٹی میں بحث کی گئی اور مجوزہ مسودہ اپوزیشن کو فراہم کردیا گیا ہے،تاہم اپوزیشن کو مشاورت کیلئے کچھ وقت درکار تھا، اپوزیشن سے نیب مسودہ پر رائے مانگی ہے اورجاننا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اس حوالے سے کیاچاہتی ہے۔

پیر کووزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی کا دوسرا اجلاس ہوا،اجلاس میں وفاقی وزراء بیرسٹر فروغ نسیم، ڈاکٹر بابر اعوان، شفقت محمود، شیریں مزاری ،حماد اظہر، اسد عمر،طارق بشیر چیمہ نے شرکت کی۔اپوزیشن کی جانب سے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے اراکین پارلیمنٹ شیری رحمٰن، راجا پرویز اشرف، نوید قمر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جاوید عباسی، ایاز صادق، بھی اجلاس میں شریک تھے۔

پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف سمیت نیب کے مجوزہ مسودے پر غور کیا گیا۔اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے ایف اے ٹی ایف، نیب سمیت مختلف قوانین کے حوالے سے دئیے گئے مسودے پر غور کیلئے مزید وقت مانگ لیا۔جس کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا اورپارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی کا اجلاس منگل کی شام 6 بجے دوبارہ طلب کر لیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو ( نیب) سے متعلق مسودے پر پارلیمانی کمیٹی میں بحث کی گئی اور مجوزہ مسودہ اپوزیشن کو فراہم کردیا گیا ہے،تاہم اپوزیشن کو مشاورت کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے نیب مسودہ پر رائے مانگی ہے اورجاننا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اس حوالے سے کیاچاہتی ہے، ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اور ہماری سوچ میں کتنی خلیج ہے اور اس کو کیسے عبورکرنا ہے۔

مشیر پارلیمانی اموربابر اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک قومی مسئلہ ہے اور ہم اس مسئلے پر اتفاق رائے چاہتے ہیں، ہم نے قانون میں بہتری کے لیے اپوزیشن سے گفتگو کی لیکن تاحال کسی مسودے پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا، اپوزیشن کے ساتھ ابھی گفتگو جاری ہے، وزیراعظم عمران خان اداروں کی بہتری کے لیے گنجائش نکالنے کو تیار ہیں اوراداروں میں بہتری لائی جا سکتی ہے لیکن ادارے ختم نہیں کیے جا سکتے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق اہم بل میں ترامیم لانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایف اے ٹی ایف کی اصل شرائط کو بھی دیکھ رہے ہیں اور حکومت کے ساتھ نیب پر بھی بات چیت چل رہی ہے۔پی پی پی سینیٹر نے کہا کہ حکومت کے مسودے میں خامیاں موجود ہیں جبکہ زیر التوا قانون سازی پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر بات پرآئین، قانون اور بنیادی حقوق کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔


ای پیپر