علاقائی صحافت ‘مسائل کا حل‘وقت کی ضرورت!
27 جولائی 2020 (20:09) 2020-07-27

قلم انسانی تہذیب کے ارتقاء کی خشت اول ہے قلم علم اشیاء کی جہاں گیری کی وجہ سے افضل ہے متاع لوح و قلم جسے مل جائے اس کی دولت قارون کے خزانے سے بہترہے ۔قرآن پاک کی سورہ القلم میںاللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم کھائی اللہ تعالیٰ نے قلم کو علم کی اشاعت کا ذریعہ بنایا ہے اس لئے صاحب قلم کو ناموس قلم کا ہر حال میں لحاظ و پاس رکھنا چاہیے اور قلم سے اخلاق و شرافت کیخلاف کوئی بات نہیں لکھنی چاہیے اگر کوئی فرد اپنے قلم سے دوسروں کی آبرو ریزی ‘کردار کشی اور دل شکنی کا سبب بنتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے اس بار امانت کا ادراک ہی نہیں جو قلم کی بدولت اسے بخشا گیا ہے۔قلم ایک امانت ہے اسے ظلم کی طاقت سے توڑا تو جا سکتا ہے لیکن موڑا نہیں جا سکتا بہر حال اس کالم کی سطروں کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں پر دستک دینا مقصود ہے کہ صحافت سے وابستہ افراد کی مشکلات میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ اب یہ کٹھن حالات صحافیوں کے لئے سوہان روح بنتے جا رہے ہیں۔ایک جانب وفاقی و صوبائی حکومتیں صحافیوں کے مسائل کو ترجیہی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانیاں کرواتی نظر آتی ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ صحافیوں کے مسائل حل ہونے اور کم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ بالخصوص علاقائی صحافی کے مسائل ملک میں سیکڑوں صحافتی تنظیمیں ہونے کے باوجود آج بھی حل طلب ہیں مضافاتی علاقوں میں رپورٹنگ کرنے والا صحافی میڈیا ہائوسزکے لئے نیوز سروس‘ اخبارات کی سرکولیشن اور بزنس میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے تو وہیں وہ صحت‘بچوں کی تعلیم اور گھر کا چولہا جلانے کے لئے معاشی حالات سے بھی نبرد آزما ہے المیہ ہے صحافتی ادارے علاقائی صحافیوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے صحافی کو ایک کمائو پتر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ علاقائی صحافی معاشرے میں پھیلی نا انصافیوں‘ ظلم‘ کرپشن کیخلاف قلم کے ذریعے جب آواز بلند کرتا ہے تو اسے مختلف منفی ہتھکنڈوں کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے یہاں تک کہ اسے تشدد اور قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ علاقائی صحافیوں کے حقوق اور مسائل کے حل کے لئے حکومت ‘میڈیا ہائوسزاور صحافتی تنظیمیں کیا اقدامات اٹھا رہی ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج بھی علاقائی صحافی اپنے صحافتی فرائض کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ اپنے معاشی حالات کو سدھارنے کی جنگ لڑ رہا ہے صحافیوں کے پاس اپنے معاشی حالات درست کرنے کے لئے کوئی الہٰ دین کا چراغ نہیں ہوتا جس کے رگڑنے سے اس کے کمزور معاشی حالت کو تقویت مل سکے۔صحافتی ا داروں میں کسی بھی علاقائی صحافی کو نمائندگی دینے کی اہلیت و قابلیت کا پیمانہ بس یہی مقرر ہے کہ کہ وہ ادارے کو بزنس میں کس حد تک معاون ثابت ہو سکتا ہے اور ادارے کو زر ضمانت کے طور پر کتنی رقم دے سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ حقیقی

صحافیوں کی بجائے اب صحافت میں بھی زر غالب آچکا ہے صحافت کی صنعت سے تعلق رکھنے والے صحافی اب سرمایہ دار صحافیوںکے پے رول پر کام کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جو کہ صحافتی اداروں اور صحافتی تنظیموں کے کردار و عمل پر سوالیہ نشان ہے۔ایک صحافی سے معاشرہ میں بسنے والے افراد منفی سرگرمیوں کے خاتمہ اور اصلاح احوال کے لئے تجاویز اور اعلیٰ حکام تک اپنے مسائل پہنچانے کی توقع تو رکھتے ہیں لیکن یہی معاشرہ صحافی کو اس کا جائز مقام دینے سے قاصر نظر آتا ہے ۔بڑے بڑے صحافتی ادارے بھی علاقائی صحافی کو اعزازیہ دینے کی بجائے اس سے بزنس کی توقع رکھتے ہیں جس کی وجہ سے علاقائی صحافی کو میڈیا ہائوسز کی ڈیمانڈپوری کرنے کے لئے جہاں دربدر کی خاک چھا ننی پڑتی ہے وہیں معاشرہ اس کے گلے میں بلیک میلر کا طوق پہنا دیتا ہے یہ حالات بڑی دلدوز صورتحال کے غماز ہیں۔ملک میں اس وقت سیکڑوں صحافتی تنظیمیں کام کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود علا قائی صحافی آج بھی بے یارومددگار ہے اسے دھمکیاں ‘قتل ‘تشدد اور بے بنیاد مقدمات جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے اور معاشرے میں اس کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپنایا جاتا ہے۔ حکومت‘صحافتی ادارے اور صحافتی تنظیموں کا کوئی ایسا قابل ذکر اقدام اب تک سامنے نہیں آیا جس سے علاقائی صحافیوں کو جانی و مالی تحفظ کا احساس ہو اور علاقائی صحافیوں کے یہ ناگفتہ با حالات حکومت وقت‘میڈیا ہائوسز اور صحافتی تنظیموں کے لئے غور و فکر کے متقاضی ہیں۔ظلم ‘نا انصافیوں‘کرپشن کے تدارک اور مسائل کو اجاگر کرنے میں علاقائی صحافت کا بڑا کلیدی کردار ہے جس کی وجہ سے ان کے حقوق اور مسائل کا حل حکومت کو یقینی بنانے میں ٹھوس عملی اقدامات اٹھانے چاہیے ادارے جب علاقائی صحافیوں کو اعزازیہ دیں گے صحافتی تنظیمیں اپنے اپنے منشور کے مطابق جب صحافیوں کے فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے ان کی پشت پر ہونگی تو پھر یقینا حکومت بھی صحافیوں کے مسائل سے کبھی چشم پوشی نہیں کر سکے گی۔حکومت اور صحافتی تنظیموں کو علاقائی صحافیوں کی مشکلات اور مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھانا ہو نگے تا کہ علاقائی صحافت کو تقویت مل سکے ۔خبر سے لے کر اس کی اشاعت تک وہ ادارے کے وقار کے لئے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں رکھتا لیکن بد قسمتی سے صحافی کو کسی سطح پر بھی جانی و مالی تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت فراہم نہیں کی جاتی صحافتی تنظیموں کے حالات ایسے ہیں کہ ضلع سطح پر قائم پریس کلب کی تنظیمیں بھی اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ متاثرہ صحافی کی پشت پر کھڑی نظر نہیں آتی۔یہ صورتحال ایسے فکر مند اشارے کی جانب توجہ مبذول کروا رہی ہے جو مستقبل قریب میں صحافیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے میڈیا ہائوسز مالکان اور صحافتی تنظیموں کو صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے چاہیے کہ وہ صحافیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے عملی کردار کے ساتھ حکومت کو قانون سازی پر مجبور کرے کیونکہ علاقائی صحافیوں کے حقوق کی بازیابی اور ان کا جانی و مالی تحفظ یقینی بنانا اشد ضروری ہے۔صحافتی تنظیموں کو بلخصوص چاہیے کہ وہ وکلاء تنظیموں کی طرح علاقائی صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں اگر ان حالات میں ان صحافتی تنظیموں نے علاقائی صحافیوں کے حقوق کے لئے عملی کردار ادا نہ کیا تو علاقائی صحافیوں کی افادیت جہاں ماند پڑے گی وہیں صحافتی تنظیمیں بھی مقبولیت و اہمیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔حکومت جہاں میڈیا مالکان اور بڑے شہروں کے صحافیوں کو امداد دینے کا اعلان کرتی ہے وہیں اسے علاقائی صحافیوں کے حقوق و مراعات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کیونکہ وہ بھی اسی ریاست کے باسی اور انہی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ علاقائی صحافیوں کو جو مشکلات درپیش ہیں حکومت کو چاہیے کہ صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایسا طریقہ کار وضع کر کے قانون سازی کرے جس سے جہاں علاقائی صحافیوں کے مسائل حل ہو سکیں‘ انہیںجانی و مالی تحفظ کا احساس ہو سکے اور علاقائی صحافت سے منسلک صحافی بھی حکومت کی جانب سے صحافیوں کو دی جانے والی مراعات کے حقدار ٹھہریں۔


ای پیپر