غریبوں پرحکومتی احسانات
27 جولائی 2020 (20:08) 2020-07-27

صیام یہ تھائی لینڈکاکوئی دوسرانام ہے یانہیں لیکن ہمارے دیہات کے پرانے لوگ آج بھی تھائی لینڈکوصیام کے نام سے پکارتے ہیں۔ہمیں تویہ نہیں پتہ کہ یہ تھائی لینڈہے کہاں۔۔؟مشرق کی طرف ہے، مغرب یاپھرشمال وجنوب کی طرف۔سچ پوچھیں توانڈیاکی طرح اس تھائی لینڈکوبھی ہم نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھاحالانکہ ہمارے دورکے کئی رشتہ داراورعلاقے والے آج بھی تھائی لینڈمیں زندگی کے شب وروز گزاررہے ہیں۔ہمارے بھانجے توصیف احمدخان توکروناکی وباء آنے سے کچھ دن پہلے ہی تھائی لینڈکی سیریادیدارکرکے آئے ہیں ۔خیراللہ کومنظورہواتوایک دن ہم بھی انشاء اللہ خانہ کعبہ کے طواف اورروضہ رسولؐ پر حاضری کے ساتھ تھائی لینڈکی بھی سیر کر لیں گے۔ بہرحال صیام سے شروع ہونے والی بات گپ شپ میں کہاں تک پہنچی۔ کہنے کامطلب یہ ہے کہ پرانے زمانے میں ہمارے کچھ بڑے تھائی لینڈ پرانے صیام سے صیامی دلہنوں کوسجاکرلائے۔اوروں کاتوہمیں اتناعلم نہیں۔ ہمارے علاقے میں رہنے والی کسی صیامی خاتون کا ذکر خیر ہم نے اپنے بڑوں سے کئی بارسنا۔ہمارے بڑے اس خاتون کے بارے میں کہاکرتے تھے کہ یہ صیامی خاتون پاکستان اورپھراس طرح کے دور دراز علاقے میں شادی کرنے کے لئے ہرگز تیار نہ تھیں لیکن ہمارے اس پاکستانی نے اسے وہ سپنے اور خواب دکھائے اورکہانیاں سنائیں کہ اف توبہ۔ اس وقت یہاں اس طرح کے گھرتوکہیں تھے ہی نہیں۔لوگ جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ان کابھی اسی طرح یہاں کہیں کوئی ایک جھونپڑی تھی جس میں ان کے بہن ،بھائی اوروالدین رہتے تھے۔ اس جھونپڑی میں یہ بھی نہیں پتہ کہ کوئی چارپائی بھی تھی یا نہیں۔ لیکن اس صاحب نے اس خاتون کوجوسپنے اورخواب دکھائے۔اس میں ایک ایسے تاج محل کا ذکر تھاجس میں ہرروزبیڈکونئے بیڈسے تبدیل کیا جاتا تھا۔ قسم قسم کے تازہ پھل۔۔بازار۔۔چمن ۔۔صاف وشفاف پانی اورٹھنڈی ویخ ہوائیں اور دنیا کی دیگر ہر سہولت ونعمت۔ بے چاری وہ خاتون ان سپنوں اور خوابوں میں آ کر انہوں نے اس سے شادی کر لی۔ جب وہ یہاں آئیں توپھرنہ کوئی گھرتھا،نہ بازار،نہ پھل اور نہ کوئی نیاکیا۔۔؟کہ پراناکوئی بیڈ۔اس زمانے میں جھونپڑیوں میں رہنے والے لوگ جھونپڑی کے اندر پتوں سے بنا بھوسہ ڈالتے تھے جسے ہر روز تبدیل کیا جاتا تھا۔ اس خاتون نے جب بیڈکے بارے میں دریافت کیا۔تواس جوان نے اس بھوسے کی طرف اشارہ کرکے جواب دیاکہ اس پرہم سوتے ہیں اور دیکھنا اس کو یہاں ہر روزنئے بھوسے سے تبدیل کیا جاتا ہے۔ جس بھوسے کواس نے نئے بیڈکانام دیاتھاباقی سہولیات اورنعمتوں کابھی وہی حال تھا۔اس خاتون پرپھرکیاگزری۔۔؟ یہ اس کواوراس کے اللہ کوہی پتہ ہے۔ بہرحال تبدیلی کے نام پرنئے گھر،روزگار،ترقی اور خوشحالی کے خواب دیکھنے والوں کی آج جب میں آہیں اور سسکیاں سنتااوریہ حال بے حال دیکھتاہوں تومجھے اس خاتون کے ساتھ ہونے والایہ واقعہ یادآنے لگتا ہے۔ اس صیامی خاتون کوتوشائدکہ کم خواب اورسپنے دکھائے گئے

ہوں لیکن وزیراعظم عمران خان نے توپورے 22سال تک اس بھولی بھالی قوم کواتنے خواب اورسپنے دکھائے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔ وہ کونسا خواب ہے۔؟ یا وہ کونسا سپنا ہے۔؟ جوعمران خان نے اس قوم کونہیں دکھایا۔ عمران خان کے اقتدارمیں آنے سے پہلے سابق وزیراعظم نوازشریف اورآصف علی زرداری کی طرح شائدکہ کچھ لوگ کسی اورکے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہے ہوں لیکن آج تواس عمران خان کی حکومت میں ہردوسراشخص غربت ، بیروزگاری، بھوک وافلاس اور مجبوری کی وجہ سے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہے۔ ہماری حکومت آئی توہم سرکاری ملازمین کو دو دو لاکھ تنخواہیںدیں گے۔دودولاکھ تو دور۔۔جن غریبوں کو نواز اور زرداری دورمیں چند ہزار کی تنخواہیں بھی ملتی تھیں کپتان نے حکومت میں آتے ہی ان غریبوں کو ان چند ہزار سے بھی محروم کر دیا ہے۔ کپتان اکثرفرمایاکرتے تھے کہ مہنگائی اگربڑھ جائے تو سمجھ لینا کہ وزیراعظم چورہیں۔آج تواس حکومت اور اقتدارمیں کوئی چور نہیں۔ سارے دودھ کے دھلے ہوئے اور امریکہ، برطانیہ اوردبئی سے لائے گئے فرشتے ہیں لیکن ایک بات کی کسی کوسمجھ نہیں آرہی کہ ان فرشتوں اور ایمانداروں کی حکمرانی کے باوجودپچھلے دوسال سے مہنگائی کاطوفان اورجکڑتھمنے کاکوئی نام نہیں لے رہا۔ ہزاروں خوابوں میں ایک خواب ترقی اورخوشحالی کابھی تھا۔ترقی توتبدیلی کے ساتھ ہی گئی ناناکے گھر۔رہی خوشحالی وہ بھی اب تقریباًقصوں اورکہانیوں تک ہی کتابوں میں رہ گئی ہیں۔سرچھپانے کے لئے چھت،پیٹ کاجہنم بھرنے کے لئے روٹی اور بدن ڈھانپنے کے لئے اگر کپڑا نہ ہو تو غربت، بیروزگاری، بھوک اورافلاس کے سائے میں انسان کیسے خوش اورخوشحال رہے گا۔۔؟سچ تویہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ملک میں ایک مہنگائی پرزوردے کرخوشی اورخوشحالی کی قبرپرفاتحہ بھی پڑھ لیاہے۔نہ رہے بانس اورنہ بجے بانسری۔اب اس ملک میں خوشی رہے گی اورنہ ہی خوشحالی کی کوئی بانسری بجے گی۔ آٹا، چینی، بجلی اورگیس کے بعدادویات کی قیمتوں میں ایک بارپھراضافہ ۔یہ نئے پاکستان نہیں نئے قبرستان آبادکرنے کی طرف اہم پیش رفت ہے۔جب سے اس ملک میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے۔کپتان کے نادان اورجاہل کھلاڑیوں کے علاوہ کسی نے ایک دن بھی کبھی سکھ کاسانس نہیں لیا۔ ملک کے اکثر عوام مہنگائی، غربت اور بیروزگاری تلے دب چکے ہیں۔ دودھ سے دھلے ہوئے جن ایمانداروں اورفرشتوں کی حکمرانی میں غریبوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھانا تھا۔ آج ان کی حکمرانی میں غریب ایک وقت نہیں بلکہ ایک ایک نوالے کے لئے ترس اورتڑپ رہے ہیں۔ پہلے صرف ایک وزیراعظم کشکول اٹھایاکرتاتھاآج وزیراعظم سمیت پوری قوم کشکول اٹھائے دربدرپھررہی ہے۔ملک میں غریبوں کی حالت زاراورمہنگائی کی روزبروزبڑھتی شرح کودیکھ کریقین نہیں آرہاکہ اس ملک میں کہیں اس عمران خان کی حکومت ہے جوکبھی اس ملک کے غریبوں کوپیٹ بھرکرکھاناکھلانے اورچوروڈاکوئوں کے پیٹ پھاڑنے کے خواب اورسپنے دکھایاکرتے تھے۔جنہوں نے کشکول کولات مارکرہوامیں اڑادیناتھا۔انہی نے مہنگائی ،غربت اوربیروزگاری کے ذریعے پوری قوم کوکشکول تھماکرمانگنے پر لگا دیا۔کیسازبردست وقت اورکیاعجیب دور تھا وہ۔۔ جب آج کے وزیراعظم عمران خان آستین چڑھا کر غریبوں کو ایک کروڑنوکریوں،پچاس لاکھ گھر اور ترقی وخوشحالی کی وادیوں کی مفت میں سیر کرایا کرتے تھے۔ ہمیں نہیں یاد پڑ رہاکہ سٹیج سے اترنے اور اقتدارکی ہما پر چڑھنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے غریبوں کے لئے کوئی ایک بھی ڈھنگ کاکوئی کام کیا ہو۔ کروناوباء کے دوران غریبوں کو 12ہزار روپے۔۔ اس جتنے پیسے توپہلے والے چور اور ڈاکو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے کرونا جیسی وبائوں اورآفتوں کے بغیربھی غریبوں کو دیا کرتے تھے۔ پہلے والے توملک لوٹنے کے لئے آتے تھے ان سے توکوئی گلہ نہیں۔ لیکن یہ ایماندار اور فرشتے تو غریبوں کی تقدیر اور حالت بدلنے کے لئے آئے ہیں۔ پھریہ بتائیں ان دو سالوں میں آٹا، چینی، دال، پٹرول، گیس، بجلی، ادویات، دودھ، مصالحہ جات، سیمنٹ، کپڑے،جوتے اورچاول جیسی بنیادی وضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ غریبوں کے لئے اور کیا کیا۔۔؟بجلی بل میں ٹی وی فیس کو35سے بڑھا کر 100کرنایہ بھی ان ایمانداروں کاکارنامہ ہے۔ واقعی جو کام کل کے چوراورڈاکونہیں کرسکے ۔وہ ان ایمانداروں نے محض 2سال میں کرکے دکھایا۔یہ قوم ان ایماندار حکمرانوں کاآخرکون کون سااحسان یادرکھے گی۔


ای پیپر