ظلم رہے اور امن بھی ہو
27 جولائی 2020 (20:08) 2020-07-27

وزیراعظم کے مشیر زلفی بخاری کو اینکر سے بڑی عاجزی سے سوال کیا کہ وزیراعظم کے مشیر، وزیر کا عہدہ رکھنا بہت اعزاز کی بات ہے۔ ’’کیوں ضروری ہے کہ غیر ملکی شہریت بھی رکھیں‘‘۔ جواب میں جس دھڑلے، دعوے اور رعونت سے زلفی بخاری نے کہا ’’کیوں ضروری ہے کہ میں نہ رکھوں‘‘؟ذلفی بخاری کو اس نے کہا کہ پاکستانی آئین کے مطابق… بات آئندہ پروگراموں پر چلی گئی لیکن اللہ گواہ ذلفی بخاری کا جواب سن کر اور رعونت دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اس سے حکمرانوں نے میری قیمت بھی وصول کر رکھی ہے۔ کیا مردم زرخیز وطن تھا ہمارا کبھی ۔ عبدالحفیظ پیرزادہ وزیرقانون، ڈاکٹر مبشر حسن وزیر خزانہ تھے۔ آج وزارت خزانہ ہی جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے۔ وزیر قانون الطاف حسین کو نیلسن منڈیلا مانتے ہیں ٹوپیاں رکھیں ہیںایک وزارت کی دوسری وکالت کی۔ 23 سالہ بندوبست میں پی ٹی آئی نے کبھی شہباز گل کو نہیں دیکھا تھا۔ فیاض الحسن چوہان کیا چیز ہے کون جانتا تھا؟ کبھی مفتی محمود ، نواب زادہ خان نصر اللہ خان،پروفیسر غفور صاحبان مسند اپوزیشن پر تھے۔ حکومتی بنچوں پر اپنے کاموں اور کارناموں ملک و قوم کی خدمت اور قربانی کے حوالے سے زندہ رہنے والے بھٹو صاحب تھے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں چل چلاؤ لگا ہے جو آیا ہے اسے جانا ہے لیکن replacement (متبادل) اگر بہتر نہیں تو بد تر بھی نہ ہو۔ ہمارے مسائل اور وسائل بدل گئے، ثقافت اور تمدن بدل گیا۔ غیر ملکی حکمران طبقوں میں سرکردہ ہو گئے۔ا للہ کریم کبھی تو نجات دے گا۔

حکومت کے مشیروں نے جتنے اثاثے اور پھر ان کی جو مالیت بتائی ہے، لگتا ہے 2020ء نہیں 1820ء کی مالیت ہے۔

بھٹو صاحب کے ایک دوست نے کسی ایس پی کی تعیناتی کی سفارش کی بھٹو صاحب کا دوستوں میں مزاح کافی مشہور تھا۔ بھٹو صاحب نے بات ٹال دی۔

2ہفتے بعد گورنر ہاؤس آئین پاس ہونے کی خوشی میں بہت بڑی تقریب تھی۔ بھٹو صاحب آئے گاڑی سے اترے اسی دوست پر نظر پڑی اس کی طرف گئے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پانچ منٹ کے لیے بات چیت کی ۔ بات چیت کیا تھی مذاق اور ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ تھی۔ وہ دوست کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب نے میرے کندھے سے ہاتھ ہٹایا تو چیف سیکرٹری ، ہوم سیکرٹری، آئی جی پنجاب سب کے سب میرے پاس آ کر اپنے کارڈ جس پر دفتر ، گھروں کے نمبر تھے دینے لگے کہ کوئی حکم ہو تو بتائیے ۔ بہرحال انہوں نے ایس پی کی تعینات کرا لی بعد میں بھٹو صاحب سے ملے تو انہوں نے کہا کہا گر میں اس کے لیے سفارش کرتا تو اس ایس پی نے آئی جی کے قابو نہیں آنا تھا اور ڈسپلن برباد ہوجاتا جبکہ آج وزیراعظم ڈیوڈ وس میں امریکی صدر سے اکرم سہگل اور ایک دوست کا تعارف کرواتے ہیں کہ یہ میرا خرچہ اٹھا کر لائے ہیں۔ کیا ان کا فون یا کوئی کام رک پائے گا تو پھر ایسے میں سکینڈلز جب

جنم لیں تو اس کو مافیا نہیں بولتے ہیں جبکہ احباب کا نام دینا چاہیے۔

موجودہ وزیراعظم جہاں بھی گئے ملک کے لیے بری بات کی کہ کرپشن ہے، منی لانڈرنگ ہے ، چوری ہے، بندہ پوچھے کہ جس گھر کا سربراہ کہے کہ میرے گھر میں چور رہتے ہیں کوئی اس کے ہاں ایک وقت کا کھانا کھانے نہیں آ سکتا کہ جیب نہ کٹ جائیا ور یہ انوسٹمنٹ کے دعویدار ہیں۔

عبدالقادر حسن فطری نہیں طبعاً بھٹو صاحب کے ناقدین میں سے تھے، نے ضیاء الحق کے دور میں ایک کالم لکھا کہ بھٹو صاحب مغربی جرمنی کے دورے پر گئے۔ مغربی جرمنی کے حکام نے کہا کہ آپ بہت بڑے اور مقبول رہنما ہیں مگر ہمارے ہاں آپ کے ملک کے لوگوں نے سیاسی پناہ کے لیے درخواست دے رکھی ہے بھٹو صاحب بولے کہ جانے سے ایک گھنٹہ پہلے ان سب کو بلا لیں۔ لہٰذا پاکستانیوں کو ایک کمیونٹی سنٹر میں بلایا گیا۔ بھٹو صاحب نے 20/25لوگوں سے باری بار ی پوچھا کسی نے کہا کہ مجھ پر ناجائز مقدمہ ہے۔ کوئی کہنے لگا آپ کا فلاں وزیر خلف ہے غرضیکہ ہر ایک نے کوئی نہ کوئی وجہ بتا دی۔ بھٹو صاحب نے اردو میں کہا اگر آپ کا کوئی حقیقت میں مسئلہ ہو تو مجھے بتاؤ۔ پاکستانی خاموش ہو گئے پھر بھٹو صاحب نے پوچھا کہ مزے میں ہو، عیش کررہے ہو، کما رہے ہو پاکستانیوں نے ہاں میں جواب دیا تھا اللہ حافظ کہہ کر باہر آئے۔ اخباری رپورٹروں مغربی جرمنی کے حکام نے پوچھا کہ کیا کرنا ہے بھٹو صاحب بولے کہ یہ انتہائی مطلوب لوگ ہیں میں ان کو الٹکا لٹکا دوں گا۔ بھٹو صاحب ابھی پاکستان نہیں پہنچے تھے کہ سب کی سیاسی پناہ کنفرم ہو گئی۔ بھٹو صاحب نے اپنی بدنامی کروا لی مگر اپنے وطن کے بیروزگاروں کو روزگار اور عیش کی زندگی کے لیے الزام لے لیا۔ مگر آج وزیراعظم اپنے آپ کو زم زم نہایا اور قوم کو مافیا بتا رہے ہیں۔

پنجاب کے ایک دورے پر پنجاب کابینہ سے فرداً فرداً ملاقات کے دوران بھٹو صاحب نے گوجرانوالہ سے ایک وزیر کو مخاطب کر کے غصے سے کہا:

پاکستان کیا تمہارے باپ کا ہے؟ اس نے فوراً جواب دیا نہیں سر، بھٹو صاحب بولے کیوں لوٹ رہے ہو کہتے ہیں کہ وزیر صاحب نے نیت تھی بھی تو ختم کر دی۔

ضیاء الحق کے دور میں لاکھوں لوگ قید ہوئے ہزاروں سزا پائے۔ مگر کوئی بدعنوانی کا ملزم نہ تھا۔ سب سیاسی قیدی تھے۔ آج سیاسی قیدی بدعنوانی کے الزام کے ساتھ ہیں۔

25 جولائی کے اخبار میں شہ سرخی تھی آج کا انتخاب دو پارٹیوں کی ملی بھگت تھی۔ اپوزیشن کا بیانیہ تھا تاریخ کا سب سے بڑا متنازع الیکشن تھا۔ دونوں ہی سچ کہتے ہیں اولاذکر تو پی ٹی آئی تھی دوسری پارٹی سب جانتے ہیں۔ 25جولائی 2018ء کو ہی میرا کالم تھا 5 جولائی سے 25 جولائی تک دراصل یہ 5 جولائی کا انتخابات کے ذریعے تسلسل تھا۔ نیب کا جس طرح استعمال کیا گیا، احتساب کو انتقام بنایا گیا کرپشن اقربا پروری دوست نوازیاں وطن عزیز کا مقدر ٹھہریں الامان الحفیظ ۔ اینٹی کرپشن کا محکمہ بنا کرپشن بڑھ گئی، اینٹی سمگلنگ نے سمگلنگ بڑھا دی۔ کسٹم انٹیلی جنس نے کرپشن عروج کو پہنچائی۔ ایف آئی اے بنی کہ وفاقی اداروں سے بے ضابطی اور کرپشن کو روکے اس نے تمام وفاقی ادارے اپنی چراہ گاہ بنا لیے۔ جناب بھٹو صاحب نے پولیٹیکل ونگ بنایا جس کے مقاصد (احساس ادارے کتاب) بریگیڈیئر سید احمد ارشاد ترمذی لکھتے ہیں: ملکی سیاست میں دشمن کے بلاواسطہ یا براہ راست ملوث ہونے پر نظر رکھنا مگر جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔

ضیاء کے دور میں جناب معراج محمد خان اور جناب پرویز صالح کی میری دعوت پر گوجرانوالہ بار آمد پر زاہد حسن خان (ہیرو) جلوس اور تقریب میں خوب ترنم سے گا رہے تھے ظلم رہے اور امن بھی ہو، آہ! کئی دہائیاں گزر گئیں آج سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی فیصلہ لکھ دیا:

ظلم رہے اور امن بھی ہو

کیا ممکن ہے تم ہی کہو


ای پیپر