محکمہ تعلیم اور کرپشن کہانی
27 جولائی 2020 (20:07) 2020-07-27

۲۵ جو لائی وہ تاریخ ساز دن ہے جب موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی بائیس سالہ جدوجہد کامیاب ہوئی اور یوں تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی بن کر 2018ء میں حکومت بنانے میں کامیاب ٹھہری۔یہ بائیس سال عمران خان ہر دورِ حکومت میں اپوزیشن میں رہے،ہر دور میں پاکستان کی کرپشن کہانی سناتے رہے،بائیس سال قوم سے انصاف اور کرپشن کے خاتمے کے وعدے کرتے رہے اور قوم کو ایک ایسے پاکستان کا خواب دکھایا تھا جو ریاستِ مدینہ کی طرز پر ہوگا اور جس میں کسی بھی طرح کی امیر کو غریب پر فوقیت نہیں ہوگی بلکہ اس قوم کو سب سے بنیادی درس جو عمران خان کو دیتے رہے وہ کرپشن کے خاتمے اور مساوات کا تھا۔آج عمران خان کی وزارتِ عظمی کے دو سال پورے ہوگئے ،یعنی یوں کہہ لیںانصاف کا بول بالا کرنے اورکرپشن کے خاتمے کے لیے بننے والی حکومت کو دو سال بیت گئے اور آج جب میرے جیسا ایک عام صحافی اور باشعور پاکستانی پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو صرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے لیکن اس کے باجود ہم سب جمہوریت کی بقا کے لیے موجودہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔گزشتہ نون لیگی دورِ حکومت میں جب نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جاتا رہا تو اس وقت بھی ہم یہی کہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح حکومت پانچ سال مکمل کرے تاکہ اس کے پاس کوئی دوسرا بہانہ نہ ہو۔حکومت کو اپنا وقت پورا کرنا چاہیے لیکن اس کی خامیوں اور خوبیوں کا محاسبہ ہوتا رہنا چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ میں نے اس حکومت کی درجنوں خوبیوں پر بھی مسلسل لکھا کیونکہ کبھی بھی حقائق کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ میںہر دور میں درباری یا لفافہ صحافی کے الزام برداشت کرتا رہا اور آج تک کرتا آرہا ہوں مگر میں آج بڑی ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ہمیشہ جو سچ دیکھا یا پڑھا ،وہی لکھا۔یہی وجہ ہے کہ آج جب پنجاب

حکومت کی کرپشن کی داستان پڑھی اور میڈیا پر چلتی دیکھی تو اس پر تحقیق کی اور آج کالم لکھ دیا۔

حال ہی میں سرکاری سکولوں کے لیے کتابوں کی خریداری میں کئی طرح کے گھپلے ہوئے،من پسند پبلشرز کو نوازا گیا،من پسند اداروں کی کتابیں منظور کروائی گئیں اور ایک ہی ادارے کے کئی ذیلی ادارے راتوں رات امیرکرنے کی کوششیں کی گئیں ۔باقی اردو بازار کے پبلشرز سراپا احتجاج بنے کبھی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس کا دروازہ بجا رہے ہیں تو کبھی وزیر اعلیٰ پنجاب کا۔مراد راس سے کئی ٹی وی چینلز نے اس موضوع پر موقف جاننے کی کوشش کی مگر ہمیشہ کی طرح مراد راس نے چند صحافیوں کے علاوہ کسی کو جواب دینا پسند نہیں فرمایا،نہ کسی کا فون رسیو کرتے ہیں اور نہ کسی سکینڈل کا جواب۔اس سے قبل راقم نے PEEFپر کئی قسط وار کالم لکھے اور مراد راس سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی مگر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔جس دن سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے، تعلیم میں کسی بھی طرح کا کوئی بہتر کام اگر ہوا ہے تو نظر نہیں آیا۔دو سال سے پیف کے تحت چلنے والے ہزاروں سکولوں کے لاکھوں اساتذہ ذاروقطار رہے ہیں جن کی تنخواہیں روکی گئیں،اداروں کے فنڈز روک لیے گئے اور آج پبلشرز کے ساتھ ناانصافی کی کہانی بھی میڈیا میں پہنچ گئی۔ محکمہ سکولز اور پی ایم آئی یو نے ملی بھگت سے اپنے ہی پارٹنر کو خریداری کے لیے منتخب کر لیا۔ویڈیو پروڈکشن کمپنی کو کتابوں اور سکولز کے انتخاب کے لیے بطور کنسلٹنسی فرم ٹینڈر دے دیا گیا۔2016ء میں قائم کی جانے والی مذکورہ پراڈکشن کمپنی کوارکس کو کتابیں منتخب کرنے کا ٹھیکہ ملا تو اس کمپنی نے اپنے ہی پارٹنر بک سیلر پیرا مائو نٹ کی دس کروڑمالیت سے زیادہ کی انگریزی کتب منظور کروا لیں۔ کتابیں منتخب کرنے کے لیے پبلشرز سے فہرستیں تک طلب نہیں کی گئیں اور اپنی مرضی کے چند اداروں سے سارے معاملات طے کر لیے گئے۔اس حوالے سے تاحال پنجاب حکومت کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا بلکہ مراد راس تو ہمیشہ کی طرح جواب دینے سے بھی گریزاں ہیں۔اگر پبلشرز کی طرف سے لگائے جانے والے یہی الزام درست ہیں تو پنجاب حکومت کو میڈیا پہ آ کے جواب دینا چاہیے ورنہ تو بزدار صاحب کی پنجاب میں بادشاہت سے کوئی کتنا مطمئن ہے یہ عمران خان خود بھی جانتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ برطانوی کمپنی ڈیفیڈ نے جو تین کروڑ پچاس لاکھ پائونڈ سرکاری سکولز میں لائبریری کتب کے لیے بھجوائے تھے ،ان سے کتنی کتابیں خریدی گئیں؟کن اداروں کو نوازا گیا؟کتنے پبلشرز سے فہرستیں منگوائی گئیں اور کس کے کہنے پر چند اداروں کو یہ کام سونپا گیا سب کی تحقیق ہونی چاہیے اور یہ ٹینڈر منسوخ کر کے دوبارہ میرٹ پر کتب کا انتخاب ہونا چاہیے جس میں من پسند داروں کی بجائے اردو بازار کے تمام اداروں کوبنیادی حق ملنا چاہیے۔ کیونکہ پنجاب حکومت کی مجموعہ کارکردگی (بالخصوص ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) دو سال سے تنقید کا نشانہ بنتی آ رہی ہے اور اگر مزید ایسے کام جاری رہے تو شاید عمران خان کے ہاتھ سے پنجاب نکل جائے(جیسا کہ صاف نظر آ رہا ہے)۔ایک مہینے میں بزادار سرکار کی عمران خان سے تیسری ملاقات کوئی اچھا شگون تو نہیں ہے اور بزدار صاحب خود بھی پریشان نظر آ رہے ہیں۔پنجاب میں آئے روز کسی نہ کسی ڈیپارٹمنٹ کی کرپشن کہانی سامنے آ رہی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزادر سے پنجاب بالکل نہیں سنبھالا جا رہا۔پنجاب پاکستان کا دل ہے اور اگراس کے ساتھ ایسا ہی ظلم ہوتا رہا ہے سمجھ جائیں کہ حکومت اپنا وقت پورا نہیں کر پائے گی۔بائیس سال اس قوم کو جو لالی پاپ دیا جاتا رہا اور جس کرپشن کی وجہ سے شریفوں اور زرداریوںکو زیر حراست کیا گیا۔کیا وہ کرپشن اب بھی ویسے ہی رہے گی یا اس کا کبھی خاتمہ ہوگا ؟۔یہ وہ بنیادی سوال ہے جو عمران خان سے مسلسل کیا جا رہا ہے کہ آپ نے ہمیں جس نئے پاکستان کا خواب دکھایا تھا وہ پورا ہوتا نظر نہیں آرہا لہٰذا مہربانی فرما کر اب ہمیں ہمارا پرانا پاکستان واپس لوٹا دیں۔


ای پیپر