اندھیر نگری یا ریاست
27 جولائی 2020 (20:07) 2020-07-27

پاکستان میں ہر حساس اورذی شعور شخص باغی کیوں ہوتا جارہا ہے یہ ایک ایسا سوال ہے جس نے ریاست کے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگادیا ہے عوام ریاستی سیاسی معاملات سے کنارہ کشی کرنے پر مجبور ،بیوروکریسی سے اکتاہٹ کا اظہار اور عدلیہ کے خلاف کون اور کیوں انکو اکسارہا ہے لیکن پھر ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ پاکستان میں ایسی کوئی سیاسی جماعت بھی نہیں جو عوام تو درکنار اپنے کارکنوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے کسی قسم کے عملی اقدامات کررہی ہو ۔اس کے باوجود لوگوں کے اندر بغاوت کا مادہ پیدا ہونا شاید اداروں کے اپنے منفی رویوں کی بدولت ہی ہے دراصل کوئی سیاسی جماعت اپنے کسی نظریاتی کارکن کو اپنا کارکن ہی نہیں مانتی ، تھانے مارکیٹوں کا روپ دھار چکے ہیں ،محافظوں نے قاتلوں کی جگہ لے لی ہے ، عدالتیں جھوٹ کو جرم نہیں گردانتیں، بیوروکریسی افسر شاہی اپنی چوہدراہٹ اور اپنا تسلط قائم رکھنے کیلئے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑا کر لوٹ مار میں مصروف ہیں ۔ڈی سی او کسی ڈی پی او کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتا ، ڈی پی او کسی ڈی سی او کے غیر قانونی اقدامات کی نشاندہی نہیں کرنا ، سیشن ججز ڈسی سی او اور ڈی پی او کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتے ، ڈی سی او یا ڈی پی او جتنے مرضی ضابطہ قانون کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرلیں ماتحت عدالتیں ان کو عدالت میں اصالتاً طلب کرنا تو دور ان کو نوٹس کرنا بھی معیوب خیال کرتی ہیں ۔ایسا کیوں ہے کیااقوام عالم کے مہذب معاشروں میں بھی ایسا ہوتا ہے ہرگز نہیں ، مہذب معاشروں میں قانون سب کو یکساں نظر سے دیکھتا ہے ۔قانون کسی کے گھر کی لونڈی نہیں ٹھہرتا جبکہ ہم خود کو مہذب معاشرہ میں شمار تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر اس سے کوسوں میل دور کھڑے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی ڈی سی او ، کوئی ڈی پی اویا اور کوئی اعلیٰ عہدوں پر فائز اعلیٰ افسران جھوٹ نہیں بولتے کیاان میں سے کوئی ضابطہ قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہوتا ، اگر کوئی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس پر کیوں کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا کیا کرپشن کرنا ضابطہ قانون ماننے سے انکاری اور اختیارات سے تجاوز غیر قانونی فعل کے زمرہ میں نہیں آتے اگر آتے ہیں تو ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی عمل میں کیوں نہیں لائی جاسکتی ۔ اگر یہ سبھی لوگ دیانتدار اور سچے ہیں تو جھوٹ کون بولتا ہے ، کرپشن کون کرتا ہے ، قانون کا غلط استعمال کون کرتا ہے ، اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ پاکستان میں کوئی جھوٹ نہیں بولتا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آج تک یہ دیکھنے یا سننے میں نہیں آیا کہ پاکستان میں کسی عدالت نے کسی سرکاری ملازم کو عدالت میں جھوٹ بولنے پر یا عدالت میں جھوٹی رپورٹ داخل کرنے پر سزا دی ہو ۔جہاں اس طرح کی صورتحال ہو تو وہاں ریاست ترقی کرستی ہے ،کیا اس ریاست کے ادارے فعال رہ سکتے ہیں ،غریب عوام 73سالوں سے مہنگائی، بیروزگاری اور لاقانونیت کی چکی کے دو پاٹوں میں پستے آرہے ہیں ان کی شنوائی بھی کبھی ہوگی یا وہ چکی کے ان دوپاٹوں میں پستے پستے موت کی وادی میں چلے جائیں گے ۔ قانون اور ریاستی اداروں کی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 سے چلی آرہی ہے ۔ دفعہ 154 کی تعریف یہ ہے کہ جب بھی کوئی شہری زبانی یا تحریری کسی وقوعہ کے سرزد ہونے کی بابت اطلاع دے تو پولیس تھانہ انچارج فی الفور بلاتاخیر اسے ضابطہ تحریر میں لائے لیکن ہوتا کیا ہے کہ رشوت لیے بغیر کسی کی بات ہی نہیں سنی جاتی ۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے اندراج مقدمہ کو یقینی بنانے کیلئے ضابطہ فوجداری دفعہ 25کے تحت Ex Officio بربنائے اختیارات 22A/22B دیکر تمام سیشن جج صاحبان اور ایڈیشنل سیشن جج صاحبان کو اپنے ضلع اور علاقہ میں جسٹس آف پیس بنا دیا گیا جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ پولیس انچارج تھانہ شہریوں کے اندراج مقدمہ میں جو غیر قانونی فعل سرانجام دے رہا ہے اس کی بیخ کنی کی جاسکے مگر اب ہوکیا رہاہے جب کوئی شہری جسٹس آف پیس کے سامنے پیش ہوکر درخواست اندراج مقدمہ کی بابت گزارتا ہے کہ فلاں تھانے کی حدود میں میرے ساتھ یہ وقوعہ پیش آیا ہے ،پولیس تھانہ انچارج ضابطہ قانون کی خلاف ورزی کی دھجیاں اڑاتے ہوئے میرا بیان ریکارڈ کرنے سے انکاری ہے تو جسٹس آف پیس انچارج تھانہ کو بلا کر استفسار کرے کہ تم نے درخواست گزار کا مقدمہ درج کیوں نہیں کیا ۔ اب خلاف قانون ہویہ رہا ہے کہ انچارج تھانہ ہر درخواست میں جھوٹی رپورٹ داخل کردیتا ہے کہ جناب درخواست گزار تو میرے پاس تھانہ آیا ہی نہیں ۔المیہ یہ ہے کہ درخواست گزار کے ثابت کرنے کے باوجود عدالتیں انچارج تھانہ ،ڈی ایس پی یا ڈی پی او کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لاتیں شاید عدالتوں کے نزدیک جھوٹ بولنا کوئی جرم نہیں رہا ۔ حالانکہ انگریز دور میں عدالت میں اگر کوئی سرکاری ملازم جھوٹ بولتا تھا تو دفعہ 476 ضابطہ فوجداری کے تحت اسے جھوٹ کی سزادیتے تھے اور اگر کوئی جج ایسا نہیں کرتا تھا تو باقاعدہ اس کی باز پرس ہوتی تھی اب تو یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ ماتحت عدالتوں کے ججز صاحبان اپنی سیٹ پر بیٹھے کیس کی سماعت کررہے ہوتے ہیں اور ان کی دائیں جانب بیٹھا ریڈر اور بائیں جانب اسٹینو گرافر سائلوں سے نذرانے لیکرٹیبل کی درازوں میں رکھ رہے ہوتے ہیں عجیب بات یہ ہے کہ کمرہ عدالت میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہونے کے باوجود ان کیمروں میں نذرانوں کی فوٹیج نظر نہیں آتی یا کوئی دیکھنا گوارہ نہیں کرتا ۔ یہ اندھیر نگری ہے یا ریاست اس کا اب فیصلہ ہوجانا چاہیے ۔لیکن دوسرا پہلو ایک یہ بھی ہے کہ اس اندھیر نگری کے باوجود ماتحت عدلیہ میں قانون کی بالا دستی کے لیے کام کرنے والے شہباز احمد کھگھہ اور عدیل انور ہنجرا جیسے انمول موتی امید کی ڈھارس کو دم توڑنے نہیں دیتے۔


ای پیپر