یہ جو سونے کے نوالوں کا دلاتا ہے یقین
27 جولائی 2020 (20:06) 2020-07-27

ایک سکھ معاشی حالات سے تنگ آ کر کسی دوسرے ملک چلا گیا۔ سردار جی نے وہاں جی لگا کر محنت کی اور خاصی جمع پونجی کی۔ چند سالوں کے بعد سردار جی کو وطن کی یاد ستانے لگی اور گھر کے دیگر افراد کے ساتھ ساتھ دوست احباب بھی شدت سے یاد آنے لگے۔ سردار کو یاد آیا کہ اس کی ایک عدد منگیتر بھی تھی۔ جب سردار کو منگیتر کی یاد آئی تو اس نے وطن واپس جانے کا ارادہ باندھ لیا۔ وطن لوٹنے سے پہلے سردار کو خیال آیا کہ اتنے سالوں کے بعد وطن واپس جا رہا ہوں کیوں نہ عزیز و اقارب کے لیے کوئی نہ کوئی تحفے تحائف خرید لیے جائیں۔ سردار جی نے اپنے عزیز اور دوست کے لیے کوئی نہ کوئی چیز خرید لی۔ جب منگیتر کی باری آئی تو سردار سوچ میں پڑھ گیا کہ اس کے لیے کیا خریدا جائے؟ کافی سوچ و بچار کے بعد سردار نے دکاندار سے مشورہ کیا کہ میں اپنی منگیتر کے لیے کوئی اچھا سا تحفہ خریدنا چاہتا ہوں۔ آپ مجھے مشورہ عنایت کریں۔ دکاندار نے جھٹ کہا کہ میرے پاس لیڈیز گھڑیاں ہیں۔ ان گھڑیوں کی واحد خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اندھیرے میں بھی روشنی دے کر وقت دیکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہیں۔ سردار نے فوراً گھڑی خرید لی اور سازو سامان سمیت اپنے آبائی گاؤں پہنچ گیا۔ سردار کی اچانک آمد پر پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دور گئی۔ چند دن سردار کی خوب دعوتیں ہوئیں۔ دوست احباب کی رونقین دوبالا ہوئیں جو لوگ سردار کے حلقہ احباب میں نہ تھے (سیاسی طور پر جو پی پی پی، نون لیگ، ق لیگ، ایم کیو ایم سے تھے) وہ سردار کے حلقہ احبا ب میں جوق در جوق آنے لگے۔ ایک دن سردار کو یاد آیا کہ وہ اپنی منگیتر کے لیے گھڑی لایا تھا وہ تو ویسی کی ویسی پڑی ہوئی ہے۔ سردار نے گھڑی لی اور موقع پا کر منگیتر کے گھر چلا گیا۔ اتفاق سے منگیتر گھر میں اکیلی تھی وہ سردار کو دیکھ کر شرما گئی۔

سردار بولا بھلیے لوکے شرما نہ میں تیرے لیے گھڑی لایا ہوں۔ اندر آ تجھے دکھاؤں۔ سردار جھٹ سے کمرے میں داخل ہو گیا۔ چاروناچار سردار کی منگیتر بھی سردار کے پیچھے ہو لی کمرے میں جا کر سردار نے اپنی منگیتر سے کہا کہ دروازہ بند کر دو۔ سردار کی منگیتر ایک دم گھبرا گئی۔ مگر سردار کے اعتماد دینے پر اس نے دروازہ بند کر دیا۔ اتفاق سے کمرے کی کھڑکی کھلی تھی۔ سردار نے منگیتر سے کھڑکی بند کرنے کو کہا۔ یہ سنتے ہی سردار کی منگیتر پسینے میں شرابور ہو گئی مگر سردار کی بات مانتے ہوئے اس نے کھڑکی بھی بند کر دی۔ اتفاق سے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی۔ سردار کی نظر جب لائٹ پر پڑی تو اس نے اپنی منگیتر سے کہا یہ لائٹ بھی آف کر دو۔ لائٹ آف کرنے کا سن کر سردار کی منگیتر بے ہوش ہونے کے قریب ہو گئی مگر سردار جی کے اصرار پر اس نے لائٹ آف کر دی۔ لائٹ نے آف ہوتے ہی کمرہ گھپ اندھیرے میں نہا گیا۔ جب کمرے میں اندھیرا ہو گیا توسردار نے گھڑی نکال کر اس کے سائیڈ والے بٹن کو دبا کر اپنے منگیتر سے کہا ’’ادر ویکھ اے جگدی او۔ (ادھر دیکھیں یہ روشنی بھی دیتی ہے)۔

25 جولائی 2018ء کے الیکشن میں عوام نے ایک ن ئی امید،ا یک نئی آس ، ایک نئے سیاسی سورج کی کرن کو خود طلوع کیا تھا۔ اس کے پیچھے عمران خان کے نعرے، عمران خان کی غریب عوام کی حالت پر حیرت زدگی، مہنگائی، لاقانونیت، کرپشن،ا داروں کی تباہی، غیر ملکی قرضہ جات اور سابق حکومتوں کی من مانیوں کی کہانیوں کے خلاف جنگ تھی۔ یہ تمام نعرے اور عمران کی انقلابی سوچ دراصل عوام کے دل کی آواز تھی اور عوام عمران خان کو اپنا نباض سمجھ کر اپنا تن من دھن عمران کے پلڑے میں ڈال چکے تھے کہ زندگی کے باقی دن سکون سے گزر جائیں گے اور نسل نوکا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہو گا اور ملک عزیز کسی بہتر ڈگر کی جانب چل پڑے گا۔ مگر آس اور امید مٹھی سے اس طرح نکل گئی جیسے ریت ایک پل میں نکل جاتی ہے۔ دو سال کے اندر ادویات کی قیمتوں میں سو گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اشیائے خورو نوش عوام کی پہنچ سے کوسوں دور ہوتی جا رہی ہیں۔ ادارے پہلے کی نسبت زیادہ مخدوش حالت میں ہیں۔ مالی کرپشن شدت اختیار کر گئی ہے۔ لا اینڈ آرڈر کی صورت حال اپنی من مانی پر آ گئی ہے اور شہری کا اپنا آئین اور قانون وجود میں آ گیا ہے۔ متوسط طبقہ نچلے طبقے کی جگہ لے چکا ہے اور نچلا طبقہ فاقوں کی صورت اختیار کرنے کے قریب قریب ہے۔

جناب وزیراعظم صاحب! مانا کہ عوام بے وقوف ہے، جاہل ہے، اجڈ ہے… ٹرک کی بتی کے پیچھے پیچھے چلنے پرآمادہ ہو جاتی ہے۔ اس کی اپنی کوئی سوچ اور فکر نہیں ہے مگر حکمرانوں اور لیڈروں کا اتنا تو حق ہے کہ ان کی زندگیوں کا خیال کر لیں۔ انہیں بند کمرے میں لے جا کر دروازہ ، کھڑکی اور لائٹ بند کر کے یہ نہ دکھائیں کہ ’’دیکھو اے جگدی اے‘‘ ۔ یہ نہ کہیں کہ سابق حکومتوں نے ملک کو چاٹ لیا ہے… یہ نہ کہیں کہ آئی ایم ایف ہمارے سر پر کھڑا ہے… اس میں عوام کا قصور نہیں ہے۔ عوام کو ریلیف دیں ان کے معیار زندگی کو بلند کریں۔ ان کے لیے گندم ، آٹا، چاول، گھی ، چینی اور ادویات سستی کریں۔ ان کو زندگی کی گھڑی کی روشنی مہنگائی کے اندھرے میں نہ دکھائیں۔ عوام کے لیے آسائشوں کے چراغ جلائیں۔ خوشی کے دیے روشن کریں۔ اگر ان کی روٹی کا نوالہ چھن گیا تو تاریخ آپ کو پروفیسر رضا اللہ حیدر کے اس شعر کے حوالے سے ہمیشہ محفوظ کر لے گی:

یہ جو سونے کے نوالوں کا دلاتا تھا یقین

دیکھنا تان جویں چھین کے لے جائے گا


ای پیپر