نیب رے نیب تیری کونسی کل سیدھی …!
27 جولائی 2020 (20:05) 2020-07-27

حالیہ برسوں خاص طور پر گذشتہ کچھ مہینوں کے دوران جس ریاستی ادارے کو پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سمیت مختلف قومی حلقوں بالخصوص اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اُس کے بارے میں بہت کچھ لکھا، کہا، سنایا اور بتایا گیا ہے بلا شبہ وہ نیب NAB کا ادارہ ہے۔ نیب کی کارکردگی پر ہی سوال نہیں اُٹھائے جا رہے ہیں اس کے جانبدارانہ رویے اور نیب قوانین کے امتیازی استعمال اور نیب کے زیرِ حراست افراد کو اذیت کا نشانہ بنانے کے حوالے سے بھی اس پر سخت تنقید کی جاتی رہی ہے۔ سچی بات ہے کہ اس سب کے باوجود نیب کے اندازِ فکرو عمل اور طور طریقوں میں کچھ بھی تبدیلی نہیں آئی ۔ کوئی اور ادارہ ہوتا تو شاید اس حد تک ڈھٹائی کے ساتھ اپنے طور طریقوں پر قائم نہ رہتا ۔ وہ لازمی طور پر ثقہ اور سنجیدہ حلقوں بالخصوص اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے کی جانے والی تنقید ، اعتراضات، تحفظات اور سوالات کو اہمیت دیتے ہوئے اپنے طور طریقوں میں ہی تبدیلی لانے کی کوشش نہ کرتا بلکہ اپنی کارکردگی کو بھی بہتر بناتا ۔ لیکن جہاں صورتحال یہ ہو کہ نیب کے چیئرمین جو سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہیں اُن کے ذاتی کردار کے حوالے سے ایک قابلِ اعتراض ویڈیو سامنے آئی ہو اور اس کے باجود ان کے کانوں پر جُوں تک نہ رینگی ہو اور نہ ہی اُن کے پارسائی اور پاک دامنی کے دعوئوں میں کمی آئی ہو تو پھر کیسے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ ادارہ جس پر وہ کامل اختیار رکھتے ہیں اور جو اُن کی ہدایات اور بلند بانگ دعوئوں کے مطابق چل رہا ہے ، اُس کے طریقہ کار اور اُس کی بنیادی سوچ میں کچھ تبدیلی آ سکتی ہے۔

جنابِ چیئرمین نیب کا عرصے سے یہ وطیرہ یا طریقہ کار چلا آ رہا ہے کہ وہ ہر ہفتے نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس طلب کرتے ہیں اور اس میں نئے مقدمات قائم کرنے ، انکوائیریوں اور تفتیش وغیرہ کے جہاں کچھ فیصلے کرتے ہیں وہاں کچھ بلند بانگ دعوے اور نعرے بھی ضرور بلند کرتے ہیں۔ نئے مقدمات قائم کرنے یا انکوائیریاں اور تفتیش وغیرہ کے فیصلے کرنے پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن اتنا ضرور دیکھا جانا چاہیے کہ یہ جو مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں یا انکوائیریوں اور تفتیش وغیرہ کے جو ڈول ڈالے جاتے ہیں ان میں حقیقت کتنی ہے؟ کتنا کچھ کسی کے خلاف مواد موجود ہے ؟ اور کون کتنا قصور وار یا مجرم ہے؟ یہ محض کسی کے بازو مروڑنے یا نیب قوانین کے امتیازی استعمال یا کسی کو اذیت کا نشانہ بنانے کے لیے تو نہیں کیا جارہا۔ یہ خواجہ برادران خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے کیس کا چربہ یا اُس کی مثال تو نہیں ہے۔ جس کے بارے میں

سپریم کورٹ کے دو رُکنی فاضل بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ نیب کی بدنامی ملکی سرحدیں عبور کر چکی۔ نیب قانون ملک میں بہتری کی بجائے مخالفین کا بازو مروڑنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ امتیازی رویے کے باعث نیب کا اپنا امیج متاثر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی غیر جانبداری سے عوام کا اعتماد اُٹھ گیا ۔ نیب سیاسی لائن کے ایک طرف کرپشن الزامات والوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھاتا تو دوسری جانب گرفتاریوں اور اذیت کا نشانہ بناتا ہے۔ نیب قانون کہتا ہے تفتیش جلد مکمل کی جائے مگر سالوں گزرنے کے باوجود فیصلے نہیں ہوتے۔ ریاستی ادارہ خواہ کتنا طاقتور کیوں نہ ہو شہریوں کے حقوق کم نہیں کر سکتا ۔ ضمانت کا مقصد ملزم کی ٹرائل میں حاضری کو یقینی بنانا ہے ، مقصد سزا دینا، جیل بھیجنا یا آزادی سے محروم کرنا نہیں۔ خواجہ برادران کے خلاف کیس انسانیت کی تذلیل کی بد ترین مثال ہے۔

خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے خلاف پیرا گون سٹی کیس میں ضمانت کی منظوری کے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے یہ اہم نکات ہیں جو ایک قومی معاصر (روزنامہ نئی بات) میں شہ سُر خیوں اور ذیلی سُر خیوں کی صورت میں چھپے ہیں۔ سپریم کورٹ کے دو رُکنی بینچ کے رُکن جناب جسٹس مقبول باقر نے اپنے تحریر کردہ فیصلے میں مزید کہا ہے کہ خواجہ برادران کے خلاف پیراگون مقدمہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر قانونی طور پر آزادی سلب کرنے کی بڑی مثال ہے۔ نیب نے اس مقدمے میں قانون کی کھلے عام خلاف ورزی کی ۔ قانون اور آئین کا جائزہ لینے کے باوجود یہ راز میں ہے کہ یہ مقدمہ کیسے بنایا گیا۔

خواجہ بردران ضمانت کیس کے تفصیلی فیصلے میں نیب کے حوالے سے اور کئی پہلوئوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے لیکن طوالت سے بچنے کے لیے یہ ذکر یہیں پر ختم کرتے ہیں۔ تاہم میڈیا کی ایک دو نہایت اہم ، ثقہ اور مستند رائے کی حامل شخصیات کی اپنے کالموں میں اس بارے میں پیش کی گئی رائے کا حوالہ دینا کچھ ایسا بے جا نہیں ہو گا۔ سینئیر تجزیہ کار ، صحافی اور ایڈیٹر جناب مجیب الرحمن شامی ’’صرف بھارتی جاسوس کے لیے ‘‘ کے عنوان سے ایک قومی معاصر میں اتوار کو چھپنے والے اپنے کالم میں رقم طراز ہیں ۔ ’’سپریم کورٹ کے دو رُکنی بینچ نے پاکستان میں جاری احتساب کے عمل اور نیب کی کارکردگی کے بارے میں 87 صفحات پر مشتمل جو فیصلہ جاری کیا ہے اس نے ایوانوں اور میدانوں میں ایسا ہنگامہ اُٹھا دیا ہے کہ جس کے اثرات سمیٹنے میں نہیں آ رہے ۔ جسٹس مقبول باقر کے تحریر کردہ اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے، قانون اور سیاست پر غیر جانبدارانہ نظر رکھنے والا ہر شخص فاضل بینچ کو خراجِ تحسین پیش کر رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس کے بعد اقتدار اور اختلاف کے بینچوں پر بیٹھنے والے اہلِ سیاست ہوش کے ناخن لیں گے اور ایک دوسرے کو زچ کرنے کی خواہش سے اُوپر اُٹھ کر قانون سازی کریں گے اور غیر جانبدارانہ احتساب کو ممکن بنانے کی سعی کریں گے۔‘‘

جناب مجیب الرحمن شامی آگے چل کر لکھتے ہیں’’سپریم کورٹ کا زیرِ بحث فیصلہ اگرچہ خواجہ سعد رفیق اور اُن کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت کی درخواستوں پر صادر ہوا ہے ، لیکن اس میں ہماری تاریخ اور سیاست کا وسیع تر تناظر میں جائزہ لیا گیا ہے۔ خواجہ برادران کو 16 ماہ قید میں گزارنا پڑے اور یوں اُنہیں کاروباری، سیاسی، نفسیاتی اور جذباتی طور پر ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دیا گیا۔ کسی بے گناہ شخص کو ایک سال تو کیا ایک دن بلکہ ایک لمحے کے لیے بھی آزادی سے محروم کر دینے کو کوئی تصور کسی معاشرے میں موجود نہیں ہے۔ پاکستان میں نہ تو شخصی بادشاہت ہے نہ آمریت اس کا نظام ایک باقاعدہ تحریر ی دستور کے تحت چلانے کا دعوی کیا جا رہا ہے جس میں شہریوں کے انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔۔۔۔۔۔خواجہ برادران کے معاملے میں قانون کو جس طرح نظر انداز کیا گیا ، کسی اختیار یا جواز کے بغیر ان کے خلاف جو ظالمانہ کاروائی کی گئی ، اس بارے میں اب کوئی دلیل لانے کی ضرورت نہیں، سب سے بڑی عدالت کے فیصلے کے الفاظ چیخ چیخ کر اس کا اعلان کر رہے ہیں ۔ اگر کسی اور ملک میں اس طرح کا فیصلہ صادر ہوا ہوتا تو وہاں کُشتوں کے پُشتے لگ جاتے ۔۔۔۔۔ اگر برطانیہ تو کیا نیوزی لینڈ یا آسٹریلیا میں ایسا ہوتا تو متعدد ذمہ دار اپنے عہدوں سے مستعفیٰ ہو چکے ہوتے، لیکن پاکستان میں کسی کے کان پر جُوں تک نہ رینگی۔‘‘

جناب شامی کے کالم کے یہ اقتباسات بذاتِ خود اتنے واضح اور چشم کُشا ہیں کہ ان پر مزید تبصرہ آرائی کی گنجائش نہیں تاہم چیئر مین نیب جناب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی طرف سے آئے روز کیے جانے والے اس بلند بانگ دعوے پر تبصرہ کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ وہ اکثر فرماتے ہیں کہ نیب نے اب تک اتنے سو ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں۔ وہ یہ وضاحت نہیں کرتے کہ یہ رقم اُن کے دور میں قومی خزانے میں جمع ہوئی ہے یا نیب کا ادارہ جب سے (21 سال قبل جنرل پرویز مشرف کے دور میں ) وجود میں آیا اُس وقت سے اب تک جمع کروائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ جناب چیئرمین کی یہ وضاحت بھی سامنے آ جائے کہ نیب کے ادارے پر سالانہ کتنا خرچ اُٹھتا ہے اور اپنے قیام سے لے کر اب تک اس پر کل کتنے اخراجات ہو چکے ہیں تو اس سے بھی بہتوں کا بھلا ہو گا۔


ای پیپر