با بو ئو ں کی چرا ہ گا ہ
27 جولائی 2020 (19:17) 2020-07-27

یہ ملک کیا ہے؟جب کبھی تجز یہ کر نے بیٹھتا ہو ں تو ایک ہی فیصلے پہ پہنچتا ہو ں کہ یہ ملک سفید پو ش با بوئوں کی چرا گا ہ ہے۔یہ سفیدپو ش با بواس ملک کو ا ب تک ا یک محتا ط اندا زے کے مطا بق کر پشن کی صو ر ت میں 300ارب ا مر یکی ڈا لر کا نقصا ن پہنچا چکے ہیں۔ ۔ سوا ل پیدا ہو تا ہے کہ آ یا ان لٹیرو ں کو کیا صر ف جیل کی ہوا لگوا نا کا فی ہو گا ؟ نہیں، ہر گز نہیں یہ ہر گز کا فی نہ ہو گا۔ بلکہ ضر و ر ت اس امر کی ہے کہ ان با بو ئو ں سے لو ٹے گئے 300ارب ڈ ا لر کی ایک ایک پا ئی و صو ل کی جا ئے۔ کیا کو ئی بتا ئے گا کہ پی آ ئی ا ے کا خسا ر ہ جو ا ب سے قر یباً دس بر س پہلے چا لیس ار ب روپے تھا وہ اب پا نچ سو ار ب روپے کیسے پہنچ گیا؟ کو ئی کیو ں تحقیق نہیں کر تا کہ ا س میں کو ن کو ن با بو ملو ث ہیں ؟ لکھنے کی ضر و رت پیش آ رہی ہے کہ یہ کہانی اس ملک کی ہے، جس کے با نی قائد اعظم محمد علیؒ جناح نے ایک جوڑا جرابوں کا اس لیے واپس کردیا تھا کہ وہ مہنگا تھا۔ سرکاری اجلاس میں چائے تک پینے کی ممانعت تھی۔ جب سیکرٹری نے چائے پیش کیے جانے کے بارے میں پوچھا تو الٹا آپ نے پوچھ لیا کہ کیا یہ لوگ اپنے گھر سے چائے پی کر نہیں آتے۔ ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو بیکری سے خریدی گئی ڈبل روٹی پہ دکھ ہوتا کہ ہم دو افراد کے لیے پوری ڈبل روٹی فضول خرچی ہے۔ گھر میں تہمد اور بنیان پہنے رکھنے والا حکیم الامت علامہ اقبال کیا بڑی بڑی جائیدادیں نہیں بناسکتے تھے؟ قائد ملت لیاقت علی خان تقسیم سے پہلے کے ہندوستان میں 300 گائوں کے مالک تھے۔ پاکستان بنا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خالی ہاتھ کراچی آباد ہوگئے۔ دہلی میں ذاتی حویلی پاکستانی سفارت خانے کو عطیہ کردی۔ جب لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید ہوئے تو پائوں میں پھٹی ہوئی جرابیں تھیں اور بینک بیلنس کل 47 ہزار روپے نکلا۔اسی ملک کے با بوئو ں نے لو ٹ ما ر کر کے فرا ر ہو نے کے طر یقے پہلے سے سو چ رکھے ہیں۔ چنا نچہ یہ دہر ی شہریت اختیا ر کیئے ہو ئے ہیں، مگر ظا ہر کر نے سے گر یز کر تے ہیں۔ انگریزافسران جنہوںنے ہندوستان میں ملازمت کی، جب واپس انگلینڈ جاتے تو انہیں وہاں پبلک پوسٹ/ ذمہ داری نہ دی جاتی۔ دلیل یہ تھی کہ تم نے ایک غلام قوم پر حکومت کی ہے جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں فرق آیا ہوگا۔ یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں دی جائے تو تم آزاد انگریز قوم کو بھی اسی طرح ڈیل کرو گے۔ اس مختصر تعارف کے ساتھ درج ذیل واقعہ پڑھیے۔

ایک انگریز خاتون جس کا شوہر برطانوی دور میں پاک و ہند میں سول سروس کا آفیسر تھا، خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے۔ واپسی پر اپنی یادداشتوں پر مبنی بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی۔ خاتون نے لکھا ہے کہ میرا شوہر جب ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اس وقت میرا بیٹا تقریباً چار سال کا اور بیٹی ایک سال کی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کو ملنے والی کئی ایکڑ پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھے۔ ڈی سی صاحب کے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر کئی سو افراد معمور تھے۔ روز

پارٹیاں ہوتیں، شکار کے پروگرام بنتے۔ ضلع کے بڑے بڑے زمیندار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر جانتے اور جس کے ہاں ہم چلے جاتے وہ اسے اپنی عزت افزائی سمجھتا۔ ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھے کہ برطانیہ میں ملکہ اور شاہی خاندان کوبھی مشکل سے ہی میسر تھے۔ ٹرین کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالی شان ڈبہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی فیملی کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ جب ہم ٹرین میں سوار ہوتے تو سفید لباس میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے آکر دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا اور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا۔ اجازت ملنے پر ہی ٹرین چلنا شروع ہوتی۔ ایک بار ایسا ہو اکہ ہم سفر کے لیے ٹرین میں بیٹھے تو روایت کے مطابق ڈرائیور نے حاضر ہوکر اجازت طلب کی۔ اس سے پہلے کہ میں بولتی میرا بیٹا بول اٹھا جس کا موڈ کسی وجہ سے خراب تھا۔ اس نے ڈرائیور سے کہا کہ ٹرین نہیں چلانی۔ ڈرائیور نے حکم بجالاتے ہوئے کہا جو حکم چھوٹے صاحب۔ کچھ دیر بعد صورتحال یہ تھی کہ اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہوکر میرے چار سالہ بیٹے سے درخواست کر رہا تھا، لیکن بیٹا ٹرین چلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوا۔ بالآخر بڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کے وعدے پر بیٹے سے ٹرین چلوانے کی اجازت دلوائی تو سفر کا آغاز ہوا۔چند ماہ بعد میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی۔ ہم بذریعہ بحری جہاز لندن پہنچے، ہماری منزل ویلز کی ایک کائونٹی تھی جس کے لیے ہم نے ٹرین کا سفر کرنا تھا۔ بیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک بینچ پر بٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلی گئی۔ قطار طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہوگئی جس پر بیٹے کا موڈ بہت خراب ہوگیا۔ جب ہم ٹرین میں بیٹھے تو عالی شان کمپائونڈ کے بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگا۔ وقت پر ٹرین نے وسل دے کر سفر شروع کیا تو بیٹے نے باقاعدہ چیخنا شروع کردیا۔ وہ زور زور سے کہہ تھا ’’یہ کیسا اُلو کا پٹھا ڈرائیور ہے، ہم سے اجازت لیے بغیر اس نے ٹرین چلانا شروع کردی۔ میں پاپا سے کہہ کر اسے جوتے لگوائوں گا۔‘‘ میرے لیے اسے سمجھانا مشکل ہوگیا کہ ’’یہ اس کے باپ کا ضلع نہیں ایک آزاد ملک ہے۔ یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجے کے سرکاری ملازم تو کیا وزیراعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو خوار کرسکے۔‘‘

آج یہ واضح ہے کہ ہم نے انگریز کو نکالا ضرور ہے البتہ غلامی کو دیس نکالا نہیں دے سکے۔ یہاں آج بھی کتنے ڈپٹی کمشنرز، ایس پیز، وزرا، مشیران اور سیاست دان او رجرنیل صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو گھنٹوں سڑکوں پر ذلیل و خوار کرتے ہیں۔ اس غلامی سے نجات کی واحد صورت یہی ہے کہ ہر طرح کے تعصبات اور عقیدتوں کو بالائے طاق رکھ کر ہر پروٹوکول لینے والے کی مخالفت کرنی چاہیے۔ ورنہ صرف 14 اگست کو

جھنڈے لگا کر اور موم بتیاں سلگا کر خود کو دھوکہ دے لیا کیجئے کہ ہم آزاد ہیں۔خرابی آخر ہے کہاں؟ مسئلہ افسران میں ہے یا نظام میں؟ اگر CSS کرنے والے اتنے قابل ہیں تو پاکستان کے ادارے تباہ حال کیوں ہیں؟ اور ٹی سی ایس میں ایک بھی CSS آفیسر کام نہیں کرتا لیکن ٹی سی ایس پاکستان پوسٹ سے زیادہ منافع میں کیوں ہے؟ آپ ریلوے کا حال دیکھ لیں؟ آپ پولیس کا حال دیکھ لیں؟ آپ پاکستان کے تمام بڑے کاروباری اور منافع بخش ادارے دیکھ لیں وہاں کوئی CSS افسر نہیں ہے۔ تمام کامیاب اور منافع بخش اداروں میں آپ کو پروفیشنل لوگ ملیں گے۔ اینکر گروپ، عارف حبیب گروپ، ڈی جی خان سیمنٹ سمیت تمام کامیاب ادارے پروفیشنل لوگ چلارہے ہیں۔ دنیا میں پروفیشنل لوگوں انجینئرز، ڈاکٹرز اور سائنسدانوں اور اساتذہ کی عزت ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ایک پروفیشنل ڈاکٹر اور انجینئر کے اوپر ڈپٹی کمشنر رعب جماتا ہے۔ جس کی قابلیت صرف انگریزی کا امتحان پاس کرنا ہے۔ اگر انگریزی کو سی ایس ایس سے نکالا جائے تو پاس کرنے والے ہزاروں امیدوار ہوں گے۔ عرب ممالک میں سی ایس یس جیسا امتحان نہیں ہوتا پر وہاں کے مضبوط اداروں کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ جاپان اور تائیوان کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں لیکن وہ ٹیکنالوجی میں دنیا سے آگے ہیں۔ پاکستان کو ترقی کے لیے سرکاری افسرشاہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز، سائنسدانوں اور انجینئرنگ پروفیشنلز کی ضرورت ہے۔


ای پیپر