ارب پتی پیرا شوٹرز اور اپوزیشن
27 جولائی 2020 (19:16) 2020-07-27

وزیر اعظم کے 15 معاونین خصوصی 5 مشیر (اب ما شاء اللہ 6 ہوگئے) 7 معاونین کی دہری شہریت، 2 کی رہائش بیرون ملک، پاکستان ’’ سیاسی دورے‘‘ پر آئے ہوئے ہیں۔ اکثریت در آمدی آئٹم امریکا، برطانیہ، کینیڈا سے بلائے گئے، آسمان سے اترے تھے کھجور میں اٹک گئے۔ سیاستدانوں نے سیکیورٹی رسک قرار دے دیا۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ تھی۔ حکومت کو شوق ستایا، روایتی دیانت داری نے جوش مارا، تمام مشیروں اور معاونین خصوصی کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اثاثے سامنے آئے تو لوگوں نے انگلیاں دانتوں تلے دبالیں، سارے کروڑ، ارب پتی، پتی تو پتی کئی کی پتنیاں (بیویاں) بھی ارب پتی۔ 100 تولے سونا ملکیت، کروڑوں کا بینک بیلنس، غریب کی بساط کیا۔ آج کے امیر بھی تصور نہیں کرسکتے۔ آمدن سے زیادہ اثاثوں والے سیاستدان بھی منہ دیکھتے رہ گئے۔ مگر نیب کی پہنچ سے دور، باہر جائیدایں، درجنوں کمپنیوں میں شیئرز، صادق اور امین کے دوست اس لیے سب کے سب صادق اور امین، کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، اٹھا کے دکھائے، درآمدی آئٹمز کی کیا ضرورت پڑی تھی۔ آل شریف اور آل زرداری کو صلواتیں سنانے کو کیا وزیر کافی نہیں تھے۔ اللہ نہ کرے زور بیان اور زیادہ، مراد سعید اکیلے ہی کافی تھے۔ خوامخواہ اتنے صادق اور امین بلا لیے۔ کسی نے کہا بیشتر وزیر ’’گوواں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں‘‘ پرانی جماعتوں پر تین حرف بھیج کر ہی یہاں تک پہنچے تھے۔ اس لیے گالم گلوچ میں روایتی شرم و حیا حائل ہوسکتی تھی۔ اس لیے ’’ہیرے‘‘ باہر سے منگوائے گئے۔ ایک سے ایک اعلیٰ کوالٹی کا ہیرا، سپر فنکار، گفتار کے غازی اور ریسرچر، اپنے ساتھ نواز شریف، شہباز شریف اور دیگر کی ’’کرپشن‘‘ کے پلندے لیتے آئے، پہلی بار پاپڑ والا، فالودے والا، چھابڑی والا اور دیگر والوں کے حوالے سے اربوں کی رقوم کی منی لانڈرنگ کے الزامات منظر عام پر آئے، نیب فوراً متوجہ ہوا۔ انکوائریز کی منظوری، ریفرنس تیار، گرفتاریاں، عدالتوں سے ضمانتوں کے لیے بھاگ دوڑ، ضمانتیں منظور لیکن داغ تو لگ گیا۔ دھلنے میں کئی سال لگیں گے۔ ضمانت ہوتے ہی نیب نے ہانک لگائی، ضمانت ہوئی ہے، بریت نہیں ہوئی، خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق (جو بقول ان کے Buy one get one) کے تحت گرفتار کیے گئے۔ چودہ پندرہ ماہ تنگ کھولی میں بند رکھے گئے۔ سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کی لیکن فاضل جسٹس مقبول باقر نے 87 صفحات پر مشتمل تاریخی فیصلہ لکھا اور سچ پوچھیے تو نیب کو اخلاقی اور قانونی جواز سے محروم کردیا سب کچھ درست مگر نیب موجود، مقاصد بھی پورے ہو رہے ہیں مائنس نیب فارمولا آسان نہیں، درآمدی آئٹمز کی بات چلی تھی، سارے جگری دوست، دوست نوازی نیازیوں کیروایت، دوستی نبھائی، کیا مضائقہ ہے، کم از کم ان سے تو نہیں پوچھا جاسکتا کہ ’’چناں کتھاں گزاری آئی زندگی‘‘ ارب پتی کیسے بن گئے؟ وہی جواب جو نواز شریف نے دیا تھاکہ ابا جان نے کمایا تمام بھائیوں کو حصہ ملا۔ یہیں تو کرپشن ہے۔ شفافیت ثابت نہیں کرسکے۔ سزا ہوگئی۔ اوپر کا دبائو اپنی جگہ جج برطرف مگر سزا برقرار، سب مشیروں کی کارستانی، معاونین کی معاونت، جب ہی تو خصوصی کہلائے۔ ایک آدھ کا درجہ تو وفاقی وزیر کے برابر

ہوگیا۔ ضرورت ایجاد کی ماں بلکہ مائی باپ، نیا پاکستان بنانا تھا کاریگر باہر سے درآمد کیے گئے آئین اور قانون آڑے نہ آتا تو پوری ٹیم ’’ولایتی‘‘ ہوتی۔ دیسی وزیر کسی کام کے نہیں، بار بار الٹی میٹم دینے پڑتے ہیں سارے گھسے پٹے پرانے حربوں کے رسیا، ٹیم ولایتی ہوتی تو دیسی لوگوں کے ناز نخرے، روز روز کی بلیک میلنگ، اتحادیوں کی دھمکیاں، الیکٹیبلز کی باتیں، گھاتیں برداشت نہ کرنی پڑتیں، وزیروں کی تو حالت یہ ہے کہ ’’وہ کیا کریں گے خطرہ فردا سے با خبر، اپنے ہی دائیں بائیں کی جن کو خبر نہیں۔‘‘ ولایتی ٹیم بیورو کریسی بھی اپنی مرضی کی لاتی دو سالوں میں اتنے بہت سے تبادلوں اور اکھاڑ پچھاڑ کی نوبت نہ آتی۔ ابھی تک مرضی کے بیورو کریٹ نہیں ملے۔ ہر ایک پر شک کہ نواز شریف کا عاشق اور شہباز شریف کا حامی نہ ہو، وزیر اعلیٰ کو چلانے کے لیے ایک بیورو کریٹ پر انحصار وہی آنکھ کا تارا دل کا سہارا ٹھہرا، سب سے بڑے صوبے میں ریکارڈ تبادلے۔ 3 چیف سیکرٹری 4 آئی جی پولیس، لاہور، ڈی جی خان کے کمشنر، 3 بار وزیر اطلاعات تبدیل۔14 محکموں کے سیکرٹریز کی تین سے 8 بار تبدیلی، بیورو کریسی سر پکڑے بیٹھی ہے۔ مہنگائی بے قابو معیشت کا بیڑا غرق، آٹے کی قیمتوں میں 94 فیصد اضافہ، چینی 84 روپے کلو سے 87 روپے ہوگئی۔ ادویات کی قیمتوں میں بھلمانسی سے 7 سے 10 فیصد اضافہ کی اجازت دی تھی۔ دوا سازوں نے 10, 20 فیصد اضافہ خود کرلیا۔ ایک صاحب نے بڑا تیر مارا ایک ارب پتی مشیر سے پوچھ لیا۔ ٹیکس کیوں نہیں دیتے۔ دہری شہریت کا اعتراف کرنے والے مشیر نے بڑے اطمینان سے جواب دیا دے دیں گے جلدی کیا ہے۔ ایک دو ماہ میں ادا کردیں گے۔ باقی پیرا شوٹرز اس مسئلہ پر خاموش، یہاں کے ہیں نہیں تو ٹیکس کیوں دیں، یہاں کے نہیں تو کہاں کے ہیں۔ جہاں کا حلف اٹھایا وہاں کے ہیں، محترم سراج الحق اور دیگر نے سیکیورٹی رسک قرار دیا، کابینہ اجلاسوں میں شریک نہیں ہوسکتے مگر ہوتے ہیں قومی اسمبلی میں نہیں آسکتے مگر آتے ہیں۔ اجلاسوں میں حساس معاملات پر بحث مباحثے، معاملات خراب نہ ہوجائیں۔ سراج الحق پریشان ہیں۔ پریشان نہ ہوں، سمجھدار لوگ ہیں شائد ایسا نہیں کریں گے، قانون اور آئین میں ولایتی اور درآمدی مشیروں پر کوئی پابندی نہیں اپوزیشن نے اخلاقیات کا مسئلہ اٹھا دیا۔ اخلاقیات کا آئین اور قانون سے کیا تعلق اپنی ذات کا مسئلہ ہے۔ بلکہ یوں کہیے کہ سیاست کا اخلاقیات سے کیا تعلق، بقول غالب’’ ہاں وہ نہیں خدا پرست جائو وہ بے وفا سہی، جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں‘‘۔ عوام کو تو آٹے دال سے فرصت نہیں، اپوزیشن نے پیرا شوٹرز پر سب سے زیادہ شور مچایا۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے حوصلے بڑھا دیے، بلاول بھٹو میدان عمل میں کود پڑے چومکھی لڑ رہے ہیں، سب سے رابطے نلیگ کے رہنما ’’چلمن‘‘ سے لگے بیٹھے ہیں۔ کھل کر سامنے آجائیں تو لیڈنگ رول ادا کرسکتے ہیں۔ مگر سارے کے سارے خوفزدہ نیب سے لرزاں، ترساں، عید بعد اے پی سی بلانے پر رضا مند، سب کا اتفاق، معاف کیجیے تین چار کا اتفاق، تین چار ہی متحد ہیں، چوہدری شجاعت آج کل نیب کے ریڈار پر آگئے ہیں۔ شاید اقتدار کو مٹی پائو، فارمولے کے تحت چھوڑ دیں اور اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھیں۔ فی الحال مشکل نظر آتا ہے۔ حکومت چلی جائے، کیسے چلی جائے کوئی فارمولا نہیں تحریک عدم اعتماد کا تجربہ ناکام، اپنے ہی لوگ جمپ کر کے ادھر چلے جاتے ہیں۔ عام انتخابات کرائے جائیں حکومت کیوں کرائے گی حکم دینے والوں سے ابھی تعلقات خراب نہیں ہوئے۔ عوام تنگ ہیں مگر اتنے بھی تنگ نہیں کہ سڑکوں پر آجائیں، سڑکوں پر آگئے تو مارشل لاء آجائے گا۔ اپوزیشن کو کیا ملے گا۔ تنکوں کی سرکشی ابھی سر چڑھ کر بولنے نہیں لگی کہ آگ دکھانے پر شعلے بھڑکنے لگیں، ان حالات میں اپوزیشن کی پٹاری میں تماشہ دکھانے کے لیے کیا ہے؟ اپوزیشن کے پاس عید بعد بھی کچھ نہیں ہوگا۔ 2014ء کے دھرنے جیسے حالات پیدا ہوں تو امپائر کی انگلی کا جواز بنے، اکیلا بلاول نہیں کرسکتا۔ احسن اقبال، رانا تنویر، شاہد خاقان عباسی یا رانا ثناء اللہ بھی وہ حالات پیدا کرنے پر قادر نہیں، لندن والا پھر سے صادق اور امین بن کر آجائے یا شہباز شریف کرونا اور نیب کے خوف سے بے نیاز مینار پاکستان پر پہنچ جائیں مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ، جرأت و حوصلہ ابھی تک اپوزیشن کے رہنمائوں میں اس درجے پر نہیں پہنچا جو لاہوریوں کو یہ کہنے پر مجبور کردے ’’اوئے ماجھے باہر نکلو نواز شریف کلا ہی سڑک تے آگیا جے‘‘ تحریکوں کے لیے مضبوط حوصلہ مند قیادت ضروری، اپوزیشن کے پاس لیڈروں کی کمی نہیں قائد کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ قائد کے آنے تک ولایتی ٹیم ہی اپنا کام کرتی رہے گی۔ جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے’’ سفر میں کچھ نہ کچھ تو بھول ان سے بھی ہوئی ہے، جو پیچھے تھے وہ اب آگے نکلتے جا رہے ہیں‘‘۔


ای پیپر